نو سالہ بچے پر پھوپھی کے قتل کا الزام: کیا خاتون کے سر میں لگنے والی گولی بچے نے ہی چلائی؟

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو لاہور
غیرت کے نام پر قتل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پولیس کو پہلے بتایا گیا کہ خاتون کو لگنے والی گولی کسی نے عقب سے چلائی۔ مگر گولی انھیں سامنے سے پیشانی پر لگی تھی۔ مزید چھان بین پر گھر والوں نے بتایا کہ کنول پروین کے سر سے آر پار ہو کر ان کی زندگی کا خاتمہ کرنے والی گولی ان کے چچا زاد بھائی کے نو سالہ بیٹے نے چلائی۔

تین بچوں کی ماں 22 سالہ کنول پروین کو پاکستان کے شہر سرگودھا کے ایک نواحی علاقے میں حال ہی میں قتل کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق انھوں نے آٹھ برس قبل خاندان کی منشا کے خلاف اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔

تاہم کچھ عرصہ ناراضی رہنے کے بعد بظاہر ان کی خاندان والوں سے صلح ہو گئی تھی۔ چند روز قبل وہ اپنے شوہر محمد عمران کے ہمراہ اپنے بھائی معظم علی کو بیٹے کی پیدائش پر مبارکباد دینے کے لیے ان کے گھر چک 104 جنوبی پہنچی تھیں۔

وہیں نو سالہ لڑکے نے مبینہ طور پر ان پر گولی چلا کر انھیں قتل کیا۔

تاہم اتنے کم عمر بچے کی ان سے کیا رنجش تھی؟ قتل کے محرکات کیا ہو سکتے تھے؟

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

’بچے کو قتل پر اکسایا گیا‘

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو خاتون کے قتل پر اکسایا گیا تھا۔ صدر پولیس سرگودھا کے سب انسپکٹر امان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بچے کو اکسانے کا الزام محمد وقاص نامی ان کے ایک پڑوسی پر عائد کیا جا رہا ہے۔

’بظاہر محمد وقاص نے بچے کو نہ صرف پستول چلانے کی تربیت دی تھی بلکہ اس موقع پر کنول پروین پر گولی چلانے کے لیے اسے اکسایا بھی تھا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں یہ غیرت کے نام پر قتل کی واردات تو نہیں؟ پولیس کے مطابق محمد وقاص آٹھ برس قبل کنول پروین سے شادی کا خواہشمند رہا تھا۔

کنول پروین کے شوہر محمد عمران نے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو دی جانے والی درخواست میں بتایا تھا کہ جس روز وہ خاتون کے بھائی کے گھر پہنچے تو محمد وقاص پہلے سے وہاں موجود تھا اور نو عمر لڑکے کو پستول چلانے کی تربیت دے رہا تھا۔

ان کے مطابق کنول پروین نے برہم ہو کر محمد وقاص سے پوچھا تھا کہ وہ وہاں کیوں آیا ہوا ہے اور کیا کر رہا ہے، جس کے جواب میں اس کا کہنا تھا کہ وہ ’بچے کو کنول پروین کو قتل کرنے کے تربیت دے رہا ہے کیونکہ تم عمران کے ساتھ بھاگ گئی تھیں۔‘

جب دونوں میں تلخ کلامی بڑھ گئی تو محمد وقاص نے بچے کو پستول دیتے ہوئے کہا کہ کنول پروین پر نشانہ لو۔ اس نے پستول سیدھا کر کے گولی چلا دی۔ گولی کنول پروین کے سر میں لگی اور وہ نیچے گر گئی۔ محمد وقاص کمسن بچے کو لے کر احسان اللہ نامی ایک شخص کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہو گیا تھا۔

تاہم پولیس نے ان کے اس بیان اور اپنی ابتدائی تفتیش سے حاصل ہونے والی معلومات میں کئی مقامات پر تضاد پایا ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر امان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نو سالہ بچے کے گھر والوں نے ابتدا میں معاملے کو چھپانے کی کوشش کی۔ ’پہلے انھوں نے بتایا کہ کنول پروین کو گولی کسی نے عقب سے ماری تھی جبکہ انھیں گولی سامنے سے ماتھے پر لگی تھی۔‘

پولیس کے مزید سوالات پر انھوں نے بتایا کہ گولی نو سالہ بچے نے چلائی تھی جو محمد وقاص کے ساتھ موقع سے فرار ہو گیا تھا، تاہم پولیس کی طرف سے دباؤ کے بعد والدین نے کچھ دیر بعد پولیس کے سامنے پیش کر دیا تھا۔

گو کہ کمسن بچے کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم سب انسپکٹر امان اللہ کے مطابق جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ پستول گھر سے اٹھا کر لایا تھا۔ ’اس نے بتایا کہ وہ کنول پروین کو دھمکانے کے لیے پستول سیدھی کر رہا تھا لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی نالی میں گولی تھی جو چل گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

تفتیشی افسر کے مطابق کمسن بچے نے بھی غلط بیانی سے کام لیا اور پستول وہ گھر سے نہیں لایا تھا، بلکہ یہ اسے باہر ہی کہیں سے دیا گیا تھا۔ پولیس کی تحقیقات میں اہم پہلو یہ تھا کہ کیا بچے کو کنول پروین پر گولی چلاتے ہوئے کسی نے دیکھا تھا یعنی کیا کوئی چشم دید گواہ موجود تھا؟

تفتیشی افسر کے مطابق کمسن بچے کے والد کی ایک عزیزہ سائرہ بی بی نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے اسے کنول پروین پر گولی چلاتے ہوئے دیکھا تھا۔ تاہم اگر پولیس غیرت کے نام پر قتل کے ممکنہ محرک کو جانچنے کی کوشش کر رہی ہے تو کیا خاتون کی اس گواہی کو بغیر شک و شبہ مانا جا سکتا ہے؟

کیا واقعی بچے نے ہی گولی چلائی؟

یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نو سالہ کمسن بچے کے لیے یہ کس قدر ممکن تھا کہ وہ بھاری بھرکم 30 بور کا پستول اٹھا کر اتنا اچھا نشانہ لے کہ گولی اس سے دراز قد مخالف کے عین سر میں لگے؟

کیا گولی واقعتاً بچے نے چلائی تھی یا پھر ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کی کم عمری کا قانونی فائدہ اٹھانے کے لیے اسے استعمال کیا گیا ہو؟ اس پر انسپکٹر امان اللہ کا استدلال ہے کہ ’کمسن لڑکا پستول سے گولی چلانے کی اچھی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بچے کی عمر تو نو برس تھی مگر وہ جسمانی طور پر اپنی عمر سے بڑا لگتا ہے۔ ’بچہ محمد وقاص کے پاس کبڈی سیکھنے کے لیے بھی جاتا تھا اور وہ کافی عرصے سے اسے پستول چلانے کی تربیت بھی دے رہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لڑکے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ پہلے بھی کئی بار جنگل کی طرف جا کر گولیاں چلانے کی مشق کر چکا ہے۔ پولیس کے مطابق کمسن بچے اور محمد وقاص کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق بچے کو باپ کی حفاظتی تحویل میں دے دیا گیا ہے جبکہ محمد وقاص کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اگر غیرت کے نام پر قتل کے شواہد ملتے ہیں اور متعلقہ قانون کی دفعات کو مقدمے میں شامل کر لیا جاتا ہے تو اس کی پیروی پاکستانی ریاست کرے گی۔

اس طرح فریقین میں ممکنہ صلح کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں جو پاکستان میں قتل کے ایسے مقدمات میں بالعموم ہوتا رہا ہے۔