میری حکومت این آر او نہیں دے گی: وزیر اعظم عمران خان

پاکستان

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial

وزیر اعظم عمران خان نے حزب اختلاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششیں ناکام بنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔

جبکہ دوسری جانب وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے تمام اقدامات کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد رعایت کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ مشیر برائے داخلہ امور شہزاد اکبر نے 22 اگست کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حکومت پاکستان نے نواز شریف کی حوالگی سے متعلق ضروری قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

عمران خان کے مشیر کے مطابق نواز شریف کی حوالگی سے متعلق خط رواں برس دو مارچ کو لکھا گیا تھا تاہم شہزاد اکبر نے یہ نہیں بتایا کہ ابھی تک برطانوی حکومت سے کیا جواب موصول ہوا ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

'چاہے کچھ بھی ہوجائے، این آر آو نہیں ملے گا'

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چار ٹویٹس کی تھریڈ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’حزب اختلاف نےآج ایوانِ بالا میں فاٹیف سے متعلق 2 اہم قانونی مسودہ جات یعنی انسدادِ منی لانڈرنگ اور آئی سی ٹی وقف بلز کی منظوری رکوائی۔ میں روز اول سے کہہ رہا ہوں کہ ذاتی مفادات کے اسیر ان اپوزیشن رہنماؤں اور پاکستان کے مفادات جدا جدا ہیں۔'

اسی تنقید کو جاری رکھتے ہوئے انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ’جمہوریت کےلبادے میں چھپنے کی کوشش کررہی ہے۔ این آر او کے حصول کے لیے یہ نیب کو کمزور کرنے کیساتھ قومی معیشت کی تباہی اور غربت میں اضافے کے لیے پاکستان کو فاٹیف کی بلیک لسٹ تک میں شامل کردیتے۔ حال یہ ہے کہ این آر او کیلئے یہ لگاتار حکومت گرانے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ImranKhanPTI

انھوں نے اپنی آخری ٹویٹ میں کہا کہ اگر قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو معاف کیا تو یہ قوم کا اعتماد مجروح کرنے کے مترادف ہوگا۔

انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ' میری حکومت این آر او نہیں دے گی۔۔۔ اب مزید کوئی این آر اوز نہیں ہوں گے۔'

'نواز شریف رعایت کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے ہیں'

جہاں ایک جانب وزیر اعظم نے مشترکہ حزب اختلاف کو آڑے ہاتھ لیا، وہیں دوسری جانب انھوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی سربراہی کی جہاں اس بات پر اتفاق ہوا کہ سابق وزیر اعظم نے بیماری کو عذر بنا کر ضمانت حاصل کی لیکن اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ سال العزیزیہ ریفرنس کیس میں 29 اکتوبر 2019 کو نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت ملی اور 16 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ سال نواز شریف ضمانت ملنے کے بعد لندن روانہ ہو گئے تھے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

کابینہ اجلاس میں کہا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف دونوں نے شخصی ضمانت دی اور وطن واپسی، میڈیکل رپورٹس جمع کرانے اور حکومت کے نمائندے کی جانب سے میڈیکل رپورٹس کے معائنے پر اعتراض نہ کرنے اور مکمل تعاون کی ضمانت دی تھی۔

بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ دسمبر کے آخری ہفتے میں نواز شریف کے وکلا نے ضمانت میں توسیع کے لیے درخواست دی، جس پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اور 19، 20 اور 21 فروری کو سماعت کے لیے تین مواقع فراہم کیے گئے لیکن نہ وہ خود پیش ہوئے اور نہ ہی کوئی میڈیکل رپورٹ پیش کی۔

اجلاس میں نواز شریف کے برطانیہ میں قیام کی طوالت پر کہا گیا کہ 'کووڈ-19 کی وجہ سے مختلف ملکوں کی طرح برطانیہ کے وزٹ ویزوں میں بھی توسیع کی گئی تھی اور نواز شریف وزٹ ویزے میں توسیع کے تحت وہاں موجود ہیں'۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ 'نواز شریف کے وکلا نے ان کی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس کا تحریری فیصلہ آناباقی ہے'۔

وفاقی کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حکومت کی جانب سے قانون کے یکساں اطلاق کے حوالے سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

اس اجلاس میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں دیے جانے والے این آر او کی وجہ سے ملک کے قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہوا اور ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے'۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/@pid.gov.official

،تصویر کا کیپشن

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے 21 اگست کو کہا تھا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے برطانوی حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو واپس وطن بھیجا جائے

یاد رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے 21 اگست کو کہا تھا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے برطانوی حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو واپس وطن بھیجا جائے کیوں انھیں واپس لانا ضروری ہوگیا ہے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر (بیرونِ ملک) چلے گئے تھے انھوں نے ڈاکٹروں اور اپنے ٹیسٹ کو دھوکا دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ جس طرح انھوں نے ہمارے قانون کا مذاق اڑایا، اپنی بیماری کو بہانہ بنا کر ملک سے فرار اختیار کی اب انھیں واپس آنا چاہیے اور الزامات کا عدالتوں میں سامنا کریں، وہ وہاں پر علاج کروانے کے بجائے چائے پی رہے ہیں، کافی پی رہے ہیں۔'

وزیر اطلاعت شبلی فراز نے 21 اگست کو اعلان کیا تھا کہ حکومت نیب سے درخواست کرے گی کہ وزارت خارجہ کے ذریعے حکومت برطانیہ سے نواز شریف کو واپس بھیجنے کی درخواست کی جائے۔