پاکستان میں خواتین اور بچوں کے ریپ اور ہراسانی کے واقعات پر سوشل میڈیا صارفین برہم

پاکستان، خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں گذشتہ دنوں کے دوران دو کم از کم دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنھوں نے لوگوں کو حیرت اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔

پہلا واقعہ صوبہ سندھ کے وفاقی دارالحکومت کراچی میں پیش آیا جس میں پولیس کے مطابق ایک پانچ سالہ بچی کے ساتھ ریپ کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔

دوسرا واقعہ لاہور کے علاقے گجرپورہ میں موٹروے کے قریب ایک خاتون کے ساتھ پیش آیا۔ اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق یہ خاتون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گاڑی کا پٹرول ختم ہونے پر وہ مدد کا انتظار کر رہی تھیں جب دو افراد آئے، گاڑی کا شیشہ توڑا اور انھیں جنگل میں لے جا کر ان کے بچوں کے سامنے ریپ کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر ایک طرف لوگ ان واقعات پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو وہیں اس حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ آیا ملک خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب حکومت کی جانب سے اس واقعے کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے لیکن ٹوئٹر اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس پر لوگ اب بھی اپنے پیاروں کے لیے فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔

'تین چار لوگوں نے یہ ہوتا ہوا دیکھا مگر کوئی نہیں رُکا'

گذشتہ روز پاکستانی سائیکلسٹ ثمر خان نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے ایک واقعے پر روشنی ڈالی۔ سڑک کے بیچ پر کھڑے ہو کر انھوں نے ویڈیو میں کہا کہ: ’آپ نے ہمیشہ میری طرف سے لڑکیوں کے سائیکل چلانے پر حوصلہ افزائی کا سنا ہوگا۔۔۔ میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی۔ یہ غیر محفوظ ہے۔ میں اسلام آباد میں سائیکلنگ کر رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SKhanAthlete

،تصویر کا کیپشن

سائیکلسٹ ثمر خان: اگر آپ کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کو ایک عبرتناک مثال بنائیں

’فیض آباد کے قریب ایک بندہ آیا جو شاید دفتر سے آرہا تھا۔ اس نے مجھے پیچھے سے پکڑا اور بھاگ گیا۔ میں نے اسے روکنے اور پیچھا کرنے کی کوشش کی۔ میں سائیکل پر تھی تو وہ مجھ سے آگے نکل گیا۔۔۔ میرا بس یہی سوال ہے کہ ایسے واقعات دیکھنے والے اس پر کچھ کرتے کیوں نہیں؟ تین چار لوگوں نے یہ ہوتا ہوا دیکھا مگر کوئی نہیں رُکا۔‘

’جو لڑکیاں یہ ویڈیو دیکھ رہی ہیں، اگر آپ کے ساتھ یہ ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کو ایک عبرتناک مثال بنائیں۔‘

’پیسے دے نہیں تو دوں گا الٹے ہاتھ کی‘

اگست کے اواخر میں ٹوئٹر پر ایک صارف نے آن لائن ٹیکسی سروس کریم پر اپنے ساتھ ہونے والے ایک واقعہ شیئر کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد میں ایک ڈرائیور کے ساتھ ای الیون سے فیض آباد جا رہی تھیں کہ پیسوں پر ان کی اس سے بحث ہوگئی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ محرم کے دن تھے۔ سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے موبائل کے سگنل نہیں آرہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER

ڈرائیور نے ان سے زیادہ پیسے مانگے جس پر انھوں نے اسے منع کیا۔ ’وہ میرے پر چیخنے لگا۔ میں گاڑی سے اتری اور سوچا میرے اردگرد لوگ ہونے کی وجہ سے وہ کچھ نہیں کر سکے گا۔

’وہ میرے قریب آیا اور کہنے لگا کہ ’پیسے دے نہیں تو دوں گا الٹے ہاتھ کی۔ یاروں سے مل کر آ جاتی ہیں اور پھر بکواس کرتی ہیں‘۔۔۔ میں نے اسے پیسے دیے اور وہاں سے چلی گئی۔‘

اس شکایت پر کریم نے بھی واقعہ کا نوٹس لیا اور ’ڈرائیور کے خلاف کارروائی کی۔‘

ان واقعات کے پیش نظر سوشل میڈیا پر کئی موضوعات پر بات چیت ہو رہی ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ آیا پاکستان، بالخصوص خواتین کے لیے، محفوظ ہے۔ ایک طبقے کی جانب سے تو یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ریپ کے مجرموں کو پھانسی کی فوری سزا دی جانی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER

لعلین سکھیرا نامی ایک صارف نے کہا کہ اس تشویش کے دوران بعض حلقے یہ کہیں گے کہ ’سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔‘

نوید اختر نے لکھا کہ ’لوگ بیرون ملک صرف پیسوں کے لیے منتقل نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے خاندان کے لیے ایک محفوظ ماحول بھی چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER

ان کا مزید کہنا تھا کہ سب کو مل کر ’پاکستان کو بچوں اور خواتین کے لیے محفوظ بنانا چاہیے۔‘

عبدالجنید نے لکھا کہ پاکستان ’محفوظ ہے لیکن یہاں کے لوگ محفوظ نہیں۔‘ ملیحہ خواجہ کے مطابق ’موٹروے واقعے نے مجھے بالکل حیران کر دیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے غیر محفوظ وقت ہے۔‘

آفتاب احمد نے سوال کیا کہ ’پاکستان میں محفوظ کون ہے؟ عورتیں کیا، بچے کیا، یہاں تو مردہ خواتین قبروں میں محفوظ نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER

،تصویر کا کیپشن

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی موٹروے واقعے کا نوٹس لیا ہے

عمیر نامی صارف کا بھی کچھ ایسا ہی کہنا تھا کہ ’پاکستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ خواتین، بچے اقلیتی برادری صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن، سب کے سب خوف کےعالم میں زندگی گزارتے ہیں۔‘

لوگوں نے اس حوالے سے بھی اعتراض اٹھایا پر کہ جب خواتین کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو بعض لوگ اسے غلط رنگ دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن نگہت داد نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’تمام گوشت کے لوتھڑے جن کو پاکستان میں عورتیں کہتے ہیں کوشش کریں کہ جب باہر نکلیں اپنی حفاظت کا سامان ساتھ لے کر چلیں۔

’ان درندوں، گِدھوں اور چیلوں جن کو ہم مرد کہتے ہیں ان سے خود کو بچا سکیں یہ جگہ جگہ تاک میں بیٹھیں ہیں کہ کب اس گوشت کونوچ کے کھا سکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

ان کی پوسٹ کے جواب میں ایک صارف کا کہنا تھا کہ: ’جان و مال کی حفاظت شہریوں کا اپنا نہیں بلکہ ریاست کا کام ہوتا ہے۔

’ریاست کا کام ہے ایسا معاشرہ بنانا جہاں شہری اور وہ طبقے جو کمزور سمجھے جاتے ہیں انہیں خوف کا نہیں بلکہ تحفظ کا احساس ہو۔‘

خواتین کے لیے کچھ خصوصی ہیلپ لائنز

ایسی خواتین جنھیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا ہے ان کے لیے پورے ملک میں کچھ نجی و سرکاری ہیلپ لائنز موجود ہیں۔

پنجاب ویمن ہیلپ لائن 1043 ہر کال کر کے خواتین کام میں ناانصافی، تشدد اور جنسی ہراسیت، جائیداد اور دیگر مسائل پر شکایات درج کروا سکتی ہیں۔ اسی طرح آن لائن شکایت بھی درج کرائی جاسکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFIA

سائبر کرائم سے متعلق معاملات پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مختلف شہروں کے لیے اپنی ہیلپ لائنز جاری کی ہوئی ہیں۔

ایف آئی اے کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی انھیں اپنی شکایات سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ نے بھی اپنی ویب سائٹ پر کئی فون نمبرز دیے ہوئے ہیں جن پر رابطہ کر کے خواتین ہراسانی کی شکایات یا دیگر مسائل سے حکام کو آگاہ کر سکتی ہیں۔