سارنگ جویو: ’رہائی سے قبل سوچا آج گولی مار کر لاش پھینک دی جائے گی‘

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سارنگ جویو، تاج جویو، سندھ، لاپتہ افراد

،تصویر کا ذریعہCourtesy Sarang Joyo Family

،تصویر کا کیپشن

نامور ادیب تاج جویو نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے سارنگ جویو کو سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے کی 'سزا دینے' کے لیے گرفتار کیا گیا ہے

سارنگ جویو کو جب رات کو ساتھ چلنے کو کہا گیا تو ان کا خیال تھا کہ انھیں گولی مار کر لاش پھینک دی جائے گی لیکن اس خدشے کے برعکس انھیں زندہ رہا کر دیا گیا۔

یہ بات سارنگ جویو کے والد سندھی ادیب تاج جویو نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتائی۔

سارنگ جویو 11 اگست کو کراچی کے علاقے اختر کالونی میں اپنے گھر سے مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے تھے۔

وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (زیبسٹ) کراچی میں سندھ ابھیاس اکیڈمی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ اور سندھ سجاگی فورم نامی تنظیم کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں۔

سارنگ کی اہلیہ سہنی جویو کی مدعیت میں دائر ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذکورہ رات ’25 سے 30 اشخاص جن میں کچھ کالی وردی میں تھے اور کچھ سادہ کپڑوں میں تھے، ہمارے گھر کے اندر داخل ہوئے اور خاوند کو زبردستی پکڑ کر ساتھ باہر لے گئے، جاتے ہوئے میرے شوہر کے دفتر کا بیگ، کمپیوٹر سی پی یو بھی اپنے ساتھ لے گئے، اور الماری کی تلاشی لی اور کچھ کتابیں اور تصاویر وغیرہ بھی ساتھ لے گئے۔‘

یہ بھی پڑھیے

تاج جویو اسلام آباد سے پیر کی صبح کراچی واپس پہنچے ہیں جہاں وہ سینیٹ کی انسانی حقوق کی سٹینڈنگ کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کے لیے گئے تھے لیکن اس اجلاس سے قبل ہی ان کا بیٹا بازیاب ہو کر گھر پہنچ گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Sarang Joyo Family

،تصویر کا کیپشن

سارنگ جویو نے اپنے والد تاج جویو کو بتایا کہ دوران تفتیش ان کو بار بار کہا جاتا تھا کہ گولی مار کر پھینک دیں گے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سارنگ جویو نے اپنے والد تاج جویو کو بتایا کہ دوران تفتیش ان کو بار بار کہا جاتا تھا کہ ’گولی مار کر پھینک دیں گے‘۔ اتوار کی شب جب ان کو کہا گیا کہ ’چلو‘ تو وہ سمجھے کہ ’آج زندگی کا آخری دن ہے، اس کو ویگو گاڑی میں سوار کیا گیا تاہم آنکھوں پر بدستور پٹی بندھی رہی۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’ایک مقام پر اتار کر کہا جاؤ پیشاب کرو، لیکن پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔ دس منٹ کے بعد اس نے خود پٹی کھولی تو کسی ویرانے جیسے علاقے میں خود کو پایا۔ وہاں لوگوں سے معلوم کیا کہ یہ جگہ کونسی ہے تو اس کو بتایا گیا یہ الآصف سکوائر سہراب گوٹھ ہے۔‘

تاج جویو کے مطابق جب سارنگ گھر کے قریب پہنچے تو وہاں بھی دو مشکوک لوگ موجود تھے جنھوں نے انھیں روکا، شیو بڑھ جانے کی وجہ سے سارنگ نے اپنا غلط نام بتایا اور گھر آ گئے۔

سارنگ جویو نے والد کو بتایا کہ ان کو تحویل میں لینے سے لے کر رہا کرنے تک ان کی آنکھیں مسلسل بند رکھی گئیں اور وہ تقریباً دو گھنٹے سفر کرتے رہے، جس کے بعد کسی مقام پر پہنچے جہاں اگلے تین روز تک انھیں رکھا گیا۔

تاج جویو کے مطابق سارنگ کو ’بے رحمانہ‘ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’وہ کروٹ بدل نہیں سکتے، بازو، جسم کے نیچلے حصے پر تشدد کے واضح نشانات ہیں، سونے کی اجازت نہ دینے سے لے کر تشدد کے تمام طریقے اپنائے گئے ہیں۔‘

اغوا کاروں نے سارنگ سے سیاسی وابستگی کے بارے میں معلوم کیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ سے رہا ہے لیکن وہ اس کے رکن نہیں رہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سندھ کے مسائل اور وسائل کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور جو لاپتہ لوگ ہیں وہ انھیں بھائی سمجھتے ہیں اس لیے ان کے لیے احتجاج کرتے رہے ہیں۔

سارنگ کے والد کے مطابق ’انھیں ایک گرم کمرے میں رکھا جاتا تھا اور جب تفتیش کی جاتی تو ایک ایسے کمرے میں لایا جاتا جہاں اے سی کی ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/Taj Joyo

،تصویر کا کیپشن

تاج جویو خود بھی جئے سندھ تحریک سے وابستہ رہے ہیں انھوں نے مسکراتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ 2020 میں بھی بیشتر سوال اور انداز وہی ہیں جن کا سامنا وہ 1970 میں دوران حراست کر چکے ہیں

’یہاں پر ہی تشدد بھی کیا جاتا تھا، تفتیش کے دوران سندھی اور اردو دونوں زبانیں سننے کو ملتیں اور دہرا رویہ اختیار کیا جاتا، ایک کہتا ’پڑھے لکھے نوجوان بیٹھ جاؤ‘، دوسرا ایک گندی گالی دے کر تھپڑ رسید کر دیتا تھا۔‘

سارنگ سے یہ بھی معلوم کیا گیا کہ وہ بیرون ملک کہاں جا چکے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ان کی بیوی ایک مرتبہ عمرے کے لیے گئی تھیں باقی وہ کبھی باہر نہیں گئے اور ان کا پاسپورٹ اس کا گواہ ہے۔

انھوں نے اپنے والد کو بتایا کہ ایک مرتبہ کسی شخص کو سامنے لا کر کھڑا کیا گیا جس نے کہا کہ ’ہاں یہ بھی میٹنگ میں تھا‘ جس پر سارنگ نے کہا کہ ’آنکھیں کھولیں تو اس کو دیکھوں یہ کون ہے کیونکہ یہ غلط بیانی کر رہا ہے۔‘

تاج جویو کے مطابق سارنگ کو پیشکش کی گئی کہ ’ہمارے لیے کام کرو تمھیں نواز دیں گے، جن دہشت گردوں کی رہائی کے لیے کام کر رہے ہو ان کو گرفتار کراؤ پھر بیرون ملک جا کر خوشحال زندگی گزارو۔‘

تاج جویو خود بھی جئے سندھ تحریک سے وابستہ رہے ہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ 2020 میں بھی بیشتر سوال اور انداز وہی ہیں جن کا سامنا وہ 1970 میں دوران حراست کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ سندھی زبان کے معروف ادیب اور مصنف تاج جویو نے اپنے بیٹے سارنگ جویو کی گمشدگی سمیت دیگر اعتراضات کی بنا پر صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے روبرو تاج جویو نے تحریری بیان دیا ہے اور بتایا ہے کہ سندھ سے 80 سیاسی کارکن لاپتہ ہیں جبکہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کی جانب سے بتایا گیا کہ صوبے سے تقریباً 500 افراد لاپتہ ہیں۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کی زیر صدارت اجلاس میں جبری گمشدگی کے بارے میں کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پیش نہیں ہوئے جس پر کمیٹی نے ناراضگی کا اظہار کیا اور متنبہ کیا کہ اس معاملے پر تحریک استحقاق پیش کی جا سکتی ہے۔

کمیٹی نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ لاپتہ افراد کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے۔