سپریم کورٹ کے کراچی میں نصب بِل بورڈز کے حوالے سے ریمارکس: لوگ ان عمارتوں میں رہتے کیسے ہیں جہاں ہوا جاتی ہے نہ روشنی

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی کے میئر وسیم اختر سے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس اختیار نہیں ہیں تو وہ اپنا منصب چھوڑ دیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ شہر میں جاری لوڈشیڈنگ اور کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات پر بجلی فراہم کرنے والی نجی کمپنی کے الیکٹرک کے چیف آپریٹنگ افسر سمیت ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ شہر میں سرکلر ریلوے، غیر قانونی بل بورڈز، تجاویزات سمیت دیگر معاملات کی سماعت کر رہا ہے۔

دورانِ سماعت شہر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی زیرِ بحث آ گیا اور چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ کہاں ہیں کے الیکڑک کے سربراہان؟ انھوں نے سی ای او کے الیکڑک کو طلب کرلیا اور ریمارکس دیے کہ شہر میں گھنٹوں گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، اور بجلی کی ترسیل کا نظام برباد ہو چکا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی سے کے الیکٹرک اربوں ڈالر کما رہا ہے اور اسی رقم سے ملک کا قرضہ بھی ادا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت مافیا خلاف کارروائی نہیں کرتی اگر ان کے خلاف کارروائی کرے گی تو اس کا دانہ پانی بند ہو جائے گا۔۔

یہ بھی پڑھیے

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آٹھ دس لوگ کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں، کے الیکٹرک کے سی ای او کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے، پوری انتظامیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔‘

میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سب جانتے ہیں کہ جو محکمے عوام کے مسائل حل کر سکتے ہیں، وہ کے ایم سی کے پاس ہیں ہی نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کا ایک ہی حل کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کریں اور سارے اختیارات اور وسائل اس کے حوالے کریں۔

سماعت کے وقفے کے بعد کے الیکٹرک کے چیف آپریٹنگ افسر مونس عبداللہ علوی عدالت میں پیش ہوئے لیکن یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت کل ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہKarachi Commissioner Office

مکانوں پر بل بورڈ کی وجہ سے ہوا ہی بند

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

کراچی میں غیر قانونی بل بورڈز کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پورے شہر میں بل بورڈ لگے ہوئے ہیں، اور اگر یہ بل بورڈ گر گئے تو بہت نقصان ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمارتوں پر اتنے بل بورڈز لگے ہوئے ہیں کہ کھڑکیاں اور ہوا بند ہوگئی ہے، لوگ ان عمارتوں میں رہتے کیسے ہیں جہاں نہ ہوا جاتی نہ روشنی، نہ دن کا پتہ چلتا ہے نہ رات کا۔ حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے، ہر بندہ خود مارشل لا بنا بیٹھا ہے۔‘

شاہراہ فیصل پر گرنے والے بل بورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ی بل بورڈز کس نے لگایا تھا، ایس ایس پی جنوبی نے عدالت کو بتایا کہ دو نامزد ملزمان اشرف موتی والا و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اور انھیں تلاش کررہے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا وہ سمندر کے نیچے چلے گئے ہیں؟ جائیں اور ان کو آدھے گھنٹے میں ڈھونڈھ کر لائیں۔‘

ڈی ایم سے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لوگ اپنے گھروں پر بل بورڈ لگا دیتے ہیں، جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ گذشتہ پانچ سالوں کی تحقیقات کراتے ہیں کہ کس نے بل بورڈز لگائے۔

چیف جسٹس نے انہیں مخاطب ہوکر کہ آپ لوگوں نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، کوئی کراچی کے معاملے پر سنجیدہ نہیں۔ انھوں نے تمام سائن بورڈ اور بل بورڈز کو فوری ہٹانے کاحکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

عدالت نے کمشنر کراچی کو سائن بورڈ ہٹانے کا مکمل اختیار دے دیا اور ہدایت جاری کی کہ تمام سرکاری مقامات سے بل بورڈ اور سائن بورڈ ہٹائے جائیں اور نجی املاک پر نصب خطرناک سائن بورڈ بھی فوری ہٹا دیں۔

سرکلر ریلوے پر پل بن رہے ہیں

کراچی میں سرکلر ریلوے کی بحالی اور روٹ پر تجاوزات کے بارے میں درخواست کی بھی سماعت ہوئی، سیکریٹری ریلوے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ٹریک تقریباً کلیئر کرالیا گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے انھیں مخاطب ہوکر کہا کہ آپ ہمارے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ آپ کا ایک سال ختم ہوگیا ہے، عدالت کی دی ہوئی مدت ختم ہوگئی ہے اور ابھی تک سرکلر ریولے بحال کیوں نہیں ہوئی۔

سیکریٹری ریلوے کا کہنا تھا کہ گرین لائن کی وجہ سے کچھ مقامات پر رکاوٹ ہے، عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے سوال کیا کہ صوبائی حکومت نے کیا کیا ہے ؟ ایڈووکیٹ جنرل نے انھیں بتایا کہ حکومت انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برجز بنا رہے ہیں تاکہ رکاوٹ ختم ہوجائے، اس سال بجٹ میں ان منصوبوں کے لیے پانچ ارب روپے رکھے ہیں جن میں سے تین ارب جاری ہوچکے ہیں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ آپ جو بن پائے کریں لیکن مقررہ مدت میں کام ہونا چاہیے۔

عدالت نے حکومت سندھ کو مقررہ مدت میں انڈر پاس اور فلائی اوور بنانے اور سرکلر ریلوے کے ٹریک کے قریب فینسنگ اور دیگر کام فوری مکمل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

چیف جسٹس کی گاڑی کا ٹائر گندے پانی میں

کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں نکاسی آب اور گندگی پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے حکام کو بتایا کہ ان کی گاڑی کا ٹائر بھی گٹر میں گر گیا تھا۔ انھوں نے پوچھا ’شہر میں صفائی کا ذمہ دار کون ہے، کوئی ہے جو اس شہر کو صاف کرے؟‘

ان کا کہنا تھا ’مجھے تو لگتا ہے کراچی کے لوگوں کے ساتھ دشمنی ہے، سندھ حکومت کی بھی اس شہر سے دشمنی ہے اور لوکل باڈی بھی، میئرز نے شہر کو تباہ کردیا ہے، لوگ آتے ہیں جیب بھر کر چلے جاتے ہیں شہر کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا۔‘

میئر، کراچی کی جان کیوں نہیں چھوڑتے

دورانِ سماعت چیف جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ میئر کراچی کہتے ہیں کہ میرے پاس اختیارات نہیں، لوگوں نے ان کو ووٹ دیا تھا کہ کراچی کے لیے کچھ کریں گے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کہاں ہے میئر کراچی ؟

میئر وسیم اختر نشست سے کھڑے ہوگئے، چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ اگر اختیارات نہیں تو گھر جاؤ، کیوں میئر بنے بیٹھے ہو۔‘

عدالت کے پوچھنے پر کہ وہ کب تک عہدے سے استعفیٰ دیں گے، وسیم اختر نے انھیں بتایا کہ 28 اگست کو مدت ختم ہوگی، جس پر چیف جسٹس نے ریکارکس دیے’جاؤ جان چھوڑو شہر کی۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’پورے شہر میں کچرا اور گندگی ہے ہر طرف تعفن کی صورتحال ہے، وزیر اعلیٰ صرف ہیلی کاپٹر پر دورہ کرکے آجاتے ہیں ہوتا کچھ نہیں ہے، وزیروں کو دیکھو مسکراتے ہویے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC Sport

،تصویر کا کیپشن

مئیر کراچی وسیم اختر عدالت میں سماعت کے موقع پر

ہل پارک کی اراضی پر قبضہ

کراچی کے سماجی تنظیم شہری کے نمائندے امبر بھائی نے عدالت کو بتایا کہ ہل پارک کی مجموعی زمین 56 ایکڑ ہے، پی ایس سی ایچ ایس نے چار بنگلے الاٹ کردیے ہیں اور پہاڑی کاٹ کر بنگلے بنا دیے گئے ہیں۔

کمشنر کراچی افتخار شاہلوانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہاں پر تیرہ گھر بنائے گئے ہیں جن کے مکینوں کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نے تو نالوں پر ہی قبضہ کرلیا ہے ، شاہراہ قائدین کے ساتھ نالہ اب نظر ہی نہیں آتا، انہوں نے ہل پارک کی زمین پر قائم گھروں کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا اور کمشنر کراچی کو قبضہ ختم کراکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔

یاد رہے کہ پی سی ایچ ایس قیام پاکستان کے بعد کراچی کی پہلی سوسائٹی ہے، جس کو اس وقت کے امرا نے آباد کیا تھا۔

کلفٹن میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی زمین سے قبضہ ختم کرانے کی پیش رفت کے بارے میں اتھارٹی نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق زمین پر شجرکاری کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’آپ کے جو ہینگرز ہیں یہ کس کام کے ہیں؟ چالیس پچاس جہاز کھڑے کیے ہوئے ہیں، جتنا کمرشل کرنا تھا کرلیا مزید کوئی کمرشل کام نہیں کریں گے۔‘