نواز شریف کے عسکری نمائندوں سے ملاقاتیں نہ کرنے سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا پر بحث

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی جانب سے عسکری نمائندوں سے ملاقاتیں نہ کرنے سے متعلق بیان نے ایک بار پھر ٹوئٹر پر ہلچل مچا دی ہے۔

نواز شریف نے اپنے نئے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ان کی جماعت کا کوئی رکن آئندہ انفرادی، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا۔

بدھ کی شام جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے دو ملاقاتیں کی تھیں تو اس کے بعد سے نیوز چینلز اور سوشل میڈیا طرح طرح کے سوالوں اور قیاس آرائیوں سے بھرا پڑا ہے۔

لگتا ہے کہ نواز شریف کی تازہ ٹویٹس کے بعد بھی سوالوں اور قیاس آرائیوں کا یہ سلسلہ تھمنے کی بجائے مزید طول پکڑتا جا رہا ہے۔

نواز شریف کے اس اعلان کے باوجود سوشل میڈیا پر یہ بحث ہو رہی ہے کہ ایسی ملاقاتیں پھر بھی جاری رہیں گی جبکہ بہت سے صارفین نواز شریف سے نون لیگ کے رہنماؤں کی ایسی سابقہ ملاقاتوں کے بارے میں جواب مانگ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TalatHUssain12

صحافی طلعت حسین نے لکھا ’نواز شریف کی طرف سے خفیہ، ذاتی، انفرادی، جماعتی میٹنگز پر بلا اجازت و شفافیت پابندی خوش آئند قدم ہے اگرچہ یقین رکھیے کہ ایسی ملاقاتیں کسی نہ کسی طرح جاری رہیں گی۔ اصل معاملہ ان میٹنگز میں طے پانے یا موضوع گفتگو بننے والے معاملات کا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’جب تک بند کمروں میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں گی ملاقاتوں پر قدغن ایک بے اثر ہدایت رہے گی۔‘

عبدالسمیع نامی صارف نے لکھا ’ہم مان لیتے ہیں کہ آپ نے پابندی لگادی لیکن بنیادی سوال اب بھی موجود ہے وہ یہ کہ جو یہ چند ملاقاتیں ہوئیں کیا یہ بطورِ پارٹی قائد آپ کے علم میں تھیں؟‘

انھوں نے مزید لکھا ’اگر نہیں تھیں تو ان ملاقاتیوں کے خلاف کارروائی کب کر رہے ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@samikamboh1998

اس کے باوجود چند صارفین ایسے بھی ہیں جنھوں نے نواز شریف کے اس اعلان کو خوش آئند اور مثبت قرار دیا ہے۔

صارف ظل ہما ڈار نے نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’میاں صاحب، رب آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آپ ستر سالہ لڑائی لڑنے جا رہے ہیں۔‘

انیس نامی ایک صارف نے لکھا ’اس کا مطلب اس دفعہ آپ نے ساری کشتیاں جلا دی ہیں؟ اچھا ہوا اب کوئی تو نکلا ہے حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے۔‘

لیکن دوسری ہی جانب بعض حلقوں کے مطابق نواز شریف کا یہ اعلان ان کی مستقبل کی سیاست پر سوالیہ نشان لگا سکتا ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز(لمز) کے شعبہ عمرانیات سے منسلک ندا کرمانی نے سابق وزیراعظم کا ٹوئٹر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ’میرے خیال میں یہ پاکستان مسلم لیگ نون کا اختتام ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NidaKirmani

نورین نامی ایک صارف نے جو بظاہر نواز شریف سے ناراض نظر آتی ہیں، طنز کرتے ہوئے لکھا ’بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ پاکستان آ کر یہ اعلان فرمائیں، حالات کا مردانہ وار مقابلہ کریں، رسیدیں جمع کروائیں، گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ کر بقیہ تمام عمر، مکہ مکرمہ میں اللّہ سے معافی مانگنے میں گزار دیں۔ بس کر دیں بہت ہو گیا۔‘