کورونا وائرس: لاک ڈاؤن نے ایچ آئی وی کے شکار افراد کو کیسے متاثر کیا؟

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
رتو ڈیرو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

محکمہ صحت سندھ کے مطابق رتو ڈیرو میں اس وقت ایچ آئی وی پازیٹو کیسز کی تعداد 1225 ہے، جن میں سے 1177 کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے

میں راتوں رات زبیر کو لاڑکانہ لے گئی کیونکہ اس کی تکلیف دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ وہاں اس کا علاج ٹھیک نہیں کیا گیا، ڈاکٹر الٹا مجھ سے لڑ رہے تھے کہ تم کیسے آئی ہو، کیوں آئی ہو؟ میں نے کہا کہ میں خود اکیلی آئی ہوں۔‘

نسرین جویو کا ڈھائی برس کا بیٹا زبیر ایچ آئی وی میں مبتلا تھا اور لاڑکانہ چانڈکا ہسپتال میں دوران علاج فوت ہو گیا۔ نسرین اپنے بیٹے کو رتو ڈیرو ہسپتال بھی لے کر گئی تھیں لیکن ڈاکٹروں نے ’بڑے ہسپتال‘ لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔

سندھ کی تحصیل رتو ڈیرو میں گذشتہ سال ایڈز نے وبائی صورت اختیار کر لی تھی، جس کے بعد یہ شہر ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی نظر میں آیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں نے کہا تھا کہ سرنج کے متعدد بار استعمال کے علاوہ خون کی منتقلی اور کچھ متاثرہ ماؤں سے بچوں میں اس بیماری کی منتقلی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نسرین جویو رتو ڈیرو سے چند کلومیٹر دور واقع جویو گاؤں کی رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’زبیر پیدا ہوا تو اسہال بند نہیں ہو رہے تھے۔ علاقے کا کوئی ڈاکٹر نہیں چھوڑا جس کو نہ دکھایا ہو۔

’کچھ بھی کھا نہیں پا رہا تھا، پیچش اور بخار کم ہوتا تھا تو کھا لیتا تھا اور جب بخار دوبارہ ہوتا تھا تو کھانا نہیں کھا پاتا تھا، اس کے منہ میں چھالے پڑ گئے تھے۔‘

پھر انھیں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کراوئیں جس کے نتیجے میں یہ علم ہوا کہ زبیر کو ایڈز ہے۔

،تصویر کا کیپشن

رتو ڈیرو میں گزشتہ سال ایڈز نے وبائی صورت اختیار کرلی تھی، جس کے بعد یہ شہر ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی نظر میں آیا تھا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

محکمہ صحت سندھ کے مطابق رتو ڈیرو میں اس وقت ایچ آئی وی پازیٹو کیسز کی تعداد 1225 ہے، جن میں سے 1177 کا علاج کیا جا رہا ہے۔ سنہ 2019 میں پورے سندھ میں کل کیسز کی تعداد 4075 رہی جن میں سے 3453 کا علاج جاری ہے۔

کورونا وائرس اور ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات اور ذرائع میں فرق ضرور ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ دیگر امراض کے مقابلے میں ایچ آئی وی پازیٹو افراد کورونا کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی پازیٹو افراد میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے اس لیے ایسے افراد کورونا کا باآسانی شکار بن سکتے ہیں۔

’رتو ڈیرو ہسپتال میں ڈاکٹر کورنا سے متاثر ہوئے ہیں لیکن وہ جنرل وارڈ میں تعینات تھے اور ایچ آئی وی سینٹر سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔‘

رتو ڈیرو تحصیل ہسپتال میں ایچ آئی وی مریضوں کے لیے خصوصی سینٹر بنایا گیا اور یہ اعلان کیا گیا کہ ایسے مریضوں کو یہاں سے ادویات اور مطلوبہ ماہرین دستیاب ہوں گے تاہم تاحال چائلڈ سپیشلسٹ اور ایڈز کے مرض میں ماہر ڈاکٹر کا فقدان ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے دو ماہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی اور قریبی علاقوں کے لوگ تو ادویات کے حصول کے لیے آ سکے جبکہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

ہزار خان کے بیٹے اور بہو سمیت سات افراد ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق متاثرین کو سردی اور بخار ہوتا رہتا ہے، بیٹے طارق کی طبیعت خراب رہتی ہے اور اس کی بیوی اور بیٹی بھی صحت مند نہیں۔

وہ کہتے ہیں ’کچھ دوائیں لاڑکانہ سے ملیں اور کچھ کراچی سے لے کر آئے ہیں، کرایہ خرچہ کر کے جاتے ہیں اور دوائی لے کر آتے ہیں۔‘

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ جن سینٹرز سے ایچ آئی وی مریضوں کو ادویات فراہم کی جاتی ہیں وہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی کھلے ہوئے تھے۔

’کچھ لوگوں کو ٹرانسپورٹ تک رسائی نہیں تھی اس لیے وہ نہیں آ سکے۔ ان کے لیے یہ حکمت عملی بنائی گئی کہ انھیں تین تین ماہ کی ادویات فراہم کر دی گئیں اور جو نہیں آئے ان سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے کوریئر کے ذریعے ادویات روانہ کی گئیں۔‘

رتو ڈیرو کے صحافی گلبہار شیخ ان صحافیوں میں شامل ہیں جنھوں نے ایچ آئی وی کی وبائی شکل اختیار کرنے کی نشاندہی کی تھی۔

ان کی اپنی بیٹی بھی ایچ آئی وی پازیٹو ہیں اور وہ مقامی طور پر نہیں بلکہ کراچی سے ادویات لیتے ہیں۔ بقول ان کے، یہاں ڈاکٹر بچوں کے امراض کی پیچیدگیاں نہیں سمجھتے، ان کی بچی کی نشوونما نہیں ہو رہی تھی اس لیے وہ کراچی جاتے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کہتی ہیں کہ اے آر ٹی کی خریداری گلوبل فنڈ کے ذریعے وفاقی حکومت کرتی ہے اور اس کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب بھی نہیں ہوتی ہے اور آغا خان ہسپتال میں بھی گلوبل فنڈ سے ادویات آتی ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق رتو ڈیرو میں بچوں میں 517 لڑکے اور 337 لڑکیاں ایسی ہیں جنھیں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی ) فراہم کی جارہی ہیں۔

صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو کہتی ہیں کہ لوگ فالو اپ کے لیے نہیں آتے ہیں۔

صحافی گلبھار شیخ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو شعور نہیں ہے۔ کئی ایسے ہیں جو ایک مرتبہ دوائی لیکر جاتے ہیں تو پھر فالو اپ کے لیے اس وقت تک نہیں آتے جب تک بچہ بیمار نہ ہوجائے۔

’وہ ایچ آئی وی کو بھی عام بخار یا بیماری سمجھتے ہیں۔ محکمہ صحت کا ایسا کوئی نظام بھی نہیں کہ جو لوگ فالو اپ کے لیے نہیں آرہے تو ان تک رسائی حاصل کی جائے۔‘

محکمہ صحت نے صحت کے عالمی اداروں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ایچ آئی وی کے بارے میں شعور اور آگاہی کے ساتھ مقامی سطح پر لوگوں میں موبلائزیشن کی جائیگی تاکہ وہ متاثرہ افراد سے حقارت سے پیش نہ آئیں لیکن صحافی گلبھار کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ایک سال میں ایسے اقدامات ہوتے نہیں دیکھے ہیں۔