مسلم لیگ نواز کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے والے پانچ اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان

ایم پی اے

،تصویر کا ذریعہPunjab Govt

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے اپنے پانچ اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

پارٹی قیادت کی منظوری کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے اس فیصلے کا اعلان کیا ہے۔

پارٹی قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ممبران صوبائی اسمبلی میں خانیوال سے منتخب ہونے والے نشاط احمد ڈاہا اور فیصل خان نیازی، شیخوپورہ سے جلیل احمد شرقپوری اور چوہدری اشرف علی جبکہ نارووال سے ایم پی اے مولوی غیاث الدین شامل ہیں۔

ان اراکین کے خلاف کارروائی کا آغاز مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی منظوری کے بعد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

نامہ نگار عمردراز کے مطابق ان پانچ ممبران صوبائی اسمبلی نے رواں سال جولائی میں پنجاب کے وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی، اور اس ملاقات سے قبل جماعت کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

خانیوال سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی نشاط احمد ڈاہا تاہم اس سے قبل ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں مسلم لیگ کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ الزامات بھی سامنے آئے تھے کہ وہ ن لیگ میں فارورڈ بلاک بنانے کوشش کر رہے تھے۔

شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے جلیل احمد شرقپوری نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے ن لیگ کے قائد نواز شریف کی حالیہ اے پی سی کی تقریر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس پر ان سے باقاعدہ وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔

اُن پارٹی اراکین کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا ہے جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ میں موجود نہیں تھے۔ ایسے اراکین کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف بلوں کی منظوری کے دوران پارلیمان سے غیرحاضر رہنے والے اراکین اسمبلی و سینیٹ بشمول راحیلہ مگسی، کلثوم پروین، دلاور خان اور شمیم آفریدی کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔

سینٹ میں پارٹی ارکان کو شوکاز نوٹس ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق کے دستخطوں سے جاری کیے گئے ہیں۔

پی ایم ایل ن کے رہنما احسن اقبال کے مطابق شوکاز دینے کی کارروائی کے بعد اگلے مرحلے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے یہ ہدایات جاری کی تھیں کہ اُن کی جماعت کا کوئی رکن آئندہ انفرادی، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا۔

یہ ہدایت اس وقت جاری کی گئی جب فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان نے یہ دعوی کیا تھا کہ مسلم لیگ کے سینیئر رہنما محمد زبیر حالیہ ہفتوں میں دو مرتبہ آرمی چیف سے ملے ہیں۔