کراچی میں بارش رحمت یا زحمت: ’کراچی کا اصل مسئلہ اونر شپ کا ہے‘

  • محمد زبیر خان
  • صحافی
کراچی

،تصویر کا ذریعہEPA

’جیسے ہی آٹھ سالہ شاہ زیب نے گھر سے باہر قدم قدم رکھا۔ تیز پانی میں چلنے والا کچرا اسے اتنی تیزی سے اپنے ساتھ بہا کر لے گیا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگیا تھا۔‘

یہ کہنا تھا کہ پانی میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے شاہ زیب کے جوان سال کزن عتیق خان کا جو میٹرو کراچی کے علاقے میں شاہ زیب کے پانی میں ڈوبنے کے عینی شاید ہیں۔

عتیق خان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ہمارے ایک پڑوسی شاہ زیب کو بچانے کے لیے پانی میں کودے تھے۔ مگر اس سے پہلے کے پانی ان کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا، موقع پر موجود چھ لوگوں نے پانی میں کود کر ان کی جان بچائی تھی۔

ایدھی کراچی کے مطابق شاہ زیب بنارس نالہ کے علاقے میں پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈوبا تھا جبکہ تقریباً، 24 گھنٹے بعد اس کی نعش اس علاقے سے نو کلو میٹر لیاری دھوبی گھاٹ کے نالہ سے ملی تھی۔

ایدھی کراچی کے مطابق واقعہ جمعہ کی شام پانچ بجے پیش آیا تھا۔ جس کے بعد آٹھ غوطہ خور رات نو بجے تک سر توڑ آپریشن کے باوجود بھی بچے کو تلاش نہیں کرپائے کیونکہ پانی میں بہت زیادہ کچرا، مرے ہوئے مال مویشی آرہے تھے۔

پانی کی رفتار کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچے کی نعش نو کلو میٹر دور سے ملی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

شاہ زیب کے ماموں فرحان خان کا کہنا تھا کہ شاہ زیب مومن آباد کراچی کے رہائشی ہیں۔ اس دن اپنی نانی کے گھر میٹرو میں آئے تھے۔ شاہ زیب کافی دیر سے دکان سے کوئی چیز لانے کی ضد کر رہا تھا۔ اس کی ماں اور گھر میں دیگر لوگ باہر جانے سے روک رہے تھے۔ مگر ایک لمحہ کے لیے گھر والوں کی توجہ کسی اور جانب مبذول ہوئی تو وہ باہر کی طرف دوڑ گیا تھا۔ جس وجہ سے یہ حادثہ پیش آ گیا۔

یہ صرف شاہ زیب کی کہانی ہے۔ کراچی میں کام کرنے والے امدادی تنظیموں ایدھی اور چھپیا کے مطابق کراچی میں مون سون بارشوں کے چوتھے دورانیہ کی تین روزہ بارشوں کے دوران پانچ بچوں سمیت 18 افراد کرنٹ لگنے اور پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبہ سندھ محکمہ صحت ترجمان کے مطابق ان کے پاس دس لوگوں کے ہلاک اور چار لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ مگر ابھی ڈیٹا اکھٹا کیا جا رہا ہے۔ کراچی کمشنر آفس سے رابطہ قائم کیا گیا۔ انھوں نے اعداد و شمار کچھ دیر میں فراہم کرنے کا کہا مگر دوبارہ رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔

کرنٹ لگنے سے ہلاک ہونے والوں میں 18 سالہ رنگ ساز شہزاد پرویز بھی شامل ہے۔ اس کی ہلاکت کا واقعہ سنیچر کی صبح چھ بجے شانتی نگر بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب وہ گھر سے چھ بجے صبح اپنے کام کے لیے نکلے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBadshah Gul

،تصویر کا کیپشن

شہزاد پرویز

شہزاد پرویز کے ماموں بادشاہ گل بتاتے ہیں کہ گھر سے نکلتے کے کوئی آدھا گھنٹہ بعد ہی ہمیں یہ اطلاع ملی کہ شہزاد لٹکا ہوا ہے۔ جس کے بعد میں موقع پر پہنچا تو وہ دم توڑ چکا تھا۔ اس کی نعش کو میرے ساتھ محلے کے لوگوں نے ڈنڈوں کی مدد سے اتارا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ شہزاد گل اپنے تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس کے والد بھی رنگ ساز کے کام سے منسلک ہیں۔

کراچی میں بارشیں

محکمہ موسمیات کراچی کے مطابق کراچی میں مون سون کے دوران یہ بارشوں کا چوتھا سپیل ہے۔

محکمہ موسمیات کراچی کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق مون سون بارشوں سے پہلے یہ پیش گوئی کردی گئی تھی کہ سندھ میں اس سال مون سون کے دوران بیس فیصد زائد بارشیں ہونے کا امکان ہے۔ ’ہمارے اندازوں کے مطابق اس وقت تک کراچی میں اوسط بارشوں سے دس فیصد زائد ہوچکی ہیں۔‘

سردار سرفراز نے بتایا کہ حالیہ بارشوں ک دوران کراچی کے علاقے فیصل بیس میں سب سے زیادہ بارش 174 ملی میٹر ہوئی ہے جو کہ غیر معمولی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال مون سون میں ابھی تک اڑھائی سو ملی میٹر ہوچکی ہیں۔

سردار سرفرار کے مطابق گزشتہ سال بھی بارشیں معمول سے زیادہ ہوئی تھیں جو کہ اوسط 320 ملی میٹر تھیں۔ اس سال توقع کر رہے ہیں کہ مون سون کا سلسلہ جو کہ 15ستمبر تک ہوتا ہے بڑھ کر 30ستمبر تک جاسکتا ہے اور مزید بارشیں ہونے کی متوقع ہیں۔

کراچی میں بارش رحمت یا زحمت

،تصویر کا ذریعہEPA

ڈبیلو ڈبیلو ایف کے ٹینکل ایڈوائزر معظم خان کے مطابق بارشیں کبھی بھی زحمت نہیں ہوتی ہیں یہ ہمیشہ رحمت ہی رحمت ہوتی ہیں۔ مگر انسان ان کو خود اپنے لیے زحمت بناتا ہے۔جس سے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔

معظم خان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں قدرتی طور پر ساحلی شہروں کا کچھ حصہ سطح سمندر سے اونچا ہوتا ہے اور کچھ کم۔ اسی طرح کراچی کے ساتھ بھی ہے۔ پرانا کراچی جس میں صدر کے علاقے آتے ہیں بتایا جاتا ہے کہ سطح سمندر سے تین فٹ کم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جو علاقے سطح سمندر سے نیچے ہیں ان علاقوں میں دنیا بھر میں ویسے ہی پانی کی نکاسی کے لیے پمپنگ جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پرانے کراچی کے علاقوں میں انگریز دور ہی سے یہ طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔

معظم خان کے مطابق اب جب کہ کراچی شہر پھیل چکا ہے۔ عملی طور پر یہ کنکریکٹ کا جنگل بن چکا ہے۔ اس کو کنکریکٹ کا جنگل بناتے ہوئے اس کے نکاسی آب کے تمام ذریعوں پر ناجائز تجاوزات قائم کردی گئی ہیں۔

کراچی میں کسی زمانے میں چار بڑے نالے جن کو لیاری ندی، ملیر ندی، اورنگی نالہ اور گجروں نالہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور درجنوں چھوٹے نالوں پر اس وقت تجاوزات قائم ہیں۔ ایک وقت تھا کہ اگر ہم گجروں نالہ کو پیدل پار کرنا چاہتے تو اس پر کم از کم پندرہ سے بیس منٹ لگتے تھے۔ اب ایک منٹ بھی نہیں لگتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کسی بھی ملک، شہر اور معاشرے میں کوئی بھی حکومت عوام کی مدد کے بغیر تنہا ماحولیات کے مسائل پر قابو نہیں پاسکتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی بہترین حکومت دن میں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگا سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں۔

مگر پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں پر عوام نے اپنی آبادیوں کے قریب موجود نالوں کو کوڑا کرکٹ سے بھر دیا ہے۔ مچھر کالونی کے قریب ایک نالہ ہے۔ وہاں پر اتنا کوڑا کرکٹ ہے کہ اس پر اب لوگ چل پھر سکتے ہیں۔ کراچی میں اس طرح کی کئی مثالیں ہیں۔

معظم خان کا کہنا تھا کہ جب نالوں پر تجاوزات قائم ہوں گی اور کوڑا کرکٹ پھنکا جائے گا تو پھر اس کا حال وہ ہی ہوگا جو اس وقت کراچی کا ہو رہا ہے۔ اب کراچی میں بارش معمول کی ہوں یا زائد جب نکاسی آب کے راستے ہی نہیں ہوں گے تو پھر کراچی کا یہ ہی حال ہوگا جو اب ہو رہا ہے۔

گرین پاکستان کولیشن کے چیف ایگزیکٹو یاسر حسین کا کہنا تھا پانی کے قدرتی نکاسی آب کے ذرائع جو کہ ندی نالے ہوسکتے ہیں پر قانونی طور پر تعمیرات غیر قانونی ہیں۔

کراچی میں اربن فلڈنگ

،تصویر کا ذریعہEPA

معظم خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اس وقت افواہیں ہیں کہ کراچی میں اربن فلڈ کی صورتحال ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اربن فلڈ کی صورتحال ان بارشوں سے تو نہیں پیدا ہوئی۔ ماضی میں کراچی میں تین بڑے اربن فلڈ ہوئے ہیں۔ جو میں ایک 20ویں صدی کے آغاز، دوسرا 1958 جس میں کراچی کا جنوبی حصہ ڈوب گیا تھا اور ایک 1978 جس میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی بارشوں کی پیش گوئی ہے۔ اس دوران اگر کوئی اربن فلڈ کی صورتحال بنتی ہے تو ہمیں نقصاں کا خدشہ ہے کیونکہ نکاسی آب کے تقریباً تمام ہی ذرائع ختم ہوچکے ہیں۔

آبی مخلوق بھی متاثر

معظم خان کا کہنا تھا دنیا بھر میں ساحلی شہروں میں بارشوں کے بڑے اچھے نتائج نکلتے ہیں۔ سمندر میں مچھلی اور جھینگا جیسے آبی مخلوق کی پیداوار بڑھتی ہے۔ مگر کراچی میں گزشتہ تین بارشوں کے دروان ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ بارشوں کا پانی سمندر میں جانے سے بڑی تعداد میں مچھلیوں اور جھگینوں سمیت دیگر آبی مخلوق کو نقصاں پہنچا ہے کیونکہ اس میں گٹر ملا آلودہ پانی بہت بڑی مقداد میں سمندر میں گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کراچی کے تمام گٹر اور آلودہ پانی کا رخ سمندر کی طرف کردیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں قدرت کا انمول عطیہ تباہی کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اب جب مون سون اور اس طرح کی بارشیں ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ گٹر اور آلودہ پانی بارش کے پانی کے ساتھ مل کر سمندر میں تباہی مچاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان بارشوں کے دوران حب ڈیم بھر چکا ہے۔ جس وجہ سے اب ہمارے پاس ایک سال کا پانی وافر مقدار میں موجود ہے۔ کراچی کے مضافاتی علاقوں جہاں پر ابھی بھی کھیتی باڑی ہوتی ہے اور باغات ہیں وہاں پر پیداوار اچھی ہوگئی۔

اگر ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی تباہی کی تقدیر نہ لکھیں تو بارشیں نقصاں نہیں پہچاتی ہیں۔

سندھ حکومت کیا کہتی ہے؟

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے یہ بات درست ہے کہ کراچی کے نالوں کی بڑی اکثریت تجاوزات کی زد میں آچکی ہے۔ گجروں نالہ اب صرف دس فٹ بھی نہیں رہا لوگ اس کے کنارے پر گھر بنا کر بیٹھ گے ہیں۔

جب ان لوگوں سے وہ جگہ خالی کروانے جاتے ہیں تو وہ احتجاج کرتے ہیں مگر جب وہ پانی کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں تو پھر بھی احتجاج کرتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل کا بہت سے مقامات پر شکار ہیں۔

مرتضی وہاب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کراچی کا اصل مسئلہ اونر شپ کا ہے۔ اس شہر میں کوئی اٹھارہ ادارے کام کرتے ہیں۔ کئی ادارے، کئی علاقوں اور بڑے رقبے پر موجود میونسپل ادارے سندھ حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ وہ جب نالوں وغیرہ پر تعمیرات کی اجازت دیتے ہیں، خود تعمیرات کرتے ہیں اور تجاوزات کو ختم کرنے میں تعاون نہیں کرتے تو سندھ حکومت بے بس ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کچرا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ حالیہ صورتحال کی بہت حد تک وجہ کچرا بھی ہے۔ مگر مجھے کوئی بتائے کہ جب ہم لوگ اپنے گھروں سے کچرا اٹھا کر باہر پھینک دیں گے اور کس طرح دنیا کی کوئی بھی حکومت اس کچرے کو ٹھکانے لگا سکتی ہے۔

مرتضی وہاب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کرنٹ سے ہلاکتوں پر بہت افسوس ہے۔ ہم تمام متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے اطلاعات ملی ہیں کہ بجلی سے کرنٹ لگنے کے واقعات پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ہمیں اس رپورٹ کا انتطار ہے۔ اس رپورٹ میں ذمہ داراں کا تعین ہوجائے تو ہم متاثرین کو معاوضہ دلانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔