زرتاج گل کے بیان پر بحث: تحریک انصاف (اور دیگر جماعتوں کے) رہنماؤں کے وہ بیانات جنھوں نے عوام کو حیران اور پریشان کیا

سما ٹی وی

،تصویر کا ذریعہSAMAA TV

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ’کلر سمائل‘ کی مداح اور ملک میں بارشوں کا کریڈٹ بھی خان صاحب کو دینے والی وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل اپنے بیانات کے باعث اکثر خبروں میں رہتی ہیں۔

وہ لوگ جو پرائم ٹائم ٹی وی ٹاک شوز نہیں دیکھتے یا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو باقاعدگی سے استعمال نہیں کرتے، ان کو زرتاج گل کے حالیہ بیان کے متعلق بتاتے ہیں جس کی باعث وہ ایک بار پھر سے سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پر ہیں۔

گذشتہ رات نجی ٹی وی چینل سما پر میزبان ندیم ملک کے پروگرام میں دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی جانب سے زرتاج گل کو مدعو کیا گیا۔

پروگرام کے دوران زرتاج گل نے کہا ’میں میاں جاوید لطیف صاحب کو مبارک باد دینا چاہتی ہوں کہ آج ان کی پارٹی جسے جنرل ضیا الحق نے بنایا تھا، جہاں تک میرا خیال ہے آج اس کا یومِ پیدائش کا دن ہے۔‘

اس موقع پر میزبان ندیم ملک ان کی تصحیح کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ارے خدا کا نام لیں، آج 17 اگست، جنرل ضیا کا یومِ وفات ہے۔ آج کے دن حادثہ ہوا تھا اور ان کی برسی ہے۔‘

اس موقع پر پروگرام میں موجود دوسری پارٹیوں کے اراکین جن میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر مرتضیٰ وہاب شامل ہیں، اپنی مسکراہٹ پر قابو پانے کی کوششیں کرتے اور مسلم لیگ نواز کے میاں جاوید لطیف کچھ لکھتے لکھتے سر اٹھا کر نفی میں سر ہلاتے نظر آ رہے ہیں۔

ندیم ملک کی تصحیح کے بعد انھوں نے کہا ’اچھا اگر برسی ہے تو انھیں (مسلم لیگ ن) کو برسی بھی منانی چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کچھ عرصہ قبل زرتاج گل کو کووڈ 19 میں 19 کی غلط تشریح کرنے پر بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم ایسے بیانات کے لیے صرف وزیرِ ماحولیات ہی مشہور نہیں بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف کے دیگر اراکین بھی وقتاً فوقتاً ایسے اقوال فرماتے رہتے ہیں جنھیں سن کر ایک عام انسان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔

مراد سعید کے 200 ارب

،تصویر کا ذریعہMurad Saeed Facebook

سنہ 2018 میں الیکشن مہم کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید کا کہنا تھا کہ آپ عمران خان کو حلف لینے دیں، اس کے اگلے دن وہ 200 ارب جو ملک سے باہر پڑے ہیں، عمران خان وہ رقم ملک واپس لے کر آئیں گے۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان اس رقم سے پاکستان پر قرض 100 ارب آئی ایم ایف کے منھ پر دے ماریں گے۔‘

عمران خان کو وزیرِ اعظم بنے دو سال ہو چکے ہیں لیکن ان 200 ارب کا بھی کو کو کورینا کی طرح کوئی ’اتا پتا معلوم نہیں۔‘

فیصل واوڈا کا ایک ہفتے میں ایک کروڑ نوکریوں کی بارش کا دعویٰ

ایک ٹی وی ایک شو کے دوران فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت تین مہینے کے اندر اندر نوکریوں کی بارش کر دے گی اور ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’اتنی نوکریاں ہوں گی کہ بندے کم پڑ جائیں گے۔‘ اس موقع پر انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایسا نہ ہو تو ’میری تکہ بوٹی کر دیجیے گا۔‘

سوشل میڈیا پر آج بھی صارفین پوچھتے نظر آتے ہیں کہ فیصل واوڈا کی تکہ بوٹی کہاں سے ملے گی؟

باہر سے لوگ نوکریاں کرنے پاکستان آئیں گے، عمران خان

،تصویر کا ذریعہReuters

یہ صرف کپتان کے نورتن ہی نہیں جو ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ خود وزیرِ عمران خان کے متعدد بیانات مشہور ہیں لیکن یہاں ہم ان کے صرف دو بیانات کی بات کریں گے۔

الیکشن سے قبل عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد ملک اتنی تیزیر سے ترقی کرے گا کرے گا کہ باہر سے لوگ نوکریاں کرنے پاکستان آئیں گے۔

باہر سے نوکریاں کرنے کے لیے آنے والوں کا تو ہمیں علم نہیں لیکن عمران خان کے دورِ حکومت میں ہزاروں ملازمت پیشہ افراد نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جس کے باعث ان کی حکومت کو اکثر تنقید کا سامنا رہتا ہے۔

اس کے علاوہ عمران خان نے انتخابات میں اپنی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی کامیابی کے بعد وکٹری سپیچ میں اعلان کیا تھا کہ وہ وزیرِ اعظم ہاؤس کو تعلیمی ادارے میں تبدیل کریں گے اور خود منسٹر انکلیو میں رہائش اختیار کریں گے۔

تاہم آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور عمران خان، وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہی رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

نقشہ تبدیل کرنے کا فائدہ، ’ہم مقبوضہ کشمیر جا سکتے ہیں‘: علی آمین گنڈا پور

،تصویر کا ذریعہ@PBC_Urdu

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

چند دن قبل جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں تحریکِ انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان علی آمین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ کشمیر کا نقشہ تبدیل کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اب ہم مقبوضہ کشمیر جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نے نقشہ میں کشمیر کو شامل کردیا اب میں وہاں جاسکتا ہوں گھوم پھر سکتا ہوں جس طرح انڈین فوج وہاں گھوم پھر رہی ہے۔‘

گنڈا پور صاحب کے دعوے میں کوئی حقیقت نہیں، اس لیے پلیز آپ ایسی کوئی کوشش مت کیجیے گا۔

صرف تحریک انصاف ہی قصوروار نہیں!

تاہم اگر آپ کا خیال ہے پی ٹی آئی کے رہنما ہی ایسے بیانات دیتے ہیں تو آپ کو بتاتے چلیں باقی پارٹیوں کے اراکین بھی کسی صورت کم نہیں۔

مسلم لیگ نواز کی صوبائی رکنِ اسمبلی حنا پرویز بٹ کی مثال ہی لے لیجیے۔

حِنا بٹ نے طنز و مزاح پر مبنی رسالے دی ڈیپینڈینٹ کی ایک ٹویٹ سچ سمجھتے ہوئے شئیر کر دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ برازیلین فٹ بالر نیمار کے پی ایس جتی میں شمولیت کی وجہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں سرمایہ کاری میں ہونے والی دلچسپی ہے۔

اس کے علاوہ ایک شو کے دوران جے یو آئی بایف کے سابق ایم این اے مفتی کفایت اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وکی لیکس والا وِکی جمائمہ خان کا کزن ہے۔

جس پر جمائمہ نے بھی ان کا خاصا ریکارڈ لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا: ’اس وقت کا انتطار کیجیے جب انھیں میرے دوسرے کزنز پاناما لیکس اور وکی پیڈیا کے بارے میں بھی علم ہو جائے گا۔‘