کراچی کا ’ٹک ٹاک پولیس سٹیشن‘ سیل کر دیا گیا

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہScreenshot by Karachi Police

،تصویر کا کیپشن

اس جعلی تھانے میں لاک اپ بھی بنا ہوا تھا جبکہ ایک کمرے کا انداز ایس ایچ او کے دفتر جیسا رکھا گیا تھا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے ایک ٹک ٹاک سٹوڈیو سیل کر دیا ہے، جس میں پولیس سٹیشن بنایا گیا تھا۔

کراچی میں گلستان جوہر کے علاقے پہلوان گوٹھ کے سن بیم اپارٹمنٹ میں موجود اس فلیٹ پر جب پولیس پہنچی تو یہ بند تھا اور اہلکار تالہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔

ڈی ایس پی شاہراہ فیصل اقبال شیخ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھیں مقامی لوگوں نے اطلاع دی تھی کہ یہاں تھانہ بنایا گیا ہے جس پر پولیس نے چھاپہ مارا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

’اس جعلی تھانے میں لاک اپ بھی بنا ہوا تھا جبکہ ایک کمرے کا انداز ایس ایچ او کے دفتر جیسا رکھا گیا تھا، جس میں ایک ٹیبل جس پر سبز رنگ کی چادر موجود تھی اور لینڈ لائن ٹیلیفون سیٹ، محمد علی جناح کی تصویر، بیک گرؤانڈ میں ناموں کی فہرست اور دیوار پر سندھ پولیس کا مونو گرام بھی پینٹ کیا ہوا تھا جو مجموعی طور پر تھانے کا منظر پیش کر رہے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈی ایس پی شاہرہ فیصل اقبال شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک ٹک ٹاک ویڈیو ہے، جس میں نظر آتا ہے کہ کچھ نوجوان پولیس یونیفارم پہن کر ریکارڈنگ کر رہے ہیں، ان میں ایک شخص نے ایس ایچ او اور ایک اے ایس آئی کے طور پر اداکاری کر رہا ہے۔

چین میں سنہ 2016 میں ٹک ٹاک ایپ کو متعارف کرایا گیا تھا، جس میں پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو آواز یا موسیقی کے ساتھ بنائی جا سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہScreenshot by Karachi Police

،تصویر کا کیپشن

ٹک ٹاک پر کئی پولیس اہکاروں بشمول خواتین کے بھی اکاؤنٹ موجود ہیں جن میں وہ اپنی ویڈیو بنا کر شیئر کرتے ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس خصوصیت کی وجہ سے یہ ایپ نوجوانوں میں بہت زیادہ مقبول ہوئی اور اس وقت فیس بک کے بعد ڈاؤن لوڈ کی جانے والی یہ دوسری بڑی ایپ ہے۔

ٹک ٹاک میں منفرد فلم سازی اور انداز کے لیے صارفین غیر معمولی اقدامات بھی اٹھاتے ہیں جن پر سخت تنقید بھی کی جاتی ہے۔

ایسے ہی ایک ٹک ٹاک میں ایک لڑکی نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار پر ایک ویڈیو بنائی تھی جو بعد میں وائرل ہوئی اور اس لڑکی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد مزار قائد پر شوٹنگ پر پابندی عائد کی گئی اور پانچ نوجوانوں کو ٹک ٹاک بناتے ہوئے گرفتار بھی کیا گیا۔

کراچی کے فریئر ہال میں ہر اتوار کو درجنوں نوجوان موبائل، ٹرائی پورٹ اور چھوٹے سپیکرز کے ساتھ آتے ہیں اور اپنے پسندیدہ گیت پر ٹک ٹاک شوٹ کرتے ہیں تاہم کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ان دنوں یہ پارک بند ہے۔

ٹک ٹاک پر کئی پولیس اہکاروں بشمول خواتین کے بھی اکاؤنٹ موجود ہیں جن میں وہ اپنی ویڈیو بنا کر شیئر کرتے ہیں، میرپورخاص میں جب ایک اہلکار کی ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی تو انھیں شوکاز نوٹس کا سامنا کرنا پڑا تھا۔