صوبہ خیبرپختونخوا میں سیلاب کی صورتحال: ’میرے بچے چیختے رہے مگر میں انھیں بچا نہیں سکا‘

  • خدائے نور ناصر
  • بی بی سی، اسلام آباد
سوات سیلاب

،تصویر کا ذریعہCourtesy Waqar

’گذشتہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب تقریباً نو بجے تھے کہ سیلابی ریلہ ہمارے گھر تک پہنچ آیا۔ میں اپنے بچوں کی چیخیں سُن رہا تھا۔ وہ چیخ رہے تھے کہ ہم بہہ رہ ہیں ہمیں بچا لو۔۔۔ میں اور میری ماں بھی چیخ رہے تھے لیکن ہم اُنھیں بچا نہیں سکے۔‘

پیر جان کا گھر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سوات کے علاقے مدین کے تیرات درہ میں واقع تھا۔ اُن کے گھر میں اس رات 11 افراد تھے، جن میں اُن کی اہلیہ، والدہ، تین بیٹے، دو بیٹیاں، بہو اور دو نواسے شامل تھے۔

اُس رات سیلابی ریلہ پیر جان کے دو بیٹوں، ایک بیٹی، بہو اور دو نواسوں کو بہا لے گیا۔ دو کی لاشیں ہفتے کے روز جبکہ باقی لاشیں دو دن کے بعد دریائے سوات سے ملیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہCourtesy Waqas

،تصویر کا کیپشن

پیر جان کے بڑے بیٹے بخت شیروان نے بتایا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں تھے جب انھیں فون پر فوراً گھر لوٹنے کا کہا گیا

محنت مزدوری کے لیے متحدہ عرب امارات میں موجود ان کے بڑے بیٹے بخت شیروان اس واقعے کے بعد وطن واپس آ گئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پہلے کچھ روز تو گاؤں والے خود پانی میں لاشیں تلاش کرتے رہے جبکہ تیسرے دن ریسکیو 1122 کے رضاکاروں نے اُن کی اہلیہ، بیٹی، بہن اور بھائی کی لاشیں دریائے سوات سے نکالیں۔

بخت شیروان نے بتایا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں تھے جب انھیں فون پر فوراً گھر لوٹنے کا کہا گیا۔ گھر پہنچنے پر ہی انھیں اس واقعے کی اطلاع دی گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ میرا تو سب کچھ ختم ہو گیا۔‘

بخت شیروان کے قریبی رشتہ داروں کے مطابق وہ اب ذہنی کوفت سے گزر رہے ہیں اور اُنھیں علاج کی اشد ضرورت ہے۔

بخت شیروان کے والد پیر جان تیرات درہ میں کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Waqar

،تصویر کا کیپشن

پیر جان اپنے نواسے اور نواسی کے ساتھ

بی بی سی کے ساتھ شیئر کی جانے والی تصاویر میں پیر جان اپنے نواسے اور نواسی کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

اُنھوں نے روتے ہوئے بتایا کہ اُن کا پورا خاندان برباد ہو گیا اور بدقسمتی سے اُنھوں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

’میرے سامنے میرا پورا خاندان اُجڑ گیا، میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا لیکن کچھ نہیں کر پایا۔‘

اس واقعے کے بعد اگرچہ پیر جان اپنے باقی خاندان کے ساتھ ایک قریبی رشتہ دار کے گھر منتقل ہو گئے ہیں لیکن اُن کا گھر تاحال تباہ ہے اور اُن کے مطابق اُن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ دوبارہ گھر تعمیر کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Waqas

گذشتہ ہفتے سے سوشل میڈیا پر سوات کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں بہت سارے مکانات اور دکانیں سیلابی ریلوں میں بہتی ہوئیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق سیلاب کی وجہ سے بحرین، مدین اور دیگر علاقوں میں شدید نقصانات ہوئے ہیں لیکن راستوں کی بندش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تاحال کئی علاقوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

اُدھر پشاور میں پرووینشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ااتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے بیشتر علاقوں میں جمعرات اور جمعے کے دن مزید بارشوں اور سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ اداروں کو بتایا گیا ہے کہ دیر، سوات، بونیر، شانگلہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مردان، نوشہرہ، اور چارسدہ میں جمعرات اور جمعے کو مزید بارش کا امکان ہے، جس سے لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔