پارک لین اور نیب کے سیاستدانوں کے خلاف کیسز: ’برسوں پرانے مقدمات اب تک چلانے پر قومی احتساب بیورو کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے‘

  • عماد خالق
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
نیب

،تصویر کا ذریعہNAB

،تصویر کا کیپشن

نیب میں گذشتہ کئی برسوں سے زیر التوا بہت سے مقدمات میں یا تو اب تک ریفرنس ہی دائر نہیں ہوا اور اگر کسی کیس میں ریفرنس دائر ہو چکا ہے تو فرد جرم عائد نہیں ہو سکی

پاکستان میں سنہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں احتساب کے عمل کو تیز، شفاف اور مؤثر بنانے کے اپنے انتخابی وعدوں کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا۔

جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بھی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ملک میں احتساب کے عمل کو تیز بنانے سمیت ماضی میں سست روی کا شکار ہو جانے والے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کی یقین دہانی کروائی۔

نیب کی جانب سے گذشتہ دو برسوں کے دوران درجنوں برسوں پرانے مقدمات پر دوبارہ سے کارروائی کا آغاز اس وعدے کے ساتھ کیا گیا کہ ان کیسز کو بہت جلد ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاہم ان سب وعدوں، اعلانات اور یقین دہانیوں کے باوجود بہت سے ایسے پرانے مقدمات پر جن پر کارروائی انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

پیر کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت 10 شریک ملزمان پر پارک لین ریفرنس میں فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اگرچہ اس مقدمے کی گونج دسمبر 2018 میں اُس وقت سننے میں آئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو راولپنڈی نیب نے اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگجانی میں قیمتی اراضی کو سستے داموں خریدنے کی الزام میں بلایا تھا۔

تاہم یہ یاد رہے کہ پارک لین ریفرنس بھی کوئی ایک، دو نہیں بلکہ برسوں پرانا کیس ہے۔ اس سے قبل بھی سنہ 1997 میں آصف علی زرداری پر اس وقت کے احتساب بیورو نے اسلام آباد کی نواحی علاقے سنگجانی میں 2460 کنال کی قیمتی اراضی کو سستے داموں خریدنے کے الزام میں دائر کیا تھا۔

تاہم ناکافی شواہد اور عدم ثبوتوں کے باعث اس مقدمہ کو بند کر دیا گیا۔ اس وقت احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان تھے۔

پارک لین ریفرنس کی مزید تفصیلات بیان کرنے سے قبل آئیے چند ایسے ہی دہائیوں پرانے نیب کیسز کا سرسری جائزہ لیتے ہیں جو برس ہا برس سے نیب کے پاس مختلف وجوہات کی بنا پر زیر التوا ہیں۔

نیب میں گذشتہ کئی برسوں سے چلنے والے بیشتر مقدمات میں اب تک ریفرنس ہی دائر نہیں ہوا اور یہ بنیادی تحقیق کی سطح پر ہی ہیں یا اگر ریفرنس دائر ہو بھی چکا تو فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی۔ اسی طرح بہت سے مقدمات میں ملزمان دیگر عدالتوں سے ضمانت پر ہیں اور ان کے کیسز میں کارروائی سست روی کا شکار ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

چوہدری پرویز الہی: ’ملک میں نامعلوم درخواستوں پر بے بنیاد مقدمات قائم کرنے اور تحقیقات کے سلسلے کو ختم ہونا چاہیے‘

چوہدری برادران کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا مقدمہ

سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت کے خلاف بھی نیب گذشتہ 20 برس سے ایک کیس میں تفتیش کر رہا ہے اور اب تک نہ اس کیس میں کوئی ریفرنس دائر کیا جا سکا ہے نہ ہی نیب کچھ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

نیب ریکارڈ کے مطابق چار جنوری 2000 میں نیب نے اُس وقت کے وفاقی وزیر چوہدری شجاعت اور ان کے بھائی چوہدری پرویز الہی کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ایک مقدمہ قائم کیا تھا۔

نیب کے دعوے کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے چوہدری برادران نے قومی خزانے کو تقریباً 2.42 ارب کا نقصان پہنچایا۔

چوہدری برادران کے خلاف یہ کیس بھی سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بنایا گیا تھا۔

اس کیس میں چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے غیر قانونی طریقوں سے ملک اور بیرون ملک آمدن سے زائد اثاثے بنائے ہیں۔

نیب ریکارڈ کے مطابق اس کیس کی کارروائی میں سنہ 2000 سے سنہ 2002 کے آخر تک تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ اس کے بعد مسلم لیگ ق کے قیام اور مشرف حکومت میں شامل ہونے کی بعد اس کیس میں کارروائی کو سست روی کا سامنا رہا۔

چوہدری بردران کے خلاف اس کیس کی گونج تقریباً 18 برس بعد دوبارہ سنہ 2018 میں سنی گئی جب نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے عہدے کا چارج سنبھالا۔

آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب کا موقف ہے کہ چوہدری برادران کے اثاثے سنہ 1985 سے لے کر اب تک کئی گنا تک بڑھ چکے ہیں۔

اس کیس میں نیب کی جانب سے اب تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا ہے تاہم اب تک اس حوالے سے متعدد انکوائریاں کی گئی ہیں۔

نیب کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ گذشتہ ادوار میں اس کیس میں مختلف وجوہات کی بنا پر سست روی کا مظاہرہ کیا گیا۔

نیب اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ کیس کو بند فائلوں میں رکھ دیا گیا تاہم اس معاملے میں کارروائی میں تاخیر اور سستی ضرور ہوئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ کیس میں تاخیر کی ایک سب سے بڑی وجہ چوہدری برادران کی بیرون ملک جائیداد اور اثاثوں کی تفصیلات کے سلسلے میں ان ممالک سے رابطوں اور خط و کتابت کی سبب ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک کے اثاثوں کی مکمل تفصیل اور تفتیش کے لیے بیرون ملک سے رابطے اور وہاں سے مطلوبہ دستاویزات حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTV NEWS

،تصویر کا کیپشن

چوہدری برادران کی جانب سے اس کیس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے نیب پر ’پولیٹیکل انجینیئرنگ‘ کا الزام عائد کیا ہے

چوہدری برادران کی جانب سے اس کیس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے جس میں انھوں نے اس مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کرنے پر نیب چیئرمین کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے نیب پر ’پولیٹیکل انجینیئرنگ‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ نیب گذشتہ 19 برس سے زائد عرصے میں ان کے خلاف ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکی اور نیب کا ادارہ ایک نامعلوم شکایت کنندہ کی درخواست پر گذشتہ 20 برس سے ان کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔

چند روز قبل چوہدری پرویز الہی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ملک میں نامعلوم درخواستوں پر بے بنیاد مقدمات قائم کرنے اور تحقیقات کے سلسلے کو ختم ہونا چاہیے۔‘

اس کیس میں رواں برس مئی کے اوائل میں ہونے والی اس سماعت میں لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے رواں مئی میں سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی اس مقدمے کی سماعت کے لیے ذاتی حیثیت میں لاہور ہائی کورٹ پیش ہوئے تھے۔

اس کیس میں چوہدری برادران کی وکیل امجد پرویز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’نیب کی جانب سے یہ کیس بے بنیاد ہے، نیب 19 برس سے زائد عرصے میں اس کیس میں ایک بھی ریفرنس دائر نہیں کر سکا۔ یہ کیس اس وقت صرف سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا تھا اور آج بھی اس مقدمے کو ان کے موکلین پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

ایڈوکیٹ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’نیب کا کہنا تھا کہ ان (چوہدری برادران) کی اثاثے سنہ 1985 سے سنہ 2020 تک کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ نیب بیرون ملک سے اگر کوئی اثاثوں کی تفصیل نہیں لا سکا تو ملک میں ہی سے کچھ ایسا ثابت کر دیتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نیب اپنی تفتیش میں ملک اور بیرون ملک سے کچھ ایسا ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نیب اپنے مقدمے میں چوہدری برادران کے تمام اہلخانہ کو اس مقدمے میں شامل کرتا ہے جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر اولاد خود کفیل ہے اور اپنا کاروبار کرتے ہیں تو وہ زیر کفالت نہیں ہیں۔‘

امجد پرویز کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے اور نیب اس حوالے سے جواب تیار کر کے جلد جمع کروائے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اس مقدمے کی اگلی سماعت کی تاریخ نیب کے جواب جمع کروانے کے بعد دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/PTI

،تصویر کا کیپشن

سبطین خان سنہ 2007 میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں صوبائی وزیر معدنیات تھے اور انھیں چنیوٹ میں مائنز ٹھیکہ کیس میں گذشتہ برس گرفتار بھی کیا گیا تھا

چنیوٹ مائنز اینڈ منرلز کیس

پاکستان کی صوبہ پنجاب کے شہر چنیوٹ میں خام لوہے کی ذخائر تلاش کرنے کا ٹھیکہ کسی گمنام کمپنی کو دینے کا کیس بھی نیب میں گذشتہ ایک دہائی سے چل رہا ہے اور اس مقدمے میں تفتیش اور گرفتاریاں تو ہوئیں لیکن آج تک ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا۔

نیب دستاویزات کے مطابق اس کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی سردار سبطین خان پر ’ارتھ ریسورسزپرائیویٹ لمیٹڈ‘ نامی من پسند کمپنی کو ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ دینے اور قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

نیب دستاویزات کے مطابق سبطین خان سنہ 2007 میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں صوبائی وزیر معدنیات تھے اور انھیں چنیوٹ میں مائنز ٹھیکہ کیس میں گذشتہ برس گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

نیب دستاویزات کے مطابق ملزم کی جانب سے جولائی 2007 میں میسرز ارتھ ریسورس پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کرنے کے غیرقانونی احکامات جاری کیے۔

نیب دستاویزات کے مطابق ملزم سبطین خان نے شریک ملزمان ارشد وحید و دیگر سے ملی بھگت کر کے ٹھیکہ خلاف قانون فراہم کیا، ملزم محمد سبطین نے چنیوٹ کے اربوں مالیت کے معدنی وسائل 25 لاکھ مالیت کی کمپنی کو فراہم کیے تھے۔

پنجاب حکومت نے سنہ 2018 میں نیب کو آگاہ کیا جس پر دوبارہ کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

نیب حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان اور دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ نجی کمپنی ماضی میں کان کنی کے تجربے کی حامل نہیں تھی، تجربہ نہ ہونے کے باوجود سابق وزیر نے ملی بھگت سے کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کیا، پنجاب مائنز ڈیپارٹمنٹ نے بولی میں دوسری کمپنی کو شامل ہی نہیں کیا اور نہ ہی ملزمان نے ایس ای سی پی کو منصوبے کی تفصیلات فراہم کیں۔

نیب حکام کے مطابق لاہور ہائی کورٹ سے کیس ریفر ہونے پر نیب نے کارروائی کا آغاز کیا۔

واضح رہے سردار سبطین خان سنہ 2018 کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حقلہ پی پی 88 میانوالی 4 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں اور موجودہ کابینہ میں وزیر جنگلات ہیں۔

یہ ٹھیکہ2007 میں پرویزالٰہی دور حکومت میں دیا گیا تھا۔ سنہ 2008 میں شہباز شریف نے پنجاب میں عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد جب اس سکینڈل کی چھان بین کروائی تو مذکورہ کمپنی نے لاہور ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا جو ڈھائی سال تک لاگو رہا۔

بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے اس معاہدے کی تمام تفصیلات کا بغور جائزہ لیا اور ایک حکم کے ذریعے اسے منسوخ کر دیا۔

عدالت عالیہ نے حکومت پنجاب کو حکم جاری کیا کہ یہ معاملہ نیب کے حوالے کیا جائے۔ عدالت نے کہا تھا کہ ارتھ ریسورسز پرائیوٹ لمیٹیڈ (ای آر پی ایل) کے ساتھ 30 سے 35 ارب ڈالر کے خام لوہے کی تلاش کا یہ معاہدہ قومی مفاد کو سامنے رکھے بغیر کیا گیا۔

یہ معاملہ پہلے اس وقت کی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اینٹی کرپشن کو بھجوایا تھا لیکن اینٹی کرپشن متعدد سال اس پر اپنی تفتیش مکمل نہ کر سکی پھر یہ معاملہ نیب کے حوالے کر دیا گیا۔

اس مقدمے میں تحریک انصاف کے ایم پی اے سبطین خان کے وکیل حیدر رسول مرزا کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انھیں تفتیش کرنے والوں کی طرف سے کلین چٹ مل چکی ہے اور یہ کیس نیب کا بنتا ہی نہیں ہے۔

پنجاب منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹیڈ میں مبینہ غیر قانونی کنٹریکٹ ہوا تھا اور یہ کمپنی شعبہ معدنیات کے ماتحت قائم ہوئی۔ اس کمپنی کے مالک ارشد وحید نے صوبائی محکمہ پنج من کے ساتھ لوہے کے معدنی ذخائر نکالنے کا معاہدہ دسمبر 2007 میں کیا تھا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مقدمے کی ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پی یو این جے ایم آئی این نے 117.59 ملین خرچ کر دینے کے بعد 610 ملین میٹرک ٹن لوہا چنیوٹ میں دریافت کیا جس کی مالیت 915 ارب ڈالرز بنتی ہے۔

معاہدے میں حکومت 20 فیصد پر راضی ہوئی جبکہ ارشد وحید کو اس کا 80 فیصد ملنا تھا۔ چھ برس معاملے کی تحقیقات کے بعد اینٹی کرپشن نے ایف آئی آر 10/518 پی پی سی کے سیکشن 471،468اور 420 کے تحت سات افراد کے خلاف درج کی جن میں موجودہ پی ٹی آئی ایم پی اے اور پنجاب کے سابق وزیر برائے مائینز اینڈ منرلز محمد سبطین خان ،سابق سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز پنجاب امتیاز احمد چیمہ ،سیکریٹری پی یو این جے ایم آئی این بشارت اللہ ،جنرل منیجر پی یو این جے ایم آئی این محمداسلم، چیف انسپکٹرز آف مائنز پنجاب میاں عبدالستار، ٹیکنیکل ایڈوائزر پی یو این جے ایم آئی این ادریس رضوانی اور سی ای او ای آر پی ایل ارشد وحیدر شامل تھے۔

ای پی آر ایل کے مالک ارشد وحید پنجاب حکومت کے ان کی کمپنی سے کنٹریکٹ منسوخ کرنے کے بعد جلد ہی ملک سے باہر چلے گئے۔ ارشد وحید تاحال امریکا سے پاکستان واپس نہیں آئے۔

ای پی آر ایل اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ گئی لیکن سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

تاہم رواں برس 16 جولائی کو ہونے والے نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں اس مقدمے میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

نواز شریف اور شہباز شریف پر اختیارات کا ناجائز استعمال

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے خلاف بھی ایک مقدمہ گذشتہ 20 برس سے نیب کی زیر تفتیش ہے اور آج تک اس کیس میں بھی ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا۔

یہ مقدمہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سنہ 1998 میں رائیونڈ سے اپنی رہائش گاہ جاتی امرا تک سڑک کی مبینہ غیر قانونی تعمیر کروانے کا ہے جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر تقریباً 126 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب ریکارڈ کے مطابق یہ مقدمہ اپریل 2000 میں قائم ہوا تھا تاہم تقریباً 20 برس گزرنے بعد اب تک اس میں ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا۔

جبکہ سنہ 2018 سے اب تک متعدد بار سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اس مقدمہ میں احتساب عدالت طلب کیا جا چکا ہے۔

نیب کے مطابق نواز شریف نے 1998 میں بطور وزیراعظم اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جاتی امرا تک سڑک تعمیر کروائی اور ان کے حکم پر سڑک کی چوڑائی 20 فٹ سے 24 فٹ کی گئی جس سے لاگت میں مزید اضافہ ہوا۔

نیب کا کہنا ہے کہ 17 اپریل 2000 کی تفتیش کے مطابق منصوبے پر 12 کروڑ 56 لاکھ روپے سے زائد کرپشن سامنے آئی جب کہ سنہ 2016 تک یہ انکوائری التوا کا شکار رہی اور سنہ 2016 کے بعد چیئرمین نیب نے براہ راست کیس کی تحقیقات کا حکم دیا۔

نیب کے مطابق سڑک کی تعمیر کے لیے ضلع کونسل کے کئی منصوبے بند کرائے گئے اور ایک سکول اور ڈسپنسری کا بجٹ بھی سڑک کی تعمیر پر خرچ کیا گیا۔

واضح رہے یہ مقدمہ بھی سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔ اس مقدمے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے اراکین اسے سیاسی بنیادوں پر قائم کرنے اور نواز لیگ کی قیادت کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پارک لین اراضی سکینڈل کیس

اور اب ذکر اس کیس کا جس میں سابق صدر زرداری سمیت دیگر ملزمان پر آج فردِ جرم عائد ہوئی ہے۔

اس کیس میں جولائی کے مہینے میں ہونے والی سماعت کے دوران سابق صدر کے وکیل فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ نیب نے قرض میں فراڈ کا کیس بنایا لیکن قرض دینے والوں کو ملزم ہی نہیں بنایا۔ صرف ان کے موکل آصف زرداری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ وہ پارک لین کمپنی سے پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے۔

پارک لین سٹیٹ کمپنی آصف زرداری، بلاول بھٹو اور دیگر افراد کی مشترکہ ملکیت ہے اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ریکارڈ کہ مطابق اس کمپنی کے ایک لاکھ 20 ہزار شیئرز ہیں جن میں سے بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری 30، 30 ہزار شیئرز کے مالک ہیں۔

نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس میں آصف علی زرداری کو پارک لین کمپنی کے ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

نیب ریکارڈ کے مطابق کراچی کی ایک نجی کمپنی پارک لین اسٹیٹ نے سنہ 2008 فیصل سخی بٹ نامی شخص سے سنگجانی کے قریب 2460 کنال اراضی 6 کروڑ 20 لاکھ میں خریدی تھی۔ جبکہ فیصل سخی بٹ نے بھی یہ اراضی امریکہ میں مقیم ناصر خان نامی شخص سے خریدی تھی۔

ناصر خان نے بھی یہ زمین سنہ 1994 میں چھ کروڑ 20 لاکھ کے عوض خریدی تھی اور احتساب بیورو کی جانب سے 1997 میں آصف علی زرداری پر قائم کیے گئے کیس میں ناصر خان نامی شخص کو آصف علی زرداری کا فرنٹ مین قرار دیا گیا تھا۔

نیب ریکارڈ، اطلاعات اور اخباری تراشوں کے مطابق سنہ 1997 سے سنہ 2007 تک ناصر خان ہی اس زمین کے مالک رہے جبکہ سنہ 2008 میں فیصل سخی بٹ نامی شخص نے جو مبینہ طور پر آصف علی زرداری کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے نے اسلام آباد کے سول کورٹ میں ایک درخواست دائر کی۔

درخواست کے مطابق انھوں نے یہ 2460 کنال 13 مرلے کی زمین ناصر خان سے 6 کروڑ 20 لاکھ میں خریدی ہے اور اس کے عوض اسے 6 کروڑ 10 دس لاکھ ادا کر دیے ہیں۔

جبکہ دس لاکھ کی ادائیگی باقی ہے اور وہ ادا کر کے زمین کی ملکیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

سنہ 2008 کے وسط میں سول عدالت نے مقدمے میں فیصل سخی بٹ کے حق میں قرار دیتے ہوئے معاملے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا۔ جس کے جواب میں ناصر خان نے اپنے وکیل کے ذریعے امریکہ میں کاروباری مصروفیات اور بیماری کا عذر پیش کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے پر معذرت کرتے ہوئے فیصلہ فیصل سخی بٹ کے حق میں ہونے دیا۔

سنہ 2008 کے آخر میں جب اسلام آباد عدالت کی جانب سے اس زمین کا انتقال فیصل سخی بٹ کے نام کیا جانا تھا تب فیصل سخی بٹ کے وکیل کی جانب سے استدعا کی گئی ہے اس زمین کا انتقال پارک لین سٹیٹ پرائیویٹ کے نام پر کیا جائے۔

تب پہلی مرتبہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی ملکیتی پارک لین اسٹیٹ کا نام منظر عام پر آیا۔ اور جنوری 2009 میں اس زمین کی ملکیت پارک لین اسٹیٹ کے نام کر دی گئی۔

اس کیس میں آصف علی زرداری کی گزشتہ برس گرفتاری ڈالی گئی جبکہ دسمبر 2019 کو ان کو اس کیس میں ضمانت ملی تھی۔

آصف زرداری پر اس کیس میں سستی اراضی خریدنے کے ساتھ ساتھ پروتھینون نامی ایک کمپنی قائم کر کے قرضے کی رقم میں غبن کا الزام بھی ہے۔

نیب کے مطابق آصف زرداری پر الزام ہے کہ انھوں نے پارک لین اراضی کمپنی کے لیے ایک فرنٹ کمپنی قائم کی جس کا نام پروتھینون تھا۔

ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے بطور صدر پاکستان کے نیشنل بینک کو حکم دیا کہ اس کمپنی کو قرض دیا جائے، جسے بعد میں دیگر جعلی اکاؤنٹس کی مدد سے مبینہ کالے دھن کو سفید کر دیا گیا اور یہ قرضہ کبھی واپس نہیں کیا گیا۔

اس فراڈ کے نتیجے میں نیب نے پارک لین کی کراچی میں جائیداد کو ضبط کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

نیب سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں بنائی گئی تھی (فائل فوٹو)

نیب کے مقدمات پر قانونی ماہرین کی رائے

نیب کی جانب سے یہ مقدمات التوا کا شکار کیوں ہے اس بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہےکہ نیب کا قانون ہمیشہ سے متنازع رہا ہے اور اس کو بلاشبہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

سابق اٹارنی جنرل اور ماہر قانون عرفان قادر نے اس ضمن میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی کیس بنتا ہی نہیں ہے تو نیب کو اس کو بند کر دینا چاہیے، یہ نیب کی اتنے برسوں کی نا اہلی کو ثابت کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نیب کو ہر حکومت میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور متعدد مقدمات کا کئی برس گزرنے کے بعد منطقی انجام تک نہ پہنچنا یا اس میں ریفرنس تک دائر نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’قومی احتساب بیورو کے زیرالتوا مقدمات، جن پر آج تک ریفرنس دائر نہیں کیا گیا یا ان کی تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں، پر خود نیب کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔'

بیرسٹر سعد رسول کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو کا ادارہ ہمیشہ سے ہی متنازع رہا ہے، اس ادارے کی تشکیل سابق فوجی آمر جنرل مشرف کے دور میں کی گئی اور اس کے قانون کو ’ڈریکونین لا‘ بھی کہا جاتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے سے جو امیدیں اور توقعات وابستہ تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں اور مختلف ادوار میں اسے سیاسی مقاصد یا مفاہمتی سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے مقدمات میں تفتیش مکمل نہ ہونے یا سست روی کا شکار ہونے کی تمام ذمہ داری ہم صرف ادارے پر نہیں ڈال سکتے بلکہ اس میں گذشتہ ادوار کی حکومتوں کا عمل دخل بھی ہے۔

سعد رسول کا کہنا تھا کہ ’ملک میں 2000 کی دہائی کے وسط سے لے کر سنہ 2016 تک احتساب کا عمل مختلف سیاسی وجوہات کی بنا پر انتہائی سست روی کا شکار رہا۔‘

’اس ادارے کی خودمختاری کی باتیں تو سب نے کیں لیکن اس پر عمل کوئی نہ کر سکا۔‘