موٹروے ریپ کیس کا ایک ملزم پولیس کی تحویل میں، تفتیش جاری

پنجاب

،تصویر کا ذریعہPunjab Government

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاہور کے قریب ایک خاتون کے ریپ کے معاملے میں نامزد دو میں سے ایک ملزم اب پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے والدین اور اہلِ خانہ کے ہمراہ اتوار کی صبح لاہور کے ماڈل ٹاؤن تھانے میں پیش ہوا جہاں دیے گئے بیان میں اس نے کہا ہے کہ اس کا ریپ کے اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن حسنین حیدر کے مطابق ملزم اب پولیس کی تحویل میں ہے اور اسے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر لے جایا جا رہا ہے۔

جب ان سے ملزم گرفتاری کی تفصیلات دریافت کی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ کچھ دیر بعد ہی بتائی جا سکیں گی۔

ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ وہ ماضی میں مرکزی ملزم کے ساتھ وارداتوں میں ملوث رہا ہے تاہم اس ریپ کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ موبائل نمبر جس کا ذکر پولیس حکام نے کیا اس کے زیر استعمال ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کا ڈی این اے حاصل کر کے اسے تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور نتیجہ آنے کے بعد ہی اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

گذشتہ روز صوبے کے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں اعلیٰ حکام کی پریس کانفرنس میں پولیس کی تحویل میں موجود ملزم کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ دو ہفتے قبل ہی ضمانت پر رہا ہوئے تھے اور غالب امکان ہے کہ وہ وقوعے کے وقت مرکزی ملزم کے ساتھ موجود تھے۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض اللہ چوہان نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا ہے کہ جیو فینسگ کے ذریعے ملنے والی معلومات کے مطابق ملزمان کا پتہ لگایا گیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پولیس کی تحویل میں موجود ملزم صحت جرم سے انکاری ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہر ملزم عموماً جرم سے انکاری ہی ہوتا ہے اس واقعے کی تمام تحقیقات کی جائیں اور چند گھنٹوں میں تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔

سنیچر کی شام وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تین روز قبل موٹروے پر ہونے والے ریپ کے واقعے میں ملوث دو ملزمان کی شناخت ہو گئی ہے اور ان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کو 25، 25 لاکھ روپے انعام سے دیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پولیس نے 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے کیس سے متعلق متنازع بیان دیے جانے کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی سی پی او کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور سات روز میں جواب نہ دینے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

’مرکزی ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا‘

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے کیس کے سلسلے میں اب تک ہونے والی پیش رفت کے متعلق بتایا کہ ملزم کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کر گئے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ساتھی ملزم کے ڈی این اے کے بارے میں پولیس کو '95-96 فیصد' یقین ہے اور ان کے پاس پتہ اور شناختی کارڈ کا نمبر بھی موجود ہے اور امید ہے کہ انھیں جلد پکڑ لیا جائے گا۔

انعام غنی کا کہنا تھا کہ ملزمان کی معلومات عوام تک پہنچ گئی تھیں جس کی وجہ سے انھیں یقینی طور پر اطلاع مل گئی ہوگی اور وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک ملزم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب اس کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جس میں وہ اور اس کی بیوی دونوں فرار ہو گئے لیکن ان کی چھوٹی بچی گھر سے ملی۔

پولیس ملزم تک کیسے پہنچی

،تصویر کا ذریعہFacebook/@InamGhaniKhan

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پریس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے آئی جی نے بتایا کہ ہم نے اس پورے علاقے کی جیو فینسنگ کرائی۔ ہم نے ان کا دیٹا لیا، الیکشن کمیشن کا جتنا ریکارڈ ہے ہم نے وہ لیا اور وہاں سے ہم نے فنگر پرنٹس اٹھائے اور ساتھ ہی جو باقی ڈی این اےکے لیے چیزیں تھیں وہ اٹھائيں۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعے کی ’رات تقریباً 12 بجے کے قریب سائنسی شواہد کی بنیاد پر یہ تصدیق ہوئی کہ یہ عابد علی نام کا ایک لڑکا ہے جو بہاول نگر، فورٹ عباس کا رہنے والا ہے۔ اس کی طرف یہ ساری چيزیں جاتی ہیں۔

’ہمارے پاس صرف اتنی معلومات تھی کہ کوئی مائنر تھا جس کا کسی مقدمے میں ٹیسٹ لیا گیا تھا اس سے یہ میچ کر رہا ہے۔ نہ ہمارے پاس کوئی شناختی کارڈ تھا، نہ کوئی نمبر تھا، نہ کوئی فیملی کی تفصیلات تھیں اور ہماری ٹیم نے راتوں رات بہاول نگر میں اس پر اچھا کام کیا۔ ہم اس جگہ تک پہنچے، ہم اس ریکارڈ تک پہنچے اور ہم نے اس لڑکے کا سارا ریکارڈ وہاں سے نکلوایا، اس کی فیملی کے بارے میں پتہ کیا، اس کا شناختی کارڈ حاصل کیا، اس کا نمبر ملا اور پھر اس کی بنیاد پر اس کے پتے پر پہنچنے میں آپ سب کو معلوم ہے کہ رات کے وقت کتنی مشکلات آئی ہوں گی کیونکہ سارے دفاتر بند تھے۔ لیکن راتوں رات ہم نے ساری تفصیلات وہاں سے لے لی۔‘

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ہمارے پاس جو پہلے سے تفصیلات موجود تھیں ان سے ان کا میچ کیا تو پتہ چلا کہ لڑکے کے نام پر چار ٹیلیفون نمبر تھے جو کہ وہ مختلف اوقات میں بند کر چکا تھا۔ لیکن ہم پھر ایک اور نمبر تک پہنچے جو اس کے استعمال میں تھا لیکن اس کے نام پر نہیں تھا۔ اس نمبر سے جو ہمارے خدشات تھے اس کی جیوفینسنگ نے بھی تصدیق کر دی۔ اسی سے ہم اس کے ساتھی تک بھی پہنچ گئے۔ اس کے بارے میں ہم 95-96 فیصد وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت اس کے ٹیلی فون کی بھی وہاں موجودگی پائی گئی ہے۔ اس ٹیلی فون سے ہمیں اس کا پتہ اور سی این آئی سی وغیرہ ملا۔‘

مزید پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ پولیس سنیچر کو 12 بجے پوری طرح تیار تھی کہ ان ک گھروں پر چھاپہ مار کر انھیں گرفتار کریں۔ ہماری ٹیم وہاں گئی لیکن وہ لاہور میں نہیں تھا۔

’ایک گاؤں ہے قلعہ ستار شاہ جو ضلع شیخوپورہ، تھانہ فیکٹری ایریا میں آتا ہے۔ ہمیں پتہ چلا کہ اس کی رہائش وہاں ہے، ہم نے اس کا پتہ چلایا۔ ساتھ ہی اس کے ساتھ شریک ملزم علی ٹاؤن قلعہ ستار شاہ، شيخوپورہ کا رہنے والا تھا۔ اس تک بھی ہم پہنچ گئے۔ دونوں جگہ ہم نے چھاپے مارے۔ ہمارے چھاپے کی باتیں چونکہ سامنے آ چکی تھی اس لیے ملزمان ہوشیار ہو گئے۔ ‘

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’ہم سادہ وردی میں وہاں گئے لیکن ان کے گھر چونکہ کھیتوں میں تھے اس لیے انھوں نے دیکھ لیا کہ ایک گاڑی وہاں آ کر رکی ہے اس لیے ملزم عابد اور ان کی اہلیہ فرار ہو گئے۔ وہ دونوں نہیں ملے لیکن ان کا گھر اور ان کی ایک بچی ہمیں وہاں ملی۔ اس کے سارے ریکارڈ نکاح نامہ اور ديگر دستاویزات ہمارے پاس آ گئیں اور تصدیق ہو گئی۔ دوسرے ملزم کا نام وقار الحسن ہے اور وہ علی ٹاؤن کا رہنے والا ہے۔ اس کے ہاں جب ہم نے چھاپے مارے تو وہ بھی وہاں سے فرار ہو چکا تھا کیونکہ باتیں باہر نکل چکی تھیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے

موٹروے ریپ واقعے پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار جاری ہے اورسنیچر کے روز بھی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں مظاہرے ہوئے جس میں بڑی تعداد میں شرکت ہوئی۔

مظاہرین کے شرکا نے اپنے مطالبات میں بالخصوص سی سی پی او لاہور کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ انھوں نے پولیس اور عدلیہ کے لیے مناسب تربیت کا مطالبہ کیا تاکہ جنسی تشدد کے مقدمات میں بین الاقوامی طرز بہتر طریقوں سے کام ہو اور مقدمات کی تفتیش اور سماعت کے دوران خواتین کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

’وزیراعلی نے پورے کیس کی خود نگرانی کی ہے

اس سے قبل وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے کا کہنا تھا کہ موٹروے ریپ کیس میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے اور اس حوالے سے گرفتاری جلد عمل میں لائی جائے گی۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ’رات چار بجے تک آئی جی اور سی سی پی او کے ساتھ‘ تھے اور ’وزیراعلی نے پورے کیس کی خود نگرانی کی ہے۔‘

یاد رہے کہ سنیچر کی صبح سے ہی مقامی میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں کہ پولیس نے ملزم کا ڈی این اے میچ کر لیا ہے تاہم سرکاری ذرائع سے بات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

میڈیا پر خبریں آنے کے بعد صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل انعام غنی کا کہنا تھا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس میں ابھی کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ آئی جی پنجاب کے دفتر سے میڈیا کو ارسال کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا چلنے والی خبریں غلط اور حقائق کے منافی ہیں۔

آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ اس کیس کی تفتیش کو خود مانیٹر کر رہا ہوں اور کسی کامیابی پر میڈیا کو خود آگاہ کریں گے۔

’ایسی غیر تصدیق شدہ خبریں نہ صرف کیس پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ عوام کے لیے بھی گمراہ کن ہیں، سوشل میڈیا پر ملزمان اور خاتون کی جو تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں وہ بھی غلط اور جعلی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ میری میڈیا کے نمائندوں سے گزارش ہے کہ وہ تصدیق کے بغیر کوئی خبر نہ چلائیں اور میری عوام سے بھی گزارش ہے کہ ہم پر اعتماد رکھیں ہم جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیں گے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے سنیچر کی صبح ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ چند ہی گھنٹوں میں اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ریپ کرنے والے گرفتار ہوں گے۔

اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں کمرشل کورٹس کے ججز کی تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب میں موٹروے پر ہونے والے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ شرمندگی کی بات ہے کہ ہائی وے پر کوئی سکیورٹی سسٹم اور میکانزم نہیں تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم مسافروں کو ہائی وے پر سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کا نظام غیر پیشہ وارانہ اور غیر ذمہ دار افراد کے ہاتھوں میں ہے جس نے ملک کا امن و امان تباہ کر دیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پولیس کو سیاست کی بیڑیوں سے آزاد کرنا ہو گا

صحافی عباد الحق کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے باور کرایا کہ ’پولیس میں سیاسی مداخلت کے نتیجے میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔‘

سپریم کورٹ کے چیف نے پنجاب پولیس میں ہونے والے حالیہ واقعات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ پولیس کے نظام میں گراوٹ کی علامت ہے اور سیاسی مداخلت کو ظاہر کرتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے زور دیا کہ حکومت جاگے اور محکمہ پولیس کی ساکھ کو فوری بحال کرے. چیف جسٹس پاکستان نے زور دیا پولیس اپنے محکمانہ معاملات خود دیکھے۔

خطاب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ پولیس سیاسی ہو چکی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے خبردار کیا کہ حکومت یا سیاسی فرد محکمہ پولیس میں کسی بھی صورت کوئی مداخلت نہ کرے۔ سیاسی مداخلت سے کوئی بھی پولیس فورس پروفیشنل طریقے سے کام نہیں کر سکتی۔

بقولِ چیف جسٹس گلزار احمد کے امن و امان حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور پولیس کا شفاف نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے ضرور دیا کہ پولیس فورس نظم و ضبط کے بغیر کام نہیں کرسکتی۔ جب تک پولیس میں پیشہ ورانہ مہارت نہ ہو. اُس وقت تک عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا. اس کے لیے پولیس کو سیاست کی بیڑیوں سے آزاد کرنا ہو گا۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے دو الگ الگ کمیٹیاں

اس سے پہلے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے کے قریب خاتون کے ساتھ ریپ اور ڈکیتی کے مقدمے کی تفتیش اور مستقبل میں ایسے واقعات کے انسداد کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کی سربراہی پنجاب کے وزیرِ قانون کریں گے۔

ان کے علاوہ اس ٹیم میں محکمہ داخلہ پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب، اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فارینزک سائنس ایجنسی شامل ہوں گے۔

دریں اثنا پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل انعام غنی نے بھی ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور شہزادہ سلطان کی سربراہی میں چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جس میں پولیس کے مختلف یونٹس کے افسران شامل ہیں۔

پولیس ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر اس کے سربراہ چاہیں تو فارینزک ماہرین کی خدمات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

اس ٹیم کے ارکان میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر، آر او سپیشل برانچ لاہور جہانزیب نذیر، آر او سی ٹی ڈی لاہور نصیب اللہ خان، ایس پی سی آئی اے لاہور عاصم افتخار، انچارج جینڈر کرائمز سول لائنز لاہور فضہ اعظم شامل ہیں۔

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟

صحافی عباد الحق کے مطابق لاہور کے تھانہ گجرپورہ میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ گوجرانوالہ کے رہائشی درخواست دہندہ کی رشتے دار خاتون کی گاڑی کا جنگل کے قریب پیٹرول ختم ہو گیا تھا اور وہ مدد کے انتظار میں کھڑی تھیں۔

ایف آئی آر کے مطابق درخواست دہندہ کی عزیزہ نے بتایا کہ جب وہ پیٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں تو 30 سے 35 سال کی عمر کے دو مسلح اشخاص آئے، انھیں اور ان کے بچوں کو گاڑی سے نکال کر ان کا ریپ کیا اور ان سے نقدی اور زیور چھین کر فرار ہو گئے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اس واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق خاتون سے ریپ کا واقعہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا اور متاثرہ خاتون کے رشتے دار نے بدھ کی صبح 10 بجے پولیس اسٹیشن گجر پورہ میں مقدمہ درج کروایا۔

مدعی نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں پر پیٹرول ختم ہونے کی وجہ سے رک گئی تو انھوں نے دیکھا کہ گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس پر خون کے دھبے تھے، جس کے بعد انھوں نے رشتے دار خاتون کو کرول کے جنگل کی جانب سے بچوں کے ساتھ آتے دیکھا۔

دوسری جانب موٹروے پولیس نے واضح کیا ہے کہ جس جگہ خاتون کا ریپ کیا گیا ہے وہ موٹروے پولیس کی حدود میں شامل نہیں ہے۔ ترجمان کے بقول رنگ روڈ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’موٹروے پر ریپ زیادتی و بے حرمتی کے واقعہ کا سن کر دل دہل گیا ہے۔ اس وحشیانہ کاروائی میں ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچا کر نشان عبرت بنانا لازم ہے۔ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یاد رکھیں، ظلم اور معاشرتی اقدار میں پستی کا مقابلہ کرنا بحثیت قوم ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘

سوہا نامی ایک صارف نے لکھا ’پاکستان میں ایک کے بعد ایک خبر۔ کراچی میں ایک پانچ برس کی ایک بچی کا ریپ اور قتل۔ لاہور میں موٹروے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ تو کیا پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’خواتین کے لیے اکیلے سفر کرنا، اکیلے رہنا اور اکیلے سانس لینا کب محفوظ ہو گا۔ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ کیا آپ برائے مہربانی ہمیں اس کی اجازت دیں گے؟

ردا نامی ایک صارف نے لکھا ’انسانیت کے لیے ایک خوفناک دن۔ انڈیا میں 86 برس کی دادی کا ریپ اور پاکستان میں ایک پانچ برس کی بچی کا ریپ اور قتل۔ ابھی لاہور موٹروے پر ایک خاتون کے ریپ کی خبر پڑھی ہے۔ میں خوفزدہ اور غصہ محسوس کر رہی ہوں۔ کیا عورت ہونے کی یہ قیمت چکانا پڑتی ہے۔‘