جنوبی وزیرستان میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی بحالی، طالبِ علموں کا بڑا مسئلہ حل ہوا

  • عمیر سلیمی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عمران خان

،تصویر کا ذریعہPTV

’یونیورسٹی کا ہاسٹل بند ہوا تو ہمیں واپس گھر جانا پڑا۔ کلاسز آن لائن ہو گئیں لیکن وہاں تو انٹرنیٹ ہی نہیں تھا۔'

گل نسا جنوبی وزیرستان کے ان طالبات میں شامل ہیں جن کی تعلیم آن لائن کلاسز کے دوران اپنے علاقوں میں انٹرنیٹ کی مناسب سروسز نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث وہاں کے باسی کئی مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

لیکن اب وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی وزیرستان میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو وانا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’نوجوانوں کا یہ مطالبہ تھا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت بہت ضروری ہے لیکن سکیورٹی کی وجہ سے مسئلہ تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید سے سکیورٹی کلیئرینس پر مشاورت کے بعد (انٹرنیٹ) سروسز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’اس سے یہاں کے مقامی افراد خاص کر طلبہ کے لیے سہولت ملے گی کیونکہ اکثر تعلیمی اداروں نے (کورونا کی عالمی وبا کے بعد) آن لائن کلاسز شروع کر دی ہیں۔‘

’کسی کا تعلیمی سال ضائع ہوا، کسی کو سمسٹر فریز کرانا پڑا‘

گل نسا جنوبی وزیرستان میں وانا سے تعلق رکھتی ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'وہاں انٹرنیٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے میرا دوسرا سمسٹر ضائع ہوا اور پھر یونیورسٹی نے اسے فریز کر دیا۔'

جب کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کو بند کر کے آن لائن کلاسز شروع کی گئیں تو ان سمیت کئی طلبہ کے لیے ہاسٹل کے دروازے بند ہو گئے اور انھیں اپنے علاقوں میں واپس جا کر آن لائن تعلیم جاری رکھنے کا کہا گیا۔

،تصویر کا ذریعہRiaz Khan/Gull Nisa

،تصویر کا کیپشن

ریاض خان (دائیں)، گل نسا (بائیں)

لیکن ان کی طرح کئی طلبہ انٹرنیٹ کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔

ان کے مطابق 'اگر یہ اقدام پہلے کر دیا جاتا تو ہماری تعلیم متاثر نہ ہوتی۔ لیکن اب بھی یہ زیر تعلیم طلبہ کے لیے بہت اچھا اقدام ہے۔'

گل نسا نے بتایا کہ وہ فی الحال اپنے تیسرے سمسٹر کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور دوسرا سمسٹر فریز ہونے کی وجہ سے انھیں اس کے امتحانات بعد میں دینے پڑیں گے۔

'جنوبی وزیرستان میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی سروس فراہم کی جانی چاہیے۔ اس سے طلبہ کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔۔۔ اُن وقتوں میں ہم لڑکیاں بار بار یونیورسٹی آ بھی نہیں سکتی تھیں اور نجی طور پر ہاسٹل یا دوسری سہولیات حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔'

ان کی طرح جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم ریاض خان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کے لیے مظاہرے کیے تھے۔

'جب کورونا اور لاک ڈاؤن کے دوران تعلیم آن لائن کی گئی تو (ہمارے علاقوں میں) طلبہ کو کافی مشکلات اٹھانا پڑیں۔ کسی کو سمسٹر فریز کرانا پڑا تو کسی کا تعلیمی سال ضائع ہو گیا۔'

انھوں نے بتایا کہ لاہور سمیت کئی بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں میں وزیرستان کے طلبہ پڑھ رہے ہیں اور انٹرنیٹ کی نامناسب سہولیات کی وجہ سے ان لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

’وزیرستان کے طلبہ کو آن لائن کلاسز میں مدد ملے گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جنوبی وزیرستان میں تھری جی اور فور جی موبائل براڈبینڈ سروسز کے آغاز کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کے پیشِ نظر سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کو علاقے میں فوری طور موبائل براڈ بینڈ خدمات کے آغاز کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ایک بیان میں پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ’یہ خدمات آج رات (یعنی بدھ) سے فعال کر دی جائیں گی جس سے علاقے کے مکین تعلیم، صحت، کاروبار اور دیگر مقاصد کے لیے استفادہ کر سکیں گے۔‘

’ان خدمات سے بالخصوص کووڈ۔19 کی صورتحال میں طلبہ کو آن لائن کلاسز سے فائدہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ اقدام اس علاقے کو تکنیکی ترقی کے معاملے میں ملک کے دیگر علاقوں کے مساوی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔‘