بلوچستان: سرحدی شہر چمن میں بم دھماکہ، پانچ افراد ہلاک اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے چند اہلکار سمیت متعدد زخمی

چمن

پاکستان کے صوبے بلوچستان سرحدی شہر چمن میں پیر کو ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دھماکہ چمن کی مصرف شاہراہ مال روڈ پر ایک مارکیٹ کے باہر پیش آیا۔

اسسٹنٹ کمشنر چمن ذکا اللہ درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کر کے مال روڈ پر ندا مارکیٹ کے سامنے کھڑا کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بم ایک زوردار دھماکے کے ساتھا پھٹا جس سے کئی افراد زخمی ہوئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن میں اب تک پانچ لاشیں لائی گئی ہیں۔

ابھی تک واقعے کی کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر محمد اختر کے مطابق دھماکے سے زخمی ہونے والے 26 افراد کو ان کے ہسپتال لایا گیا جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک تھی اور انھیں علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

دھماکے کے وقت اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی ایک گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی جسے نقصان پہنچا اور اطلاعات کے مطابق حملے میں اے این ایف کے بعض اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکے کی مذمت

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اس بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے چمن کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑھ کی تنصیب کا منصوبہ ملک دشمن عناصر کے عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باڑھ کی تنصیب سے دہشت گردی اور غیر قانونی نقل و حمل کا خاتمہ ہو گااور سرحدی علاقوں سمیت صوبہ بھر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Jam_Kamal

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا کہ عوام کے تعاون سے چمن سمیت تمام علاقوں میں بھرپور امن کے قیام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر عثمان کاکڑ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ سمیت اس نوعیت کے دیگر واقعات کو ایک سازش قرار دیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ چمن کے لوگ انتہائی پرامن لوگ ہیں اور چونکہ چمن کے لوگ تاجر اور محنت کش ہیں اور تاجر اور محنت مزدوری کرنے والے لوگوں کی یہ سب سے بڑی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے علاقے میں امن ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ چمن کے لوگوں کی نہ صرف سرحد پار رشتہ داریاں ہیں بلکہ ان کے روزگار اور معاش کا انحصار بھی سرحدی تجارت پر ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے مختلف حیلوں اور بہانوں سے یہاں سے لوگوں کی آمد ورفت کو بند کرنا چاہتے ہیں ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نے بتایا کہ لوگوں کی آمد ورفت پر پابندیوں کے خلاف چمن میں بڑا احتجاج ہوا جس پر حکومت کو لوگوں کے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس احتجاج کے بعد سرحد کو ایک روز کے لیے آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا لیکن اب ایک مرتبہ پھر سازش کے تحت وہاں حالات کو خراب کیا گیا ۔

سینیٹر عثمان کاکڑ کے بقول جو لوگ چمن سے لوگوں کی تجارت اور کاروبار پابندی چاہتے ہیں وہ لوگ اِنھی واقعات کی آڑ لیکر پابندی لگانا چاہتے ہیں جسے چمن کے لوگ تسلیم نہیں کریں گے۔

کوئٹہ کے شمال میں اندازاً 120 کلومیٹر دور ضلع قلعہ عبد اللہ کا یہ سرحدی شہر افغانستان کے صوبہ قندہار سے متصل ہے ۔

طورخم کی طرح یہ بلوچستان سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بلکہ وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان بھی ایک اہم گزرگاہ ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان عام گاڑیوں کی آمدورفت کے علاوہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں تعینات نیٹو فورسز کے لیے رسد کی گاڑیوں کی آمدورفت بھی چمن سے ہوتی ہے ۔

چمن میں پشتون قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں لیکن ان کی غالب اکثریت کا تعلق اچکزئی قبیلے سے ہے۔

چند روز قبل تک علاقے کی تاریخ کا بڑا احتجاج کیوں ہوا تھا ؟

کورونا کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ دیگر سرحدی علاقوں کی بندش کی طرح چمن کی سرحد کو بند کیا گیا تھا ۔

اس بندش کے باعث چمن سے ان لوگوں کی آمد و رفت بھی بند ہوگئی تھی جو کہ تجارت اور روزگار کی غرض سے روزانہ کی بنیاد پر افغانستان جاتے اور واپس آتے تھے۔

اگرچہ سرحد کو کھولنے کے بعد دیگر پابندیوں کو ختم کیا گیا لیکن روزانہ کی بنیاد پر پیدل آمدو رفت پر پابندی کو برقرار رکھا گیا تھا جس کے خلاف چمن کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہوا تھا۔

اس احتجاج کے بارے میں کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سیکورٹی سے متعلق حکام نے جہاں سرحد کی بندش کی وجہ کورونا وائرس کو قرار دیا تھا وہاں اس کی ایک وجہ سیکورٹی وجوہات اور اسمگلنگ کو بھی قراردیا تھا ۔

اس اجلاس میں سکیورٹی کا یہ موقف تھا کہ بلوچستان میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے جو واقعات رونما ہوتے ہیں ان کے لیے افغانستان کا سرزمین استعمال ہورہا ہے ۔

،تصویر کا ذریعہAsif Baloch

،تصویر کا کیپشن

سرحد بند ہونے سے تمام کاروبار ٹھپ ہو گیا تھا

سکیورٹی حکام اس کے لیے افغان انٹیلیجینس ادارے این ڈی ایس کو بھی مورد الزام ٹھیراتے ہیں تاہم افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور وہ افغانستان میں بدامنی کے سلسلے میں اسی طرح کے الزامات پاکستان پر بھی عائد کرتے رہے ہیں۔

چمن شہر میں یہ احتجاج عید سے تین روز قبل پرتشدد ہوا تھا جس میں چھ افراد ہلاک اور30 زخمی ہوئے تھے۔

اس پرتشدد احتجاج کے بعد بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے چمن کا دورہ کیا تھا اور وہاں احتجاج کرنے والے تاجروں اور محنت کشوں کے قائدین سے مذاکرات کیے تھے جس کے نتیجے میں احتجاج کو ختم کیا گیا تھا۔

چمن میں تاجروں اور محنت کشوں کے دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی نے بتایا تھا کہ ان کے جن مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے ان میں ایک پہلے کی طرح تاجروں اور محنت کشوں کی روزانہ کی بنیاد پرآمدورفت کی بحالی بھی شامل تھا ۔

لیکن ابھی تک محنت کشوں اور تاجروں کی دو مارچ سے قبل کی طرح روزانہ کی بنیاد پر آمدورفت کا سلسلہ باقاعدہ طریقے شروع نہیں ہوا تھا کہ چمن میں بدامنی کا یہ واقعہ رونما ہوا ۔

چمن میں بدامنی کے واقعات دوبارہ کب سے شروع ہوئے؟

افغانستان میں سابق سوویت یونین کی فوجوں کی موجودگی تک ایک سرحدی علاقہ ہونے کے ناطے صورتحال کسی حد تک کشیدہ رہی لیکن افغانستان سے سابق سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح چمن بھی 2000 سے قبل تک پر امن تھا ۔

جہاں سنہ 2000 کے بعد بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور سکیورٹی سے متعلق اداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا وہاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چمن میں بھی یہ واقعات رونما ہونے لگے ۔