پارک لین ریفرنس میں آصف علی زرداری سمیت 10 ملزمان پر فردِ جرم عائد

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیراعظم پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سمیت 10 ملزمان پر پارک لین کمپنی ریفرنس میں فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس میں آصف علی زرداری کو پارک لین کمپنی کے ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

ملزم آصف علی زرداری عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور کراچی میں اپنی رہائش گاہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے ان پر فرد جرم عائد کی گئی۔

یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں کسی اہم ملزم کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے ان پر فرد جرم عائد کی گئی ہو۔

سابق صدر کے وکلا کے مطابق ان کے موکل علیل ہیں جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔

یہ بھی پڑھیے

پیر کے روز مقدمے کی کارروائی کے دوران سابق صدر نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں پتا ہے کہ فرد جرم کیسے عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ گذشتہ 30 سال سے ایسے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سماعت کے دوران کیا ہوا؟

اُنھوں نے کہا کہ ان کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں۔ احتساب عدالت کے جج نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو الزام پڑھ کر سناتے ہیں، آپ جواب دیجیے گا اور کہا کہ چارج شیٹ کے الزامات سننے کے لیے وکیل کی ضرورت نہیں ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

آصف زرداری نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ آپ آرڈر میں لکھیں کہ میرا وکیل موجود نہیں ہے۔‘

اس کے بعد احتساب عدالت کے جج نے ملزم کو مِخاطب کرتے ہوئے کہا ’مسٹر آصف علی زرداری، میں آپ کو چارج شیٹ سنا رہا ہوں۔‘

آصف زرداری نے کہا کہ میرے پارٹنرز کے خلاف سِول کیسز بھی چل رہے ہیں جس پر احتساب عدالت کے جج نے ملزم ان سے کہا کہ وہ پوری فرد جرم سن لیں۔

نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے احتساب عدالت کے جج نے سابق صدر سے کہا کہ ’آپ نے جعلی فرنٹ کمپنی بنا کر نیشنل بنک کا قرض خردبرد کیا۔ اس کے علاوہ ملزم نے بطور صدر پاکستان نیشنل بینک پر دباو ڈال کر قرض لیا۔‘

اس دوران زرداری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے فرد جرم کی صحت سے انکار کیا۔ ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے سے قبل زرداری سمیت دیگر ملزمان کی حاضری لگائی گئی۔

فرد جرم عائد کیے جانے سے پہلے ملزمان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی ان کے موکلوں سے ملاقات کروائی جائے جس کے بعد فرد جرم عائد کیے جانے کا مرحلہ شروع کیا جائے تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔

احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد تمام ملزمان کی ان کے وکلا سے ملاقات کروائی جائے گی۔

اس مقدمے کے شریک ملزمان انور مجید، شیر علی، فاروق عبد اللہ، محمد سلیم فیصل پر بھی ویڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کر دی گئی جبکہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں موجود ملزم محمد حنیف پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے اور تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کو ضمانت پر رہا کیا ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پارک لین ریفرنس کیا ہے؟

اس مقدمے کی گونج دسمبر 2018 میں اس وقت سننے میں آئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو راولپنڈی نیب نے اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگجانی میں قیمتی اراضی کو سستے داموں خریدنے کی الزام میں بلایا۔

نیب نے ان پر الزام عائد کیا انھوں نے پارک لین اسٹیٹ نامی اپنی نجی کمپنی کے ذریعے سنہ 2009 میں 2460 کنال زمین جس کی اصل مالیت دو ارب روپے سے زیادہ ہے اسے صرف 6 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا ہے۔

پارک لین اسٹیٹ کمپنی آصف زرداری، بلاول بھٹو اور دیگر افراد کی مشترکہ ملکیت ہے اور سکیورٹی ایکسچینج کمشین آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ریکارڈ کہ مطابق اس کمپنی کے ایک لاکھ 20 ہزار شیئرز ہیں جن میں سے بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری 30، 30 ہزار شیئرز کے مالک ہیں۔

یہ مقدمہ نیا نہیں اس سے قبل بھی سنہ 1997 میں آصف علی زرداری پر اس وقت کے احتساب بیورو نے اسلام آباد کی نواحی علاقے سنگجانی میں 2460 کنال کی قیمتی اراضی کو سستے داموں خریدنے کے الزام میں دائر کیا تھا۔

تاہم ناکافی شواہد اور عدم ثبوتوں کے باعث اس مقدمہ کو بند کر دیا گیا۔

اس وقت احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان تھے۔