کورونا وائرس اور ٹرانس جینڈرز کی معاشی بدحالی: وبا سے متاثرہ خواجہ سرا کمیونٹی تو ’کسی کھاتے میں نہیں‘

  • شمائلہ جعفری
  • بی بی سی نیوز، اسلام آباد
خواجہ سرا

خواجہ سرا شنایا خان اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں کرائے کے فلیٹ میں رہتی تھیں اور شہر کے نواح میں موجود فارم ہاوسز کی نائٹ پارٹیز میں رقص کر کے اپنا روزگار کما رہی تھیں۔ ان کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ان کا بہت آرام سے گزر بسر ہو رہا تھا۔

’مجھے کسی چیز کی بھی کمی نہیں تھی۔ اکیلے پن کا احساس ستاتا تھا لیکن مالی لحاظ سے بہترین گزارا ہو رہا تھا۔‘

شنایا کہتی ہیں کہ کورونا کی وبا پھیلنے سے ان کی کمیونٹی کا روزگار تباہ ہو گیا ہے اور بہت سے لوگ تو فاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔ شنایا کو بھی اپنی رہائش تبدیل کرنی پڑی اور اب وہ ایک ٹرانس جینڈر شیلڑر ہوم میں رہائش پذیر ہیں۔

پاکستان میں زیادہ تر خواجہ سرا بھیک مانگ کر یا پھر سیکس ورکرز اور ڈانسرز کے طور پر کام کر کے اپنا روزگار کما رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ہماری کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ فنکشنز ہی تو تھے۔ اب کورونا وائرس کی وجہ سے ہم فنکشنز تو نہیں کر سکتے لیکن پیٹ تو ہمارے ساتھ ہی لگا ہوا ہے۔‘ یہ کہتے ہوئے شنایا کے چمکدار ماتھے پر غصے سے سلوٹیں آ گئیں۔

’اب اعتراض یہ ہے کہ ہماری کمیونٹی کے لوگ باہر گھومتے اور مانگتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی روزگار نہیں تو وہ کہاں جائیں؟ گھر تو وہ جا نہیں سکتے۔ معاشرے کو ہمارے بارے میں سوچنا چاہیے، ہمارے لیے نوکریاں نکالنی چاہییں اور ہماری مدد کرنی چاہیے۔‘

،تصویر کا کیپشن

وبا کے باعث شنایا بھی اپنا کرایے کا گھر چھوڑ کر شیلٹر ہوم میں رہنے پر مجبور ہیں

کسی گنتی میں نہیں

حالیہ مردم شماری کے مطابق خواجہ سراؤں کی تعداد تقریبا دس ہزار ہے لیکن کمیونٹی کا دعوی ہے کہ یہ اعدادوشمار درست نہیں اور درحقیقت ان کی آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستانی معاشرے میں اکثر خواجہ سراؤں کے خاندان شرم کے مارے انھیں اپنانے سے انکار کر دیتے ہیں۔

تعلیم تک رسائی نہ ہونے اور معاشرے کی طرف سے دھتکارے جانے کے باعث یہ افراد مسلسل استحصال کا شکار رہتے ہیں اور بہت سے خواجہ سرا تو سختیاں سہنے کے بجائے چھپ کر ہی زندگی گزار دیتے ہیں۔

خواجہ سرا ندیم کشش پچھلے 12 سال سے اپنی کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں بری امام دربار کے قریب انھوں نے خواجہ سراؤں کے لیے ایک شیلڑر ہوم بھی بنایا ہے۔

ندیم کہتی ہیں کہ کورونا وبا نے تو خواجہ سرا کمیونٹی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور نظام ایسا ہے کہ کم از کم ان کے لیے تو سرکاری مدد لینا بھی ممکن نہیں۔

،تصویر کا کیپشن

ندیم کشش پچھلے 12 سال سے اپنی کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

’مردم شماری میں ہماری تعداد ہی دس ہزار ہے اور شناختی کارڈ تو اس میں سے آدھوں کے بھی نہیں ہیں۔ اب سرکار تو جو بھی مدد دے رہی ہے وہ شناختی کارڈ پر ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔‘

ندیم کے شیلٹرہوم میں پہلے پندرہ سے بیس خواجہ سرا رہ رہے تھے۔ لیکن کرونا کے بعد سماجی فاصلوں کی پابندی کی وجہ سے ایسا بھی ممکن نہیں کہ ایک کمرے میں دو سے زیادہ افراد کو رکھا جاسکے۔

ندیم کشش نے کچھ فلاحی تنظیموں اورافراد کے تعاون سے اپنی کمیونٹی کے نو سو لوگوں میں راشن تقسیم کیا ہے۔

’پہلے راشن کا مسئلہ تھا۔ پھر جب ہمیں راشن ملنا شروع ہوا تو دو تین چار مرتبہ ہم نے راشن بانٹا لیکن راشن تو ختم ہو جاتا ہے۔ یعنی کہ آپ کا مسئلہ تو حل نہیں ہوا۔‘

ندیم بات کرتے ہوئے بھی راشن کے تھیلے بنا رہی تھیں۔

’یہ لوگ گھروں کے کرائے کیسے دیں جب ان کا ذریعہ روزگار ہی ختم ہے۔ اگر صحت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو خواجہ سرا کی اکثریت تو نشہ کرتی ہے۔ جسمانی اور ذہنی طور پر اذیت میں مبتلا ہیں۔ تنہائی کا شکار تو پہلے ہی تھے، اب گھروں سے بھی نہیں نکل سکتے۔ باہر نکلیں تو پولیس تنگ کرتی ہے۔‘

کورونا میں مصیبت کے ساتھ مواقع بھی

کورونا وبا کے دوران ندیم کشش کی مدد کرنے والوں میں جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت فاونڈیشن پیش پیش رہی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنے رضاکاروں کو خاص طورپر خواجہ سرا کمیونٹی کے ساتھ رابطہ کرکے ان کا خیال رکھنے کی ہدایت کی۔

الخدمت فاونڈیشن کے صدر محمد عبدالشکور کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں متحرک ان کے یونٹس نے سینکڑوں خواجہ سراوں کی مدد کی۔

’ان کا کام ہی شادی بیاہ اور تقریبات اور بھیڑ رہنے سے وابستہ ہے۔ ہم نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ایک تو ان کا ڈیٹا اکٹھا کریں دوسرا انھیں راشن دیں انھیں صحت کی آگہی دینے کی مہم چلائیں۔‘

محمد عبدالشکور کا کہنا تھا کہ مسقتبل میں الخدمت فاونڈیشن خواجہ سراوں کو روزگار کے لیے بھی تربیت فراہم کرے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس وبا سے پہلے انھیں اور ان کی تنظیم کواس کمیونٹی کے مسائل کا خاص اندازہ نہیں تھا۔ کورونا نے انھیں خواجہ سراوں کی حالت زار سمجھنے میں مدد دی۔

’ہم نے اپنی فلاحی آپریشنز کے دوران دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے کمروں میں بیس بیس خواجہ سرا اکٹھے رہ رہے ہیں۔ اور ان کی صورتحال قابل رحم تھی۔ پھر ہم نے ملک بھر میں اپنے کارکنوں کو کہا کہ وہ انھیں اپنے گلیوں محلوں میں ڈھونڈیں اور ان کی دہلیز پر مدد پہنچائیں۔‘

لیکن خواجہ سرا یہ سمجھتے ہیں کہ کرونا ہو یا نہ ہو انھیں نظام کا حصہ بنانا اور مرکزی دھارے میں شامل کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔

شنایا کہتی ہیں کہ وہ پہلے ہی اپنا ذریعہ معاش بدلنا چاہتی تھیں اور اب کورونا کی وبا کے ساتھ انھیں نئی شروعات کرنے کا ایک موقع مل گیا ہے۔

’اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ کس طرح اس آ فت کو ہماری حالت بدلنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ہم بہت پڑھی لکھی تو نہیں لیکن اگر خواجہ سراوں کو کسی کام پر لگایا جائے تو ہم جان لڑا دیتے ہیں۔‘