کورونا وائرس: پنجاب میں 34 بچوں کو کورونا کی تشخیص، سندھ میں مزید تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ موخر

سجکول

،تصویر کا ذریعہEPA

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مزید 34 بچوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ سندھ میں حکام نے چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبا و طالبات کے لیے سکول کھولنے کا فیصلہ مزید ایک ہفتے کے لیے موخر کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی وبا کی وجہ سے ساڑھے چھ ماہ کی مدت تک بند رہنے کے بعد تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پہلے مرحلے میں میٹرک، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا کو طلب کیا گیا تھا جبکہ دوسرے مرحلے میں چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبا و طالبات نے سکول آنا تھا۔

ترجمان پنجاب پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد تین روز کے دوران 34 بچوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ دوسری جانب حکومت بلوچستان نے طلبا میں کورونا وائرس کیسز سامنے آنے کے بعد دو سکولوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پنجاب پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق ’گوجرانوالہ میں 24 طلبا، ننکانہ صاحب میں 7 بچے کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ بھکر میں ایک بچہ، ایک سکول ملازم اور لودھراں میں ایک سکول ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ننکانہ صاحب میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول شاہ کوٹ اور گیریژن سکول ننکانہ صاحب کو بند کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 14746 سرکاری، 1566 پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کے نمونے لیے جا چکے ہیں۔ 13796 نمونے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، 34 بچوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔‘حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی سکول میں دو سے زائد بچوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہونے پر سکول کو 5 دن کے لیے بند کر دیا جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں کے گھر والوں کی کونٹیکٹ ٹریسنگ کر کے کورونا وائرس ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب سندھ میں سکول کھولنے میں تاخیر کرنے کا اعلان صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ حکومت بچوں کے صحت کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔

سندھ حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے دن کیا گیا ہے جب پاکستان میں کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد پانچ ہفتے میں سب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ جمعے کو جاری کیے جانے والے حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ایک دن میں کورونا وائرس کے 752 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں کورونا کے 6295 مریض موجود ہیں جبکہ 6408 افراد اب تک اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت نے تعلیمی ادارے کھولتے وقت یہ اعلان کیا تھا کہ ایسے ادارے بند کردیے جائیں گے جہاں یا تو کورونا کا کوئی مریض سامنے آیا یا وہ مقررہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی نگرانی کرنے والے مرکزی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملک بھر میں مروجہ ضابطہ کار پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اب تک کم ازکم 22 تعلیمی اداروں کو بند کیا جا چکا ہے۔

این سی او سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق 16 تعلیمی ادارے خیبر پختونخوا، پانچ ادارے آزاد کشمیر اور ایک اسلام آباد میں بند کیا گیا۔ دوسری جانب سندھ میں بھی دو کالجز کے عملے کے اراکین کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کالجز کو بند کر دیا گیا۔

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا کہ سندھ کے ضلع مٹیاری میں دو کالجوں کے عملے کے آٹھ اراکین کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد ان کالجوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور ٹویٹ میں سعید غنی نے بتایا کہ حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی کی وجہ سے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں بھی پانچ سکولوں کو بند کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں طلبہ اور عملے کے اراکین میں کورونا وائرس کے 16 کیسز کی تشخیص کے بعد ایک میڈیکل کالج کو بند کر دیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت نے 15 ستمبر سے سکولوں (صرف نویں اور دسویں جماعت)، کالجز اور جامعات کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کی اجازت دی تھی جس کے ساتھ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

سعید غنی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'اللہ نے کرم کیا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال اس خرابی تک نہیں پہنچی جس کا خطرہ تھا، یہی نہیں بلکہ ہمارے ملک میں صورتحال میں بہتری آئی اور کیسز اور اموات میں کمی آئی۔'

سعید غنی کے مطابق سکول کھولنے کے سلسلے میں سب کو تشویش تھی اور جب سکول کھولنے سے متعلق فیصلہ ہو رہا تھا تو تب بھی انھوں نے کہا تھا کہ یہ سب سے مشکل فیصلہ ہے۔

سندھ کے وزیر تعلیم سندھ غنی کا کہنا ہے کہ 'ملک میں حالات کی بہتری کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ 15 ستمبر سے بڑی کلاسز کھلیں گی جس کے بعد 21 سے چھٹی سے آٹھویں اور 28 ستمبر سے پرائمری اور پری پرائمری کے بچوں کے لیے اسکولز کھل جائیں گے۔'

سعید غنی کا کہنا ہے کہ اس پلان کا مقصد یہ تھا کہ سکولز میں بچوں کی تعداد کم رہے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کا تجربہ ہوسکے کہ کس حد تک ان پر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کچھ نجی تعلیمی اداروں میں ناقص انتظامات کے بارے میں بھی بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ نجی اسکولز جنہیں ہم نے بند کیا وہاں چھوٹی کلاسز کے بچوں کو بھی بلایا گیا تھا جبکہ وہاں کوئی ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جارہا تھا سب بچوں کو ایک ساتھ ہی بٹھایا گیا تھا۔

ان کے مطابق کچھ سرکاری سکولوں میں بھی کہیں کہیں کوتاہی دیکھنے کو ملی۔

سعید غنی کے مطابق ہم دوسرے مرحلے میں سکولز کھولنے کا فیصلہ 28 ستمبر تک مؤخر کر رہے ہیں لیکن اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ہم 28 سے پہلے بیٹھ کر کوئی فیصلہ کریں گے۔

پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ ٹیسٹنگ

فروری سے شروع ہونے والی وبا کے آغاز کے ساتویں مہینے میں پاکستان میں کل متاثرین کی تعداد اب تک تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 6399 ہے۔

گذشتہ روز پاکستان نے اب تک ایک روز میں سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے جن کی تعداد 31808 تھی اور ان کے نتیجے میں صرف 545 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہEPA

پاکستان میں اگست کے شروع سے لے کر اب تک ایک روز بھی ہزار سے زیادہ نئے متاثرین کی تشخیص نہیں ہوئی ہے اور بالخصوص 20 اگست کے بعد سے اب تک صرف ایک بار یومیہ متاثرین کی تعداد 600 سے زیادہ ہوئی ہے۔

اسی طرح اموات کی تعداد میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی ہے اور نہ صرف 23 جولائی کے بعد سے 50 سے زیادہ اموات ریکارڈ نہیں کی گئیں، بلکہ دو ستمبر کے بعد سے اب تک ایک روز بھی یومیہ اموات دس سے زیادہ نہیں ہوئی ہیں۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اب جب تقریباً تمام پابندیاں ہٹ چکی ہیں اور تعلیمی ادارے بھی کھل گئے ہیں، عوام کو ایس او پیز پر بے حد توجہ دینے کی ضرورت ہوگی ورنہ خدشہ ہے کہ یہ تعداد ایک بار پھر بڑھ جائے۔