ساجد گوندل گمشدگی کیس: وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ذاتی حیثیت میں طلبی

ساجد گوندل

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/SGONDAL

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سکیورٹیز اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کے مبینہ اغوا اور بازیابی کے حوالے سے جوابات کے لیے وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ امور شہزاد اکبر کو 21 ستمبر کو ذاتی حثیت میں طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے شہزاد اکبر کو اسلام آباد میں امن و امان کے حوالے سے عدالت کی معاونت کا حکم بھی حکم دیا ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا صرف ایک شخص کی بازیابی کے بعد اسلام آباد میں جبری طور پر گمشدگی کا معاملہ حل ہو گیا ہے؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ساجد گوندل کے مبینہ اغوا کے بارے میں دائر درخواست کی سماعت کی تو ایڈشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ مغوی اپنے گھر واپس آ چکا ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا کچھ معلوم ہوا کہ ساجد گوندل کے ساتھ ہوا کیا تھا، جس پر طارق کھوکھر کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ساجد گوندل کی بازیابی کے لیے عدالت نے جو احکامات دیے تھے اس کا وفاقی کابینہ نے نوٹس لیا تھا۔

مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہPID

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا سارا کریڈٹ وزیر اعظم کو جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اُنھوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کابینہ کے اس فیصلے کی کاپی عدالت میں پیش کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتائیں کہ وزیر اعظم اور کابینہ نے عام شہریوں کے لیے کیا کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے نوٹس میں ایک اغوا کا کیس لایا گیا اس پر انھوں نے ایکشن لیا جبکہ ان کے نوٹس میں باقی معاملات بھی لانا چاہیے تھے تاکہ وزیر اعظم کو پتہ چلے کہ عام شہریوں کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔

نامہ نگار بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ایک لاپتہ شہری واپس آ گیا تو معاملہ ختم ہو گیا ہے؟ اُنھوں نے کہا کہ عام شہریوں کے لیے کچھ بھی نہیں ہو رہا اور سب کچھ صرف ’ایلیٹ کے لیے ہو رہا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ جتنا قانون پر عمل داری کا فقدان اسلام آباد میں ہے اتنا ملک کے کسی دوسرے شہر میں نہیں ہے۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران نہ تو ساجد گوندل عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی ان کی اہلیہ اور والدہ پیش ہوئیں۔ درخواست گزار کی طرف سے ان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ جبکہ اس درخواست کی سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے بھی عدالت کو یہ نہیں بتایا گیا کہ بازیابی کے بعد ساجد گوندل نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس نے درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کسی ایک بھی عام آدمی کے ساتھ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’شہر میں امن وامان کے حوالے سے انسپکٹر جنرل پولیس نے جو رپورٹس فائل کیں وہ تشویشناک ہیں۔‘

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹس وزیر اعظم کے نوٹس میں لانا ضروری ہے تاکہ اُنھیں بھی صورت حال کا ادراک ہو سکے۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں خود عدالت میں پیش ہو کر بتانا چاہیے تھا کہ ساجد گوندل کو کس نے اغوا کیا اور وہ کیسے بازیاب ہو گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کا تھانہ سسٹم پر اعتبار ختم ہو گیا ہے۔ اُنھوں نے کمرہ عدالت میں موجود ڈپٹی سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو آپ کے تھانہ پر یقین نہیں اس لیے کچھ کیسز رپورٹ ہی نہیں کرائے جاتے۔

اسلام آباد میں جبری طور پر لاپتہ افراد سے متعلق اسلام آباد پولیس کی جانب سے جو رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ صرف وفاقی دارالحکومت میں ایسے واقعات کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس پر ڈپٹی سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہوئے امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو عدالت کے آرڈرز کی ضرورت ہی نہیں آپ کو خود بنیادی حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جو معاملات وزیر اعظم کے نوٹس میں لائے گئے اس پر کارروائی ہوئی جبکہ باقی معاملات جوں کے توں پڑے ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند روز قبل اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج جہانگیر اعوان اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی کے خاوند کے درمیان ہونے والے جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ زون میں جو واقعہ ہوا کیا عام آدمی کو آپ اس طرح اس حساس علاقے میں جانے دیتے؟

اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں افسران صرف بااثر طبقات کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی نظر میں تمام لوگ برابر ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر وہ خود بھی کسی قانون کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف بھی ویسی ہی کارروائی ہونی چاہیے جیسی عام آدمی کے خلاف کی جاتی ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں کے بارے میں وفاقی حکومت نے وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس کمیٹی میں شہزار اکبر کے علاوہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد اور فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور سویلین خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

چار سال سے لاپتہ شہری کے کیس میں سیکرٹری داخلہ سمیت دیگر کو نوٹس جاری

دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہی اسلام آباد میں چار سال قبل لاپتہ ہو جانے والے شہری کی عدم بازیابی کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ آئی جی اور ڈی سی اسلام آباد کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ نمائندہ مقرر کریں جو آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہو اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر سیکریٹری داخلہ کا نمائندہ مطمئن نہ کر سکا تو سیکرٹری داخلہ پیش ہوں گے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ساجد محمود کی بازیابی تک اس کے گھر کے اخراجات اٹھانے کا حکم دیا تھا۔

چار سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

عدالت نے سیکرٹری دفاع، چیف کمشنراور آئی جی پولیس کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا، جبکہ اس وقت کے ایس ایچ او تھانہ شالیمار قیصر نیاز پرتین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔