گوادر کی مچھلیوں کے گرد گھومتی معیشت: ’اگر ناشتے میں مچھلی نہ ملے تو سمجھیے وہ ناشتہ ہی نہیں‘

  • حمیرا کنول
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گوادر
گوادر

اگر ناشتے میں مچھلی نہ ملے تو سمجھیے گوادر میں تو اس روز گھر میں ناشتہ ہی نہیں ہوتا۔ ساحل ہو جیٹی یا مارکیٹ، یہاں آپ اکثر لوگوں کے ہاتھ میں پکڑی پلاسٹک کے تھیلوں میں مچھلیاں اٹھائے دیکھیں گے، تازہ پکڑی ہوئی چھوٹی بڑی مچھلیاں جو شاید ان کے اگلے وقت کا کھانا ہوں۔

آپ ہوٹل میں رکیں یا کسی کے گھر جائیں ایسا تو ناممکن ہے کہ آپ کو مچھلی پیش نہ کی جائے کیونکہ یہ مچھلیوں اور ماہی گیروں کا دیس ہے۔

ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ گوادر کے لوگ تین اطراف میں پھیلے سمندر سے نکالی جانے والی 1000 سے زیادہ سمندری انواع میں سے کیا پسند کرتے ہیں، یہاں گھر میں مچھلی کیسے پکتی ہے، اسے محفوظ کیسے کیا جاتا ہے اور ملکی و غیر ملکی سطح پر اسے کیسے بھجوایا جاتا ہے۔

مچھلی (ماہیگ) تو گھر میں پکتی ہے

،تصویر کا ذریعہfareed gwadari

عام طور پر بازار اور چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں اور ڈھابوں پر آپ کو پکی ہوئی مچھلی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ عموماً صبح سویرے ماہی گیر بھی گھر سے ناشتہ دان لے کر ہی سمندر کی جانب جاتے ہیں۔ ایک وجہ سادہ طرز زندگی ہے تو دوسری کم آمدن۔

بتایا جاتا ہے کہ سنہ 2012 میں یہاں مقامی سطح پر لاہور سے شیف بلوایا گیا تھا جس نے خواتین اور مردوں کو مچھلی پکانے کے جدید طریقے سکھائے تھے۔ کچھ لوگوں نے پھر وہاں بنے پی سی ہوٹل میں نوکری حاصل کی لیکن خواتین کے لیے بنایا گیا کمیونٹی کچن پھر بھی آباد نہیں ہو سکا۔

بازار میں تو مجھے زیادہ تر چکن تکہ بناتے کچھ افراد نظر آئے اور بندرگاہ پر ایک چھوٹا سا ڈھابہ دکھائی دیا۔ کڑاہی میں تیزی سے مچھلی فرائی کر کے سٹیل کی تھالیوں میں ڈالتے ڈھابے کے مالک نے ایک پلیٹ مجھے بھی پیش کی۔

ساتھ ہی ساتھ مچھلی کو دھونے کے بعد ہلدی لگا کر یا بغیر ہلدی کے بھی کڑاہی میں ڈالتے ہوئے بتانے لگے کہ یہاں آج کل مشکہ اور کند کا سیزن ہے اور یہ ڈھائی سو روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔

حکام کے مطابق اندازاً ایک لاکھ ساٹھ ہزار میٹرک ٹن مچھلی سالانہ بنیادوں پر گوادر میں شکار ہوتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اوسطً 100 ٹن مچھلی کا شکار ہوتا ہے۔

گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات عبدالرحیم نے بتایا کہ ’ہمارے پاس اقسام دیکھیں تو یہاں پر 1000 سے زیادہ سپیشیز ہیں اور اگر کمرشل کے بنیاد پر دیکھیں تو 300 سے زیادہ مچھلیوں کی اقسام ہیں۔‘

’بین الاقوامی طور پر اور خطے میں مشہور ٹیونا، انڈین میکرل اور سپینش میکرل، بلیک اور وائٹ پمفرٹ اور مشکا ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں تو پیداوار کی نسبت فقط ایک سے دو فیصد مچھلی کھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ہاں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ موجود آبادیاں سارا سال مچھلیاں کھاتی ہیں اور باقی مچھلی زیادہ تر چین، مشرق وسطیٰ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور سری لنکا وغیرہ جاتی ہے۔

بندگارہ کو یہاں جیٹی بولا جاتا ہے۔ اس روز ماہی گیروں کے سمندر سے لوٹنے کا وقت پانچ سے چھ بجے کے درمیان تھا۔ صبح کو جو مچھلی آئی تھی وہ جیٹی سے اب بازاروں میں فروخت ہونے کے لیے آ چکی ہے یا فیکٹریوں میں فریز ہونے کے لیے۔

گوادر میں مچھلی بیچنے والی واحد خاتون، ماسی مہاتون

مجھے بتایا گیا کہ یہاں گوادر میں پہلے پہل خواتین کی بڑی تعداد مچھلی بیچتی تھیں اور وہ یہاں کارڈز بھی کھیلتی تھیں۔ لیکن اب بس ماسی مہاتون ہی رہ گئی ہیں جو گوادر میں جنت مارکیٹ کے ساتھ غفور چوک میں مچھلی بیچتی ہیں کچھ عرصہ قبل ماسی آمنہ کا بھی انتقال ہوا ہے جو بندرگاہ پر بیٹھ کر مچھلی فروخت کرتی تھیں۔

ہاں گھروں میں ماہی گیر کمیونٹی کی خواتین صبح آٹھ بجے کے قریب پوریاں اور کوفتے تیار کرتی ہیں اور شام میں چنا چاٹ جسے مقامی آبادی ان کے گھر کے دروازے سے ہی 20 سے 30 روپے میں خریدتی ہے۔

میں یہاں عورتوں کے لیے مخصوص بازار سے ہوتے ہوئے ماسی مہاتون سے ملی۔ جنت بازار میں گاڑیوں کی انٹری ممنوع ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا بازار ہے اور واحد جگہ جہاں آپ کو بہت سی خواتین دکھائی دیتی ہیں۔

یہاں موجود خواتین بلوچی لباس اور مخصوص کڑھائی والے کپڑے پہنے ہوئے ہے۔ رنگ برنگے دھاگے، کپڑے اور دیگر سامان جیسا کہ لوکل شفون اور ایرانی کپڑے کی یہاں مانگ ہے۔

یہاں جدید مارکیٹ نہیں چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں اور فروخت ہونے کے لیے ایک جیسا مال اسباب، یوں سمجھیے اندرون شہر کے پسماندہ علاقے کا چھوٹا سا بازار ہے یہ۔

جنت مارکیٹ سے نکلیں تو میر غفور چوک میں ایک جانب ایک وسیع گھر ہے جو یہاں کے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کا ہے۔ گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ اینٹوں پر رکھے تختوں کے پیچھے قریب پندرہ فٹ کے فاصلے پر بیٹھے لوگ مچھلی صاف کر رہے ہیں۔

سامنے بازار میں رونق ہے، کچھ لوگ مچھلی خریدنے کے لیے رکتے ہیں اور اس کی صفائی کا انتظار کرتے ہیں، ریٹ فکس ہے سو بھاؤ تاؤ کا جھگڑا یہاں نہیں ہوتا۔

،تصویر کا کیپشن

مہاتون کہتی ہیں کہ سب سے اچھی مچھلی مشکہ ہے

پانی سے بھری چھوٹی چھوٹی پیلی اور نیلی اور سفید بالٹیاں بھی ان لکڑی کے تختوں کے ساتھ دھری ہیں۔ میں جب وہاں پہنچی تو ایک بوڑھی خاتون بالٹی ہاتھ میں پکڑے آگے چلتی دکھائی دیں۔ وہاں موجود مچھلی صاف کرتے شخص سے پوچھا کہ مہاتون کہاں ہیں؟ تو انھوں نے بتایا ’وہ جا رہی ہیں ابھی واپس آ جائیں گی انتظار کریں۔‘

براؤن کلر کے بوسیدہ لباس پر بلوچی کڑھائی اور ہاتھ میں سیاہ گھڑی پہنے مہاتون بی بی نے آتے ہی اپنی سیٹ پھر سے سنھبال لی اور براؤن دستے پہ لگی لمبی سی زنگ آلود چھری سے مچھلیوں کو صاف کرنا شروع کر دیا۔ ان کے پاس پلیٹ میں نمک رکھا تھا اور ایک کپڑا جسے وہ گاہگ کو مچھلی دینے کے بعد ہاتھ صاف کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ گوادر میں پانی شاید مچھلی سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔

مہاتون کو اُردو نہیں آتی سو میں نے وہاں موجود ایک شخص کی بطور مترجم خدمات لیں اور مہاتون سے پوچھا کہ کیا آپ ہم سے بات کرنا پسند کریں گی کیمرے پر۔ تو وہ مسکرا کر کہنے لگیں ’کروں گی بات۔‘ یوں میں نے انھیں مائیک لگایا اور بات کا آغاز ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ کہ انھیں اپنی عمر تو ٹھیک سے نہیں معلوم مگر وہ گذشتہ 20 سال سے مچھلی فروخت کر رہی ہیں۔

میرا اگلا سوال تھا صرف آپ ہی یہاں مچھلی کیوں بیچتی ہیں؟ ’میں غریب ہوں ناں اس لیے۔ چھوٹی سی تھی تو کام شروع کیا یہاں اور کوئی عورت مچھلی نہیں بیچتی۔ میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے۔‘

مہاتون کہتی ہیں پہلے عورتوں کی الگ مارکیٹ تھی۔ انھوں نے بتایا ’دوسری تمام خواتین جو میرے ہمراہ مچھلی بیچتی تھیں وہ اب یہ کام چھوڑ چکی ہیں۔‘

ان کا بیٹا چھ برس کا تھا تو شوہر کا انتقال ہو گیا تھا۔ دو بیٹیاں ہیں۔ ان کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے کبھی ایک بیٹی کے ہاں تو کبھی دوسری کے ہاں اور کبھی اپنی بہن کے ساتھ رہتی ہیں۔ پہلے پہل انھوں نے گھروں میں کام کیا پھر مچھلی بیچنا شروع کر دی۔

مہاتون جو لگ بھگ 55 یا 60 برس کی ہوں گی، کے کام میں برق رفتاری اور مہارت قابل دید ہے۔ مچھلی کی کھال، پر اور اس کے ٹکڑے کاٹ کر اندر سے فالتو مادہ نکالنا مسلسل بغیر رکے۔ کسی گاہک کو چھوٹی مچھلی چاہیے کسی کو مچھلیاں تو کسی کو کٹی ہوئی مچھلی۔

،تصویر کا کیپشن

یہاں ہر سیزن میں مختلف مچھلی کھائی جاتی ہے

گوادری مچھلی کو ماہیگ کہتے ہیں اور ماہی گیر کو ناخدا اور ماہی گیر سے مچھلی خریدنے والا سیٹھ کہلاتا ہے جو آگے مہاتون اور دیگر بہت سے لوگوں کو مچھلی بیچ دیتا ہے۔ مچھلی کو صاف کر کے بیچنے پر جو چند سو روپے بچتے ہیں وہ ان لوگوں کی دیہاڑی بن جاتی ہے اور یوں زندگی چل رہی ہے۔

مہاتون کے مطابق گوادر کی سب سے اچھی مچھلی مشکا ہے۔

گوادر آنے سے پہلے میں نے سنا تھا وہاں مچھلی بہت مہنگی ہے یہاں آ کر ہر جانب مچھلی ہی مچھلی دیکھ کر مجھے لگا ایسا نہیں ہو گا یہاں مچھلی کیوں مہنگی ہو گی بھلا۔ میں نے مہاتون سے بھی یہی سوال کیا تو لگا وہ بھی مہنگائی سے شدید اکتائی ہوئی ہیں۔

وہ تختے پر پڑی مچھلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگیں ’سستی نہیں ہے، مہنگی ہے۔ یہ ساری مچھلی تین ہزار میں لی ہے۔ ہزار پانچ سو ملتا ہے فائدہ نہیں ہے، مہنگائی ہے۔ ایک مچھلی کے بدلے پچاس بھی دے گا 20 بھی دے گا۔'

وقت رخصت مہاتون کی بھی وہی شکایت تھی کہ گوادر کی ترقی ان جیسوں کے لیے نہیں ہے۔

’پہلے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کچھ رقم ملتی تھی لیکن اب بند ہو گئی ہے۔ معلوم نہیں کیوں، کس لیے بند کی گئی۔ پہلے والا گوادر ہمارے لیے بہت بہتر تھا، اب مشکلات زیادہ ہیں۔ ترقی ہمارے لیے نہیں ہے، باہر سے آنے والوں کے لیے ہے۔ شہر میں آج بھی کہیں پانی کا تو کہیں بجلی کا مسئلہ ہے۔‘

یہاں سوکھی مچھلی آج بھی پسند کی جاتی ہے

جیٹی پر تو میں نے ہلدی لگی مچھلی بنتے دیکھی لیکن گوادر میں گھروں میں کون سی مچھلی زیادہ پسند کی جاتی ہے۔

اس بارے میں مجھے یہاں کی رہائشی عارفہ نے بتایا کہ ناشتے میں سارڈین (لجیر) لازم ہے۔ اس میں مصالحہ ڈال کر اسے فرائی کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں جس دن لیجر نہیں سمجھو ہم نے ناشتہ کیا ہی نہیں۔ اس روز جب ہماری بات ہوئی تو عارفہ مچھلی کی بریانی بنا رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہArifa

انھوں نے بتایا کہ ’ہر ایک مچھلی کا سیزن ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تین مچھلیوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ایک سہرو ہوتی ہے اس کی کڑاہی بناتے ہیں، ایک ہوتی ہے گور یعنی سرمئی اسے سلائس کر کے پکاتے ہیں اور اس سے کڑاہی اور بریانی بنا سکتے ہیں۔ گلبت کو ایسے بھی پکاتے ہیں اور بریانی اور کڑاہی بھی بنا لیتے ہیں۔‘

’یہ تینوں مچھلیاں بہت پسند کی جاتی ہیں لیکن یہ مہنگی ہوتی ہیں۔ فی کلو گلبت چھ، سات سو روپے، گور (سرمئی) ہزار سے گیارہ سو روپے اور سہرو آٹھ سے نو سو روپے فی کلو کے حساب بکتی ہے۔‘

کہتے ہیں پہلے پہل جب مچھلیوں کو فریز کرنے کا انتظام نہیں ہوتا تھا تو ماہی گیر مچھلیوں کو خشک کر کے گدھوں پر لاد کر دیگر علاقوں میں جا کر فروخت کرتے تھے۔

عارفہ نے بتایا کہ ’یہاں سوکھی ہوئی مچھلی بھی بنتی ہے اسے سورین ماہیگ (نمکین مچھلی) کہتے ہیں۔ اس کو نمک ہلدی اور انار دانہ وغیرہ لگا کر دھوپ میں رکھتے ہیں، خشک گوشت کی طرح کرتے ہیں۔ پھر اسے پانی میں ابال لیتے ہیں، تھوڑا سا لیموں بھی ڈالتے ہیں اور اس میں روٹی ڈال کر کھاتے ہیں ایسے زیادہ سارم مچھلی کو کھایا جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ہلدی، کٹی ہوئی لال مرچ، لیموں اور پیکٹ کا مصالحہ بس یہی استعمال ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہArifa

عارفہ کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں میٹھی مچھلی نہیں ملتی ہم وہ نہیں کھاتے یہ کوئٹہ وغیرہ میں ہوتی ہے یہاں ہوٹلوں میں ہوتی ہے لیکن گھروں میں نہیں کھائی جاتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہیپٹائٹس کی بیماری کے علاج کے لیے پیشک نامی مچھلی استعمال کی جاتی ہے اور ہمارے ہاں ایسا نہیں کہ مچھلی کے ساتھ یہ نہیں کھانا وہ نہیں کھانا یا کسی مخصوص موسم میں کھانی ہے، ہم تو گرمی میں بھی مچھلی کھاتے ہیں۔‘

’جو مہنگی مچھلی کھا سکتے ہیں وہ سرمئی لیتے ہیں یا پمپلٹ لیتے ہیں۔ جو کم لے سکتے ہیں وہ مشکہ یا انڈین میکرل لیتا ہے۔‘

ناخدا پہلے ساحل پر مچھلی خیرات کرتے ہیں

مچھلیوں کے اس شہر میں ایسے بھی لوگ ہیں جو سارڈین بھی خریدنے کی قوت نہیں رکھتے۔

عارفہ کہتی ہیں کہ ساحل پر کشتیوں کے آنے سے آدھ گھنٹہ پہلے ضرورت مند لوگ وہاں آ جاتے ہیں تو ناخداؤں کو معلوم ہوتا ہے اور وہ انھیں مچھلی عطیہ کر دیتے ہیں۔

`کنارے پر تو آدھ گھنٹے پہلے غریب لوگ تھیلی لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ماہی گیر کو پتا ہے کہ یہ غریب لوگ ہیں وہ ثواب کے لیے انھیں یہ مچھلیاں مفت میں دے دیتے ہیں جیسے سارڈین، مشکہ وغیرہ۔ وہ لوگ ان مچھلیوں کو بازار لے جا کر بیچ دیتے ہیں یا پھر گھر لے جاتے ہیں۔ بیچ کر وہ اس سے اپنی سبزی وغیرہ لے لیتے ہیں۔‘

میکرل اور سارڈین

،تصویر کا ذریعہGul

،تصویر کا کیپشن

یہ انڈین میکرل ہے جو برآمد بھی کی جاتی ہے

گوادر سب سے زیادہ مشہور اور شکار کی جانے والی مچھلی انڈین میکرل اور سارڈین فش ہے۔ انڈین میکرل 300 روپے فی کلو اور سارڈین ایک سو کلو روپے ملتی ہے۔

عبدالرحیم کہتے ہیں کہ ’ہماری مچھلی کی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ یہاں آلودگی نہیں ہے۔ ہماری مچھلی کی ویلیو ہے۔ جو سب سے زیادہ جو ایکسپورٹ ہوتی ہے انڈین میکریل، آئل سارڈین اور ٹیونا ہے۔ ٹیونا کی آٹھ میں سے تین قسمیں باہر ملک بھجوائی جاتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہاں مختلف طریقوں سے مچھلی پکڑی جاتی ہے جال سے بھی اور ہُک کے ذریعے بھی۔

’جال ڈالنے اور نکالنے میں ٹائم لگتا ہے۔ ایک سے دو گھنٹے اور اس سے زیادہ بھی وقت لگ سکتا ہے۔ لیکن جو مچھلی ہینڈ لائن یعنی کنڈی لگا کر پکڑتے ہیں وہ فوراً اسی وقت زندہ نکالتے ہیں وہ زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور مہنگی بکتی ہے۔ اس کو زیادہ تر مشرق وسطیٰ بھجوایا جاتا ہے۔‘

’جو جال کے ذریعے نکالتے ہیں وہ چین ملائیشیا بھجواتے ہیں اور کچھ یورپی ملکوں کو۔‘

یہاں اب فیکٹریوں میں بھی مقامی خواتین کام نہیں کرتیں۔ ایک فیکٹری میں مجھے چند لڑکیاں کام کرتی دکھائی دیں جن کے بارے میں پتا چلا کہ یہ بنگالی ہیں اور یہیں ان کو رہائش بھی ملی ہوئی ہے۔

فیکٹریوں کی بھی اپنی دنیا ہے یہاں پانی، کولنگ مشینوں کا شور ہے۔ ورکرز تیزی سے دھلی ہوئی مچھلیوں کو مخصوص ٹرے میں بھر بھر کر آگے دیتے ہیں تاکہ انھیں فریز کر کے کراچی بھجوایا جائے۔

سب سے زیادہ مچھلی یہاں سے چین جاتی ہے۔ بندگاہ تو بن چُکی ہے اور حکام کے مطابق کم از کم 28 مرتبہ یہاں کی پورٹ سے مچھلی برآمد ہوئی ہے لیکن ابھی کچھ سکریننگ اور دستاویزات کے حوالے سے مسائل ہیں، اس لیے ابھی مچھلی کراچی کے راستے ہی برآمد ہو رہی ہے۔

زندہ لوبسٹر اور کیکڑے کی بڑی مانگ

تین اطراف میں سمندر میں گھرے اس علاقے میں ہر جانب مختلف انواع کی مچھلیاں اور سی فوڈ ہے۔ عبدالرحیم نے بتایا کہ پیچھے کا جو سمندر ہے وہ الگ ہے۔ ایکالوجی میں فرق ہے۔ شارک، ڈولفن اور فش وہاں آتی ہے۔ جبکہ اطراف میں یہ محفوظ علاقہ ہے۔ کمرشل فشنگ کے لیے چھوٹے مچھیرے ادھر جاتے ہیں، چھوٹی مچھلیاں ادھر ہوتی ہیں۔

’(سمندر میں) مشرق اور مغرب کی جانب آئل سارڈین اور انجن میکرل ملتی ہیں۔' اس کے علاوہ وہاں جھینگے اور کیکڑے بہت نایاب ہیں۔‘

سب سے مہنگی سی فوڈ لوبسٹر ہے جس کی قیمت 5000 ہزار ہے۔ اسے زندہ ہی بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے۔ اسے سمندر سے پکڑ کر جلدی جلدی بوری میں بند کر کے محفوظ مقام پر لے جاتے ہیں تاکہ اس کی زندگی کو برقرار رکھا جائے۔

سمندر کے کنارے ماہی گیر انٹرویو دینے سے کتراتے ہیں جس کی وجہ سکیورٹی کی سختیاں ہیں۔ انھوں نے مجھے لوبسٹر اور کیکڑوں کے بارے میں بتایا۔

ایک ماہی گیر نے کہا کہ کیکڑے کا سوپ سانس کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے۔ یہ بہت گرم ہوتا ہے اسے فریز نہ کیا جائے تو پھر خراب ہو جاتا ہے۔ اسے لینے کے لیے لوگ دور سے بھی آتے ہیں۔

مچھلی کی پراسیسنگ عالمی معیار کی نہیں

عبدالرحیم کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس 40، 45 کے قریب پراسسنگ پلانٹ ہیں جن کے ذریعے ہم مچھلی کو فریز کرتے ہیں اور ایکسپورٹ کرتے ہیں لیکن جو پراسیسنگ ہو رہی ہے وہ معیاری نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آئی ایس او سرٹیفکیشن اور دیگر معیار یہاں اپلائی نہیں ہوتے۔ صورتحال اچھی نہیں، اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کراچی تک یا آگے کی ٹرانسپورٹیشن کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’کشتی کے اندر بھی مچھلی کو بہتر انداز میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ ابھی گوادر میں ایک ہی بندرگاہ ہے، اس کے لیے مزید بندرگاہوں کی ضرورت ہے۔ اور صحت کے معیاری اصولوں کے مطابق مارکیٹ بنانے کی ضرورت ہے۔ چھوٹی، چھوٹی بندرگاہیں بنانے کی بھی ضرورت ہے۔‘

کورونا وائرس کی وجہ سے بیرون ملک جانے والی مچھلیوں کی بھی سکریننگ ہوتی ہے۔ اور کورونا سے بھی بڑا مسئلہ ان پانیوں میں آنے والے ٹرالرز سے ہے اور کوئی ماہی گیر ایسا نہیں جس سے آپ ملیں اور وہ اپنے رزق کے ذریعے مچھلی کی نسل کشی پر نالاں نہ ہو۔