کراچی میں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے باہر مظاہرہ کرنے والوں پر ’دہشتگردی‘ کا مقدمہ

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی، کلفٹن، مقدمہ
،تصویر کا کیپشن

31 اگست کو کراچی میں ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کی جانب سے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے باہر مظاہرہ کیا گیا تھا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کلفٹن سے بارش کے پانی کی عدم نکاسی اور بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں شامل درجنوں افراد کے خلاف ہنگامہ آرائی کے الزام میں ’دہشتگردی‘ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے انتظامی معاملات کا نگران کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (سی بی سی) ہے۔ پیر 31 اگست کی دوپہر کو رہائشیوں نے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا تھا کہ چیف ایگزیکٹیو افسر ان سے مذاکرات کریں تاہم ان کا یہ مطالبہ پورا نہیں ہوسکا تھا۔

درخشاں تھانے میں سی بی سی کے سکیورٹی انچارج منور حسین کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ دیگر افسران کے ساتھ 31 اگست کو اپنے ڈیوٹی پر موجود تھے جبکہ دیگر افسران اور سٹاف بارش کے پانی کی نکاسی میں مصروف تھا، جبکہ 40 سے 50 پرامن شہری اپنی شکایت کے اندراج کے لیے جمع ہوئے تھے۔

ان کی شکایت کے مطابق ’اس اثنا میں 30 سے 35 شرپسندوں کا گروہ آیا جو گیٹ پر موجود ہمارے گارڈز سے دست گریباں ہوگیا، ’سی بی سی اور دیگر ریاستی اداروں‘ کے خلاف نعرے بازی کی اور نازیبا الفاظ استعمال کیے اس کے بعد زبردستی اندر داخل ہوگئے اور شیشے اور گملے توڑ دیے، سرکاری کام میں مداخلت کی اور ہراساں کیا اور دہشت پھیلاتے ہوئے دہشت گردی کی۔‘

اس بارے میں

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ان مبینہ شرپسندوں نے دوپہر 12 بجے سے لے کر شام آٹھ بجے تک ہمارے ریلیف اور نکاسی آب کے کام کو متاثر کیا۔ یہ لوگ پولیس سے بھی دست و گریباں ہوئے جب افسران نے مزید نفری منگوائی تو یہ فرار ہوگئے۔‘

ایف آئی آر میں ان مبینہ شر پسندوں کے نام بھی دیے گئے ہیں۔

ڈیفینس کے حلقے سے انتخابات لڑچکے سماجی کارکن جبران ناصر نے اس ایف آئی آر کے اندراج کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر تحریر کیا ہے کہ ’یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے تاکہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے شہریوں کو خوفزدہ کیا جائے۔‘

ٹوئٹر پر علی رضوی نامی صارف نے لکھا کہ ’ایف آئی آر میں ان کے انکل کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو دو بزرگ خواتین کے نگہبان ہیں۔ ان 90 سالہ خواتین کو طبی مدد کی ضرورت ہے، ان میں سے ایک مفلوج ہے۔ ان کے علاقے میں 48 گھنٹوں سے بجلی نہیں تھی، سڑکیں سیوریج کے پانی سے بھری ہوئی تھیں، پینے کا پانی آلودہ ہوچکا تھا، وہ قانونی کی پیروی کرنے والے شہری ہیں۔

’اگر بزرگ خواتین خدا نخواستہ انتقال کرجاتیں تو یہ بدمعاش اس کی ذمہ داری بھی نہیں اٹھاتے، ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے چیزوں کو درست کریں۔‘

جنرل باجوہ کا دورہ کراچی اور تاجروں سے ملاقاتیں

کراچی کی بارشوں کے بعد کی صورتحال اس وقت سیاسی اور عسکری قیادت کی توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کراچی میں بارش سے متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا اور کراچی کی بزنس کمیونٹی سے ملاقات کی۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے رہنما سراج قاسم تیلی نے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے آرمی چیف کو آگاہ کیا کہ کراچی کا انفراسٹرکچر پہلے ہی خراب تھا اور حالیہ بارشوں نے اسے تباہ کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’کراچی میں سات صنعتی زونز میں 26 ہزار صنعتیں ہیں۔ این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کو ذمہ داری سونپیں۔ سیاسی جماعتوں سے بات کر کے فنڈ حاصل کریں اور انفراسٹرکچر تعمیر کروائیں‘۔

ان کے مطابق اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ ’وفاقی اور صوبائی حکومت کی کمیٹی بنی ہے، اور کوشش کریں گے کہ مسائل حل ہوں۔‘

شہباز شریف کی زرداری، بلاول سے ملاقات

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما و مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے بھی بدھ کو کراچی کا دورہ کیا اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں بھی گئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بلاول ہاؤس میں سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ موسمیات کے دباؤ اور سخت موسم کو پیش نظر رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ اقدامات اٹھائیں، جس کا کراچی سمیت پورے پاکستان کو سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBilawal House/PPP

انھوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھنا چاہیے اور قدرتی آفات کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا پلیٹ فارم نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ سندھ میں بارش سے تباہ ہونے والی معیشت کو سہارا دینے کے لیے حکومت سندھ کی مشاورت سے ایک ’خطیر امدادی پیکج‘ کا اعلان کرے۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان جمعے کے روز کراچی آ رہے ہیں۔

اس سے قبل وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ کراچی کے لیے پیکج بنایا جارہا ہے۔