سندھ میں سیلاب: خیرپور کے قریب سیلاب زدگان کی کشتی الٹنے سے دو لڑکیاں ہلاک

کشتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

’کشتی میں 18 افراد سوار تھے اور سب ہی پانی میں جا گرے۔ قریب کے دیہاتیوں نے انھیں پانی سے نکلا۔۔۔ لیکن دو کم عمر لڑکیوں کو بچایا نہ جاسکا۔‘

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ضلع خیر پور کے قریب دیہات سیلاب کے پانی کی زد میں ہیں۔ ایسے میں پیر جو گوٹھ کے مقام پر سیلاب زدگان کی کشتی الٹنے کے ایک واقعے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ملک میں رواں سال سیلاب اور بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ جولائی سے اب تک ملک کے چار صوبوں میں کم از کم 180 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صحافی علی حسن کے مطابق گاﺅں مہر جھبر شیخ میں سیلاب کا پانی آنے کی وجہ سے گاﺅں کے لوگوں کو صبح کے وقت کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا تھا۔

ایدھی مرکز کے کارکن صحبت علی گوپانگ کا کہنا ہے کہ ایک کشتی میں 18 افراد سوار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کشتی الٹی تو سب کے سب پانی میں جا گرے لیکن قریب واقع دیہات کے رہائشیوں نے انھیں پانی سے نکال لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا تھا کہ آٹھ افراد کی حالت نازک ہے اور انھیں ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے تاہم دو کم عمر لڑکیوں کو بچایا نہیں جا سکا اور ان کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

صحبت علی نے بتایا کہ کشتی پر سیلاب زدہ افراد کے علاوہ ان کے مویشی اور دیگر گھریلو سامان بھی موجود تھا۔

انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ کچے کے علاقوں میں رہنے والے وہاں سے نکل جائیں کیونکہ دریا میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔

جمعرات کی صبح دریائے سندھ میں سکھر بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب تھا۔

سکھر کے ایک صحافی کے مطابق وہاں سے پانچ لاکھ کیوسک پانی گزر رہا تھا۔ ’کچے کا یہ علاقہ سکھر سے کچھ ہی فاصلہ پر واقع ہے۔‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے اعلان تو کر دیا لیکن لوگوں کو نقل مکانی میں مدد دینے کے لیے کسی قسم کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق لوگ ’اپنی مدد آپ کے تحت ہی‘ گاﺅں سے نقل مکانی کر رہے تھے۔ اس حوالے سے ضلع خیرپور کی انتظامیہ سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

،تصویر کا ذریعہAli Hassan

متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے بھی رابطہ کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں تاہم انھوں نے فون نہیں سنا، جبکہ پیر جو گوٹھ کے مختار کار جائے حادثہ پر موجود تھے اور ان سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔

ضلع خیرپور میں کچے کا علاقہ طویل رقبہ پر پھیلا ہوا ہے اور ایسے علاقوں میں واقع تمام ہی گاﺅں سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اکثر مقامات پر لوگ نکل کر قریبی سڑکوں کے کنارے بیٹھ گئے ہیں اور ان کے مویشی بھی ان کے ساتھ ہیں۔

یاد رہے کہ سندھ کے 20 اضلاع آفت زدہ قرار دے دیے گئے ہیں۔ ان میں کراچی کے چھ ضلعے، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ، سجاول، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، دادو، میرپور خاص، عمر کوٹ تھرپارکر، شہید بینظیرآباد، اور سانگھڑ شامل ہیں۔