پاکستان اور انڈیا کے درمیان سوشل میڈیا پر محاذ جنگ

جنگی جہاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برصغیر کے دو بڑے ممالک انڈیا اور پاکستان ویسے تو اس وقت کورونا کی وبا کی لپیٹ کے ساتھ ساتھ کمزور معیشت کا شکار ہیں مگر انہی دونوں ممالک کی عوام سوشل میڈیا پر کورونا اور معیشت کے علاوہ بھی ایک دوسرے کے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔

ایسا ہی کچھ منگل کی شب سے شروع ہوا جب دونوں ممالک کے سوشل میڈیا صارفین نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر ایک جنگی محاذ کھول دیا۔

منگل کی شب سوشل میڈیا سمیت انڈیا کے میڈیا پر ایسے خبریں گردش کرتی دکھائیں دی کہ انڈیا کی فضائیہ نے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجہ میں پاکستان فضائیہ کے طیاروں نے ان کا تعاقب کیا اور انڈین پنجاب کی فضائی حدود میں کوئی جنگی ٹکراؤ ہوا ہے۔

ان افواہوں کا سوشل میڈیا پر گردش کرنا تھا کہ دیکھتے دیکھتے دونوں ممالک کی جانب سے انڈین فضائیہ اور پاکستان فضائیہ کے حق میں متعدد سوشل میڈیا ٹرینڈ دکھائی دینے لگے ہیں۔

ان ٹرینڈز میں جہاں ایک طرف انڈین صارفین اپنی فضائیہ کی قابلیت کے گن گاتے دکھائی دے رہے ہیں تو وہی پاکستانی سوشل میڈیا صارفین 27 فروری سنہ 2019 میں پاکستان فضائیہ کی حراست میں لیے جانے والے انڈین فوجی پائلٹ ابھینندن کو یاد کرتے دکھائی دیے۔ 'کہیں ٹی از فنٹاسٹک' کی باتیں ہوئی تو کہیں دوبارہ چائے پر خوش آمدید کہنے کا چرچا سوشل میڈیا پر ہوتا رہا۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس تمام صورتحال پر بی بی سی نے پاکستان فضائیہ سے صورتحال جاننے کے لیے رابطہ کیا تو پاکستان فضائیہ کے ایک سنیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'درحقیقت ایسا کچھ نہیں ہے یہ محاذ جنگ صرف ٹوئٹر پر ہی ہے۔'

پاکستان فضائیہ کے سنئیر اہلکار سے پاکستان کی جانب سے فضائی نگرانی بڑھائے جانے کے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ 'فی الحال پاکستان فضائیہ معمول کے مطابق اپنی فضائی نگرانی کر رہی ہے، ابھی کوئی غیر معمولی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تاہم اگر ضرورت پڑی تو اس میں تاخیر نہیں برتی جائے گی اور انڈیا کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔ آپ اطمینان رکھیں یہ انڈیا کا جھوٹ ہے اور میں حیران ہو کہ ان کی عوام کیسے اس سب پر یقین کر لیتی ہے۔'

پاکستان فضائیہ کے سینئیر اہلکار نے مزید کہا کہ 'جیسا کہ پیر کی رات انڈیا کے میڈیا نے کراچی بھر میں بلیک آؤٹ کی خبریں دیں جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔'

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈیا اور پاکستان کے شوشل میڈیا صارفین کا اظہار

دونوں ممالک کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پیدا کردہ اس جنگی ماحول میں دونوں جانب سے آزادانہ ٹویٹس اور تبصرے داغنے کا مظاہرہ کیا گیا۔سوشل میڈیا کے اس محاذ پر ہر ٹویٹر سپاہی نے اپنی جرات و شجاعت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

ایگل ایئز نامی ایک پاکستان سوشل میڈیا صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'سنہ 1965 اور 27 فروری کو مت بھولیں، ہمارے پاس سب سے طاقتور فضائیہ ہے، پاکستان ائیر فورس اپنی قوم اور دشمن کو جواب دینا جانتی ہے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھائیں اور ہم انشااللہ ہم اپنے دشمن کو ایک مرتبہ پھر شکست دیں گے۔'

جبکہ اوینجر نامی ایک انڈین صارف نے اس کا جواب کچھ یوں دیا۔

اسی گھمسان کی لڑائی میں شہروز افضل نامی پاکستانی صارف نے لکھا کہ

'چائے تیار ہے انڈین فضائیہ اور ہم آپ کا بےتابی سے انتظار کر رہے ہیں۔'

جس کے جوابی وار میں ایک انڈین صارف شیو آرور نے کچھ اس طرح تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ رات انڈیا کے فضائیہ کے طیاروں کی دراندازی کی افواہوں نے کراچی میں بلیک آؤٹ کے بعد خوف پھیلا دیا اور یہ2019 میں بالاکوٹ میں کیے جانے والے حملے کا اثر ہے، جماعت الدعوۃ کے دہشت گردوں کو کسی پہاڑی کی چوٹی پر بم مارنا ایک بات ہے، وہ کب کے ختم ہو چکے۔ پاکستان گبھرا گیا ہے اور پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کو انڈین فضائیہ کے طیارے سمجھ بیٹھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ دشمن کو پیغام دے دیا گیا ہے۔'

اس کے جوابی حملہ کرتے ہوئے پاکستانی سوشل میڈیا صارف نے کچھ ایسا ردعمل دیا

جبکہ ایک انڈین سوشل میڈیا صارف نے پاکستانی فضائیہ کے ایف 16 طیارے کا مذاق کچھ اس طرح سے اڑایا۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارف نے اس کے جوابی حملہ میں انڈین صارفین کو یاد کرواتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ 27 فروری سنہ 2019 کو پاکستان فضائیہ کا دشمن کی جارحیت کے خلاف ردعمل تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جسے 'آپریشن سیوفٹ رٹورٹ' کا نام دیا گیا تھا، مگر شائد وہ یہ دوبارہ بھول گئے ہیں۔'

جبکہ حرمین خان نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ 'دراصل انڈین ائیر فورس کو ہماری مہمان نوازی بہت پسند ہے اور وہ دوبارہ ہمارے مہمان بننے کی تیاری کر رہے ہیں، پاکستان فضائیہ ان کی منتطر ہے۔'

ایک اور پاکستانی صارف نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔