کراچی کے گجر نالے پر قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن: ’بیٹیوں کی شادی کی فکر کریں یا ایسی جگہ پلاٹ لیں جہاں روز یہ تماشا نہ ہو‘

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نالہ

’اب نوجوان بیٹیوں کو لے کر کہاں جائیں، کس کے گھر جا کر رہیں، بیٹیوں کی شادی کی فکر کریں یا کسی ایسی جگہ پلاٹ لیں جہاں روز یہ تماشا نہ ہو۔‘

یہ خیالات سلمیٰ کے ہیں جن کے گھر کا نصف حصہ گجر نالے پر آپریشن کے دوران مسمار کر دیا گیا ہے۔

کراچی میں میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) حکام نے بدھ کی صبح گلبرگ ٹاؤن کیفے پیالے کے قریب بارہ نمبر سے گجر نالے تک غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کا آغاز کیا، جس میں ہتھوڑوں سے دیواریں گرائی گئیں جبکہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے رہائشیوں کے کنیکشن منقطع کر دیے ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ شب مساجد سے اعلانات کیے گئے تھے کہ ’گھر خالی کردیے جائیں، صبح انھیں مسمار کردیا جائے گا‘۔ تاہم کے ایم سی حکام اور ضلعی انتظامیہ نے بدھ کی صبح ان اعلانات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

سلمیٰ جن کا مکان ایک کمرے پر مشتمل ہے، انھوں نے حال ہی میں اس پر دو لاکھ روپے کا خرچہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گھروں میں کام کاج کرتی ہیں اور اس آمدن سے پیسے بچا بچا کر یہ کمرہ بنایا تھا جو مسمار کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو غریبوں کا کوئی احساس نہیں ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

سلمیٰ کا کہنا تھا کہ 'حکومت کو غریبوں کا کوئی احساس نہیں ہے'

یہ بھی پڑھیے

سلمیٰ کی پڑوسن زلیخاں کا مکان دوسری بار متاثر ہوا ہے۔ بقول ان کے اس سے پہلے جب یہ آپریشن ہوا تو جن بنگلوں میں وہ کام کرتی ہیں انھوں نے تھوڑی بہت مدد کی تھی جس سے دوبارہ مرمت کرلی گئی تھی۔

زلیخاں کہتی ہیں ’ہم گندے نالے کے کنارے پڑے ہوئے ہیں، قبر جتنی جگہ بھی نہیں دے رہے۔ حکومت نہ زمین دے رہی ہے اور نہ مکان کا اعلان کیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے خاندان کے افراد صبح جب سے جاگے ہیں بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہیں اور انکے بچے بھوکے بیٹھے ہیں۔

اس علاقے کے ساتھ پکی سروی کالونی بھی واقع ہے جنھوں نے عقبی حصے گجر نالے کے کنارے پر باغات سمیت دیگر تجاوزات بنا لی ہیں، جبکہ کچی آبادی میں عام طور پر ایک سے ڈیڑہ کمرے کے مکانات ہیں جن میں دو سے تین خاندان آباد ہیں۔ بعض لوگوں نے اسی مکان پر دوسری منزل بھی بنائی ہے۔

ایک بزرگ خاتون مریم کو پڑوسی خواتین تسلی دیتی نظر آئیں۔ مریم نے بتایا کہ ان کا شوہر اور بیٹے کا انتقال ہو چکا ہے اور وہ اپنی بیوہ بہو کے ساتھ یہاں رہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بمشکل گذارہ ہوتا ہے، کوئی سہارا بھی نہیں ہے اور اب وہ یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ وہ کہاں جائیں گے۔

گذشتہ چند برسوں میں ہونے والی بارشوں کے بعد کئی علاقے زیر آب آئے ہیں۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن و دیگر حکام نے اس کی وجہ برساتی نالوں میں پانی کی گزر گاہوں پر غیر قانونی تجاوزات کو قرار دیا تھا اور سپریم کورٹ نے گذشتہ دنوں سماعت کے موقعے پر تمام تجاوزات کو ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔

اس کچی بستی کے لوگوں میں سے بعض کے مکانات پر بجلی کے میٹر بھی لگے ہوئے نظر آئے جبکہ سوئی سدرن گیس حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے کنیکشن فراہم نہیں کیے اور رہائشیوں نے قریبی کالونی سے یہ کنیکشن غیر قانونی طور پر حاصل کیے ہیں۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ان کے ووٹ بھی درج ہیں، اس بار انھوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا لیکن اس سے قبل ایم کیو ایم کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔

بارہ نمبر کے اس علاقے کے متاثرین میں میانوالی اور سرائیکی کمیونٹی کے لوگ اکثریت میں ہیں جن میں سے زیادہ تر مزدوری پیشہ ہیں اور خواتین اور مرد دونوں ہی کام کرتے ہیں۔

حکومت سندھ یا کے ایم سی کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری کا کوئی اعلان یا منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے، اس سے قبل لیاری ایکسپریس وے اور کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبوں کی راہ میں غیر قانونی تجاوزات بھی رکاوٹ قرار دی گئی تھیں۔

کے ایم سی کے ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے جلد ہی ایک پالیسی سامنے لائی جائے گی۔

،تصویر کا کیپشن

مریم کا کہنا تھا کہ ’ہمارا بمشکل گذارہ ہوتا ہے، کوئی سہارا بھی نہیں ہے اور اب ہم یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ کہاں جائیں گے‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کا کہنا تھا ’یہ کے ایم سی، کچی آبادی، محکمہ روینیو اور ڈی ایم سی کا مشترکہ آپریشن ہے جس کے پہلے مرحلے میں ہم وہ ’سافٹ تجاوزات‘ ہٹا رہے ہیں جو آج سے تین چار سال پہلے ہٹائی گئی تھیں لیکن دوبارہ کھڑی کردی گئی ہیں۔ کسی نے باڑے بنالیے، کسی نے رکشہ سٹینڈ اور اپنی بالکونی بنا دی ہے اور کسی نے دھوبی گھاٹ بنا دیا۔‘

ان کا یہ کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں ان تجاوزات کو ہٹایا جائے گا اور نالے کے دونوں اطراف میں صفائی کر کے مشینری کا راستہ بنایا جائے گا۔

بشیر صدیقی کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ’نالوں پر تجاوزات ہیں جس کی وجہ سے یہ نالے چوک ہو چکے ہیں، کہیں یہ نالے 20 فٹ تو کہیں سو یا ڈیڑہ سو فٹ تک ہیں اور ہمارا مقصد انھیں ایک ہی سائز اور گنجائش میں لانا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ اور حالیہ بارشوں میں گجر نالے کی صفائی بھی کی گئی اور رواں سال نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پاکستان فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او سے اس نالے کی صفائی کرائی جس کی مالی معاونت حکومت سندھ نے کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے شہر کے تمام نالوں کی صفائی این ڈی ایم اے کو سونپنے کا حکم جاری کیا۔

گجر نالہ تقریباً 18 کلومیٹر طویل ہے، جس کے دونوں اطراف میں آبادیاں موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ واقع غیر قانونی تجاوزات پانچ سال قبل بھی ہٹائی گئیں تھیں اور حکومت نے اس کے دونوں اطراف میں سڑک بنانے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔

ڈائریکٹر اینٹی انکروچمینٹ بشیر صدیقی کا کہنا ہے کہ ’اس سے قبل جو آپریشن ہوا تھا اس میں ہر ادارے نے اپنے طور پر کارروائی کی تھی لیکن چونکہ اب سپریم کورٹ کا حکم نامہ آ گیا ہے اس لیے تمام ادارے ایک پلیٹ فارم پر آ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بار تمام لینڈ کنٹرولنگ اتھارٹیز مشترکہ کارروائیوں میں شریک ہیں اس لیے یہ آپریشن کامیاب ہو گا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس آپریشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لیاری ندی، محمود آباد نالے سمیت دیگر علاقوں سے بھی برساتی نالوں سے غیر قانونی تجاوزات ہٹائی جائیں گی، اس سے قبل صدر، گارڈن، کھوڑی گارڈن کے علاقوں میں بھی ان نالوں پر قائم دکانیں مسمار کی گئیں تھیں اور یہ کارروائی بھی سپریم کورٹ کے حکم پر کی گئی تھی۔