قومی اقلیتی کمیشن مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات کی روک تھام کر پائے گا؟

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو، کراچی
پاکستان
،تصویر کا کیپشن

پاکستان میں جبری طور پر اقلیتی برادری کی لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرنے واقعات سامنے آتے رہتے

عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والی شریمتی میگھواڑ 18 ماہ قبل لاپتہ ہوئیں اور بازیابی کے بعد حال ہی میں انھوں نے عدالت میں دیے گئے بیان میں انھوں نے اغوا کے بعد جبری طور پر اپنا مذہب تبدیل کروائے جانے اور جسم فروشی پر مجبور کیے جانے کے الزامات عائد کیے۔

عدالت نے اس حلفیہ بیان کے بعد شریمتی میگھواڑ کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا۔

سندھ کے ضلع ڈھرکی کی درگاہ بھرچونڈی کے گدی نشین کے بھائی میاں مٹھو کے علاوہ عمرکوٹ کے پیر ایوب سرہندی ایسے دوسرے گدی نشین ہیں جن پر ہندو لڑکیوں کے مذہب تبدیل کروانے کا الزام لگتا رہا ہے تاہم دونوں کا موقف رہا ہے کہ وہ مذہبی کی تبدیلی اور نکاح لڑکیوں کی مرضی سے کرتے ہیں۔

شریمتی کا معاملہ پاکستان میں پہلا واقعہ نہیں جب اغوا کی جانے والی لڑکی یا اس کے اہلخانہ کی جانب سے مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات لگائے گئے ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں ہندو، پنجاب میں مسیحی اور خیبرپختونخوا کی کیلاش کمیونٹی، جبری مذہب کی تبدیلی کی شکایات کئی سالوں سے کرتی آ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن سمیت انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں ان شکایات کو جائز قرار دیتی ہیں۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے پانچ مئی، 2020 کو وزیرِ اعظم کی صدارت میں قومی اقلیتی کمیشن قائم کیا تھا۔ اس طرح کا ادارہ قائم کرنے کا حکم 2014 میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں دیا تھا۔ گو کہ یہ کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کے چھ سال بعد قائم ہوا لیکن شروع ہی سے ایسی آوازیں آنے لگیں کہ حالیہ شکل میں یہ مذہبی اقلیتیں کو انصاف پہنچانے کے لیے ناکافی ہے۔

اقلیتی کمیشن بنانے کا بنیادی مقصد اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرنا اور ایسے اقدامات کرنا ہے جس سے وہ قومی دھارے کا مکمل طور پر حصہ بن سکیں اور اس میں ان کی مکمل شمولیت ہو۔ لیکن حال ہی ہونے والے چند واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگوں کے اس بارے میں تحفظات بے جا نہیں تھے۔

اس کمیشن میں ہندو کمیونٹی کے علاوہ مسیحی، پارسی، سکھ اور کیلاش کمیونٹی کو بھی نمائندگی دی گئی ہے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین سمیت دو مسلم اراکین بھی اس کا حصہ ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی مذہب یا عقیدے کی آزادی کے بارے میں 2018 کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق ہر سال اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی تقریباً ایک ہزار لڑکیوں کے جبری مذہب تبدیلی کے واقعات سامنے آتے ہیں، جن کی اکثریت 18 سال سے کم ہوتی ہے۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتیں مذہب کی تبدیلی کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتی ہیں۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالھی اور مسلم لیگ ن سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے رکن اسمبلی رمیش وانکوانی بھی اپنی تقریروں میں اس کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

،ویڈیو کیپشن

سندھ کے بعض ہندو اب سکھ کیوں بن رہے ہیں؟

تاہم حال ہی میں قائم کردہ قومی اقلیتی کمیشن کے سربراہ چیلارام کیولانی مذہب کی جبری تبدیلی کے معاملے کو بین الاقوامی میڈیا اور پڑوسی ملک کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔

چیلا رام پاکستان کے معروف تاجر ہیں جو چاول برآمد کرتے ہیں اور موجودہ ذمہ داری سے قبل وہ تحریک انصاف سندھ کے نائب صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں جہاں سے وہ اب مستعفی ہوگئے ہیں۔

چیلام رام کہتے ہیں کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ ان کے بغیر اقلیتوں کے مسائل کا حل نہیں نکل سکتا کیونکہ اقلیتی کمیونٹی کا مسئلہ ان کا بھی مسئلہ ہے۔'

اقلیتی کمیشن کے سربراہ چیلا رام سمیت ڈاکٹر جیپال چھابڑیا اور راجا قوی کو رکن نامزد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر جیپال کا تعلق تحریک انصاف سے ہے جبکہ راجہ قوی ایف بی آر کے سینئر عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ کمیشن میں شیڈول کاسٹ یا دلتوں کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ہندو ووٹروں کی تعداد 17 لاکھ سے زائد ہے جن کی اکثریت صوبہ سندھ میں بستی ہے اور ان میں تھر اور عمرکوٹ اضلاع کی چالیس چالیس فیصد آبادی ہندو ہے۔

یاد ہے کہ دلت کمیونٹی کی اکثریت ان ہی اضلاع میں رہتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دلت رکن اسمبلی سریندر ولاسائی کا کہنا ہے 'دلت اقلیتوں کی آبادی کا نصف حصہ ہیں اور انھیں کمیشن میں نظر انداز کرنا متعصب عمل ہے، حکومت کو چاہیے تھا کہ اس کمیشن کو تحریک انصاف کا تنظیمی شعبہ بنانے کے بجائے اس میں اقلیتوں کے ذہین لوگوں کو شامل کرتی۔'

اقلیتی کمیشن کے چیئرمین چیلا رام کیولانی کا کہنا ہے کہ 'کوئی خود کو شیڈول کاسٹ نہ سمجھے۔ تمام اراکین کا مقصد مسائل کا حل نکالنا ہے۔

،ویڈیو کیپشن

وائٹ ان دی فلیگ: پاکستانی اقلیتیں کیمرے کی آنکھ سے

پاکستان پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت نے جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف سندھ اسمبلی سے ایک قانون بھی منظور کیا تھا۔ بعد میں گورنر نے اس میں کچھ ترامیم تجویز کیں تھیں لیکن تاحال یہ ترمیمی قانون اسمبلی فلور پر نہیں لایا گیا۔

یہ بل مسلم لیگ فنکشنل کے رکن نند کمار نے تیار کیا تھا، جن کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی دباؤ میں آکر یہ بل پیش نہیں کر رہی ہے۔ جمعیت علما اسلام کے ساتھ ساتھ میاں مٹھو، پیر ایوب جان سرہندی سمیت کئی مذہبی جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی تھی۔

قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین چیلا رام کہتے ہیں کہ اگر ایسے واقعات ہوئے تو ان کے لیے بھی ہم کوئی پالیسی بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا 'سندھ میں جبری مذہب کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اس بات سے انکار نہیں۔ لیکن ایسے واقعات تو مسلم کمیونٹی میں بھی ہوتے ہیں کاروی کاری قرار دیکر عورت کو مارا جاتا ہے۔ اگر ہندو کو اغوا کیا جاتا ہے تو مسلمانوں کا بھی اغوا ہوتا ہے۔ دراصل ہمارے یہاں پر ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو پڑوسی ملک اور عالمی میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔'

قومی اقلیتی کمیشن کا اس وقت تک صرف ایک ہی تعارفی اجلاس ہوا ہے، چیلا رام کیولانی کہتے ہیں کہ 'یہ میڈیا نے پھیلایا ہوا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ ظلم تو دنیا بھر میں اقلیتوں کے ساتھ ہو رہا ہے پاکستان میں اتنا ظلم نہیں جتنا دوسرے ملکوں میں ہے، انڈیا میں ہی دیکھ لیں کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔'

قومی اقلیتی کمیشن کی ترجیح کیا ہوگی، اس بارے میں چیلا رام کیولانی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے پالیسی تشکیل دیں گے 'جو عبادت گاہیں ہیں ان پر لینڈ مافیا کے قبضے ہیں ان کے لیے پالیسی بنائیں گے، اس کے علاوہ ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹا جس پر کئی اداروں میں عملدرآمد نہیں ہو رہا اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ہولی اور دیوالی پر چھٹی ہونی چاہیے اس پر بھی پالیسی بنائیں گے۔'

پشاور میں مسیحی برادری کے گرجا گھر پر 22 ستمبر 2013 ہونے والے حملے میں سو سے زائد مسیحی شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ میں سیکیورٹی کے فقدان اور انتظامات کا اُس وقت کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس مشیر عالم کے ساتھ تین رکنی بنچ تشکیل دیا، جس کو اقلیتوں کے جان و مال اور حقوق و آزادیوں کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 20 کی روشنی میں جامع قانون سازی کی بنیادیں وضع کرنی تھیں اور ریاست کو عملی اقدامات اٹھانے کا پابند بنانا تھا۔

اس تین رکنی عدالتی بنچ نے 19 جون 2014 کو قومی کونسل برائے اقلیتی حقوق بنانے کے احکامات دیے، جس کے لیے سابق آئی جی شیعب سڈل کی سربراہی میں عبوری کمیشن بنایا گیا، جس کے اراکین میں مسلم لیگ ن کے سابق اور موجودہ تحریک انصاف کے رکن رمیش ونکوانی اور جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بیٹے شامل تھے۔

ڈاکٹر شعیب سڈل نے حکومت کے حالیہ کمیشن کے قیام کو دوبارہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ انھوں نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ قومی کمیشن کے قیام کے لیے انھوں نے چاروں صوبائی حکومتوں، اقلیتوں، سول سوسائٹی سے مشاورت کی اور کمیشن کے قیام کے لیے قانون کا مسودہ تیار کیا، انھیں امید تھی کہ وزارت مذہبی امور اس پر اپنا موقف بیان کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

انھوں نے آئینی درخواست میں مزید کہا ہے کہ 'کمیشن کے قیام کے لیے وزرات مذہبی امور نے ان سے کوئی مشاورت بھی نہیں کی، جب ایک کمیشن پہلے سے موجود ہے تو یہ دوسرا کمیشن کیوں قائم کیا گیا ہے۔ وزرات مذہبی امور نے عدالت میں کیے گئے وعدے سے انحراف کیا ہے۔ یہ کمیشن وزارت مذہبی امور کے رحم و کرم پر ہے اس کی آئینی حیثیت نہیں، جبکہ ان کی طرف سے اقلیتی کمیشن کو بھی قومی انسانی حقوق کمیشن، بچوں کے قومی کمیشن اور خواتین کے معیار کو بہتر بنانے کے کمیشن کی طرح آئینی اور قانونی اداراہ بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔'

قومی اسمبلی میں اقلیتی کمیشن کے قیام کے لیے دو اراکین نے ایک بل بھی پیش کیا تھا، جس میں چیئرمین کے لیے بتایا گیا تھا کہ اس کا انتخاب کرنے کے لیے اخبارات میں تشہیر کی جائے گی اس کے بعد جو نام آئیں گے وزیر اعظم، قائد حزب اختلاف کے مشورے سے ان کی نامزدگی کریں گے جبکہ تمام مذہبی اقلیتوں کے نمائندوں کو نمائندگی دی جائے گی۔

حکومت نے اس بل کو اسمبلی سے منظور کرانے کے بجائے کابینہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں اس کمیشن کے قیام کا بل منظور کر لیا، جس کا چیئرمین چیلا رام کیولانی کو نامزد کرنے کا اعلان کیا گیا۔