کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں سیاحت پر پابندی: ’یہ موسم ہاتھ سے نکلا جارہا ہے‘

  • محمد زبیر خان
  • صحافی
سوات سیاحت خیبر پختونخوا

،تصویر کا ذریعہBhasker Solanki

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے جہاں پاکستان میں صحت کا بحران پیدا ہوگیا ہے تو وہیں سیاحت سمیت بیشتر شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

حکومتی احکامات پر ملک بھر میں سیاحت مارچ کے تیسرے ہفتے سے بند ہے۔ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سیاحت کو معیشت کے لیے اہم سمجھتی ہے لیکن موجودہ حالات میں سیاحتی و تفریحی مقامات کو کھولنے سے وائرس پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

اسی لیے صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے سیاحت پر سے پابندی ہٹانے کا اپنا فیصلہ موخر کردیا تھا۔ جبکہ گلگت بلتستان کی حکومت کی جانب سے سیاحت پر مزید دو ہفتوں کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

پاکستان کے یہ دو خطے ہر سال لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنے دلکش نظاروں کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاحت بحال کرنے کا فیصلہ واپس کیوں لیا گیا؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’ہمارے خیال میں سیاحت کو اس لیے کھولنا چاہیے کیونکہ جن علاقوں میں سیاحت ہوتی ہے وہاں کاروبار کرنے کے یہی گرمیوں کے تین، چار مہینے ہوتے ہیں۔‘

لیکن وائرس کے متاثرین بڑھنے کے بعد یہ فیصلہ موخر ہوچکا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ٹورازم کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر جیند خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ 9 جون (منگل کے روز) سے ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژنز میں سیاحوں کو محدود پیمانے پر داخلے کی اجازت دی جائے گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ مگر ٹاسک فورس کے اجلاس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ فی الحال سیاحت پر پابندی جاری رہے گی۔

جنید خان کے مطابق سیاحت پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ وفاقی حکومت کا تھا۔ ’مگر ابھی تک ہمیں وفاق کی جانب سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔‘

دوسری طرف گلگت بلتستان حکومت نے اپنے طور پر سیاحت نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہاں بھی حکام کو وفاقی حکومت کی طرف سے واضح ہدایات کا انتظار ہے۔

جنید خان نے بتایا کہ ’ہم نے محدود پیمانے پر سیاحت کھولنے کے تمام تر اقدامات مکمل کرلیے ہیں۔ (سیاحتی مقامات پر) ہماری مقامی انتظامیہ بھی تیار ہے۔‘

’ایس او پیز (ہدایات) تیار ہیں۔ فی الحال ہم سیاحت پر پابندی ختم نہیں کر رہے۔ ہوسکتا ہے کہ چند دونوں تک ہم یہ پابندی ختم کردیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پابندی ختم کرنے سے پہلے ہم نے محسوس کیا ہے کہ ایس او پیز پر عمل در آمد کروانے کے لیے سیاحت کے شعبے سے منسلک افراد کو ضروری تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ بعد میں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان میں ہوٹل، ریستوران، ٹرانسپورٹر، ٹوور گائیڈ اور دیگر افراد شامل ہوں گے۔

'یہ موسم ہاتھ سے نکلا جارہا ہے'

محسود خان ایبٹ آباد کے رہائشی ہیں۔ وہ گذشتہ 15 سال سے سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے معمولی ملازمت سے اس صنعت میں آغاز کیا تھا۔

’چار سال قبل نتھیاگلی میں اشتراک سے ہوٹل ٹھیکے پر حاصل کیا۔ دو سال ہی میں اتنا کام چل گیا کہ ایک عمارت کرایے پر حاصل کر لی۔ گذشتہ سال اچھا کاروبار ہوا۔‘

،تصویر کا ذریعہSHAHUDDIN

انھوں نے رواں سال سیاحوں کی آمد کے لیے مزید بہتر انتظامات کرنے کے لیے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی تھی۔ لیکن ان کے بقول اب حالات ایسے ہیں کہ ’میں خود ملازمت تلاش کرتا پھر رہا ہوں۔‘

’مجھے اپنے بچوں کو روٹی کھلانے کے لیے کوئی ملازمت نہیں مل رہی۔ سوچتا ہوں کہ یہی صورتحال رہی تو میں کدھر جاؤں گا؟‘

وہ ان افراد میں سے ہیں جو چاہتے ہیں کہ حکومت محدود پیمانے پر سیاحت کھول دے تاکہ ان جیسے کئی افراد روزگار کما سکیں۔

اسی طرح نتیھاگلی میں ایک ہوٹل کے مالک سردار جہانگیر کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ ہفتے معلوم ہوا کہ حکومت محدود پیمانے پر سیاحت کھول رہی ہے تو میں نے اپنے ہوٹل کی تزئین و آرائش اور ایس او پی کے تحت انتظامات کیے۔ اس پر میں نے لاکھوں خرچ کیے۔‘

لیکن پھر نھیں اطلاع ملی کہ ’یہ اجازت ابھی نہیں چند دن بعد دی جائے گی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے ایک صدمے کی طرح ہے کیونکہ کاروبار نہ ہونے کے باوجود بچے کچے پیسے بھی وہ اسی کام میں لگا چکے تھے۔

خیبر پختونخوا کے پرفضا مقام ناران میں ہوٹل ایوسی ایشن کے صدر سیٹھ مطیع الرحمن کا کہنا ہے کہ ’یہ موسم ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔‘

’لوگوں نے لاکھوں، کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ وہ سب ڈوب رہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو اگر اجازت دینی ہے تو ابھی دے۔ چند دن اور گزر گئے تو وقت گزر جائے گا۔ نا قابل تلافی نقصان ہوگا اور صنعت کو دوبارہ اٹھانا مشکل ہوگا۔‘

انھوں نے ایس او پیز پر عمل کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

آل پاکستان ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور ٹورازم ایوسی ایشن کے صدر گل رئیس کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی سیاحت کی صعنت سے جڑے لوگ بہت برے حالات میں ہیں۔

’یہ سردیوں میں ویسے ہی لاک ڈاون کا شکار ہوتے ہیں۔ اب بھی اگر لاک ڈاون ختم نہ ہوا تو یہ تباہ و برباد ہوجائیں گے۔‘

خیبر پختونخوا میں سیاحت کی اہمیت

خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق سیاحت ایک ابھرتی ہوئی صنعت ہے۔ سال 2012 میں سیاحت کا حجم 86.23 ملین تھا جو کہ 2018/19 میں بڑھ کر 791 ملین تک پہنچ گیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال سیاحت کے فروغ کے محکمے کے مطابق 20 لاکھ افراد نے صوبے میں سیاحتی مقامات کا رخ کیا جس میں 20 ہزار غیر ملکی تھے جو کہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاحت پر مارچ سے جاری پابندی سے کتنا نقصان ہوا، اس حوالے سے واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں۔

تاہم صوبہ خیبر پختونخوا حکومت کے اندازوں کے مطابق اس صورتحال سے سیاحت کے شعبے کو تین سے چار ارب روپے کا نقصاں پہنچا ہے۔ اس صنعت میں دیہاڑی دار لوگوں کی تعداد 56 ہزار ہے جو متاثر ہوئے ہیں۔

سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق سوات میں چار سو ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز سے 23 ہزار لوگوں کا براہ راست روزگار جڑا ہوا ہے۔

ان سیاحتی مقامات میں ہزاروں ہوٹل اور رہائش گاہیں موجود ہیں۔ اور خیال ہے کہ پابندی سے اس شعبے سے منسلک افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

سیاحت کے لیے کیا ایس او پیز بنائے گئے ہیں؟

صوبہ خیبر پختونخوا حکومت کے ابتدائی فیصلے کے مطابق مالاکنڈ اور ہزارہ میں تمام ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور سیاحت سے جڑے دیگر تمام کاروبار کو حکومتی ہدایات اور ایس او پیز کی روشنی میں کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی حتمی اجازت درکار ہوگی۔

یہ ایس او پیز عالمی ادارہ صحت یا ڈبیلو ایچ او کی ہدایات کی روشنی میں تیار کیے گئے ہیں۔ ان کے تحت تمام غیر ملکی سیاح حکومت پاکستان کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔

صرف اپنے خاندان کے ہمراہ سفر کرنے والے سیاحوں کو سیاحت کی اجازت ہوگی۔ ہر سیاح کے لیے ماسک اور دستانے پہننا لازم ہوگا۔

گاڑیوں پر جراثیم کش سپرے کیا جائے گا اور انھیں ڈس انفیکٹ کیا جائے گا۔ گاڑی کے اندر بھی سماجی فاصلے کی پاسداری کرنا ہوگی۔

حفاظتی اصولوں پر مبنی کتابچے ہر سیٹ پر لگائے جائیں گے۔ گاڑی میں سینیٹائزر فراہم کیے جائیں گے۔

پبلک ٹرانسپورٹ یا ٹرانسپورٹ کی کسی نجی سہولت کا استعمال کرنے کی صورت میں ڈرائیور پر ماسک اور دستانوں کا استعمال لازم ہوگا۔

ہوٹل، گیسٹ ہاؤس یہ یقینی بنائیں گے کہ وہ سیاحوں کی صحت کے بارے میں مقامی حکام کو اطلاعات فراہم کرتے رہیں۔

ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز میں داخلے سے قبل درجہ حرارت چیک کیا جائے گا۔ ڈس انفیکٹ واک تھرو گیٹس نصب کیے جائیں گے۔ کسی کو بھی بغیر ماسک کے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سامان کو بھی ڈس انفیکٹ کیا جائے گا۔

ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس میں دستیاب کمروں کی صرف نصف تعداد ہی استعمال کی جاسکے گی۔ ایک فرد کے کمرے میں دو افراد کو رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہی اصول ڈائنگ ہال اور کھانے پینے کی جگہوں پر بھی لاگو ہوں گے۔ ڈسپوزیبل برتنوں کو ترجیح دی جائے گی اور عملے سے بھی کہا جائے گا کہ زیادہ سے زیادہ فاصلہ برقرار رکھیں۔

ایک وقت میں دو یا دو سے کم لوگ ہی لفٹ استعمل کر سکیں گے۔ سیڑھیاں اترنے اور چڑھنے کی صورت میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ لوگوں کا ایک دوسرے سے سامنا نہ ہو۔

ایک حد سے زیادہ سیاحوں کو ایک مقام پر داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایک وقت میں سیاحوں کو کتنی تعداد قابل قبول ہو گی۔