این اے 75 ضمنی انتخاب: ’کسی پریزائیڈنگ افسر نے گاڑی تو کسی نے موسم خراب ہونا وجہ بتایا‘

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
این اے 75 ضنمی انتخاب، ڈسکہ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@PMLN_ORG

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 (ڈسکہ) میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کوئی بے قاعدگی نہ پائی گئی تو جلد نتائج جاری کر دیے جائیں گے، ورنہ دوبارہ پولنگ کا حکم دیا جائے گا۔

منگل کے روز قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف چیف کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمشن کے پانچ رکنی بینچ نے اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ نواز کی امیدوار نوشین افتخار کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس حلقے میں 19 فروری کو ہونے والے پولنگ کے دن اور پھر نتائج سے متعلق خود الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونی والی پریس ریلیز ایک اہم دستاویز ہے، جس میں ساری کہانی عیاں کر دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ پولنگ سٹیشنز کے پریزائڈنگ افسران کا اچانک سے گم ہو جانا انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن صرف ان پولنگ سٹیشنز کے پریذائیڈنگ افسران کی مبینہ گمشدگی کو نہ دیکھے بلکہ پورے حلقے کے پولنگ سٹیشنز کی تحقیقات کرے کہ کس طرح ’فائرنگ کر کے حلقے میں خوف و ہراس پھیلایا گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہECP

،تصویر کا کیپشن

این اے 75 ضنمی انتخاب پر الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز

این اے 75 ضمنی انتخاب: ریٹرننگ افسر نے کیا بتایا؟

عدالت نے اس حلقے کے ریٹرننگ افسر (آر او) کو طلب کیا جس نے بتایا کہ اس حلقے میں قائم 360 پولنگ سٹیشنز میں سے 337 پولنگ سٹیشنز کے نتائج رات گئے یعنی ساڑھے تین بجے کے قریب موصول ہو چکے تھے۔

’20 پریزائڈنگ افسران سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، ایک پریزائڈنگ افسر کے علاوہ کسی کا فون نہیں مل رہا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ تمام پولنگ سٹیشنز 30 سے 40 کلومیٹر کی حدود کے اندر واقع تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان افسران کو گاڑیاں بھی فراہم کی گئی تھیں اور یہ ممکن نہیں تھا کہ یہ افسران اکیلے ہوں۔ ان کے ساتھ پولیس اہلکار بھی تھے۔

ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ اس رات موسم بھی خراب تھا جس پر چیف الیکشن کمیشنر نے آر او سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے وائرلیس کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی؟ اس پر ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ ’پولیس والوں سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔‘

آر او کا کہنا تھا کہ ’20 مشتبہ پولنگ سٹیشنز میں سے چار کلئیر ہیں، جو نتیجہ ایجنٹس کو دیا گیا وہی نتیجہ درست نکلا۔‘

انھوں نے کہا کہ جب پولیس کو کہا کہ ان افسران سے رابطہ کریں تو پولیس والوں نے بھی جواب دیا کہ ان سے رابطہ نہیں ہو رہا۔

بینچ کے ایک رکن نے ریٹرننگ افسر سے استفسار کیا کہ اگلی صبح جب پولنگ سٹیشنز کے پریزائڈنگ افسران تاخیر سے پہنچے تو کیا انھوں نے ان افسران سے پوچھ گچھ کی جس پر ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ ان میں سے کسی نے موسم کی خرابی اور کسی نے گاڑی کے خراب ہونے کی وجوہات بتائیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

این اے 75 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کی امیدوار نوشین افتخار (دائیں جانب) کے وکیل کا کہنا ہے کہ ’فائرنگ کے علاوہ کورونا ایس او پیز کا بہانہ بنا کر لوگوں کو ووٹ دینے سے روکا گیا‘

جب بینچ کی طرف سے آر او سے یہ استفسار کیا گیا کہ کیا انھوں نے گاڑی کے ڈرائیوروں سے بھی گاڑی کی خراب ہونے کی تصدیق کروائی تو آر او نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ریٹرننگ افسر بینچ کی طرف سے پوچھے گئے اس سوال کا بھی جواب نہیں دے سکا کہ کیا دھند سے متعلق انھوں نے محکمہ موسمیات سے رپورٹ طلب کی تھی۔ بینچ کی طرف سے آر او سے یہ بھی سوال گیا کہ کیا ان افسران کی لوکیشن مختلف موبائل کمپنیوں سے معلوم کروائی تھیں، اس کا بھی آر او کوئی جواب نہ دے سکے۔

الیکشن کمیشن نے آر او سے سوال کیا کہ ’کیا آپ پہلی بار آر او بنے ہیں؟‘ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں تیسری بار آر او بنا ہوں۔‘

چیف الیکشن کمشنر نے آر او سے استفسار کیا کہ فروری کو جب ان سے رابطہ ہوا تھا تو وہ گھبرائے ہوئے تھے، اس کی کیا وجہ تھی جس پر ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ چونکہ دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم زیادہ تھا اس وجہ سے تصادم کا خطرہ تھا۔

بینچ کی طرف سے سوال کے جواب میں ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ نے ان کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ اس جواب پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آر او اپنے موقف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

پولیس فائرنگ کرنے والوں کی شناخت نہ کرسکی

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ان پریذائڈنگ افسران کی بازیابی کے لیے پنجاب پولیس کے آئی جی اور سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہاں سے کوئی ردعمل نہیں ملا۔

چیف الیکشن کمشنر نے ریٹرننگ افسر سے استفسار کیا کہ کیا سارا ریکارڈ موجود ہے جس پر انھوں نے کہا کہ ’سارا ریکارڈ محفوظ ہے۔‘

درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ سارا دن میڈیا پر رپورٹنگ ہوتی رہی کہ یہ حلقہ میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ اس حلقے کی جیوفینسنگ کروا لیں۔ انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے علاوہ کورونا ایس او پیز کا بہانہ بنا کر لوگوں کو ووٹ دینے سے روکا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اس حلقے میں دوبارہ پولنگ کروائی جانی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER

،تصویر کا کیپشن

پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی کے وکیل کا کہنا ہے کہ 'اگر مخالف امیدوار جیت رہی تھیں تو پھر دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا کیوں جارہا ہے'

سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے حلقے میں ہونے والی فائرنگ کی ویڈیو بھی پیش کی گئیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے آر او سے استفسار کیا کہ یہ سب کچھ ہوتا رہا تو اس پر انھوں نے کیا کارروائی کی جس پر آر او کا کہنا تھا کہ جو معاملہ ان کے نوٹس میں آیا اس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

بینچ کی طرف سے استفسار کیا گیا کہ کیا فائرنگ میں ملوث کسی شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ پولیس ابھی تک کسی کو شناخت نہیں کرسکی۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی کے وکیل کا کہنا تھا کہ پہلے مخالف امیدوار کی طرف سے کہا گیا کہ وہ تین ہزار ووٹوں سے جیت رہے ہیں اور اب دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر مخالف امیدوار جیت رہی تھیں تو پھر دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا کیوں جارہا ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف نے مخالف امیدوار کی درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا کری۔ علی بخاری کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا کہ انتخابی نتائج کا اعلان کردیا جاتا اور پھر یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل میں لے جایا جاتا۔

چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ اگر الیکشن ٹھیک ہوا تو نتیجہ جاری ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو دوبارہ پولنگ کرواسکتے ہیں۔

تحریک انصاف کے وکیل نے الیکشن کمیشن سے دستاویزات جمع کرانے کے لیے وقت مانگا تو چیف الیکشن کمشنر نے ان سے پوچھا کہ ’آپ شواہد کب تک دے سکتے ہیں؟‘

وکیل نے جواب میں ایک ہفتے کا وقت مانگا اور کہا کہ وہ ’تصدیق شدہ نتائج اور شوہد جمع کرانا چاہتے ہیں۔‘

اس پر الیکشن کمیشن کے ممبر پنجاب نے کہا کہ ’اب موسم خراب نہیں ہے، ایک دن میں جواب دیں۔‘ ممبر کے پی کا کہنا تھا کہ ’تاخیر سے آپ کا نقصان ہو گا۔‘

الیکشن کمشن نے 24 فروری تک پی ٹی آئی کے امیدوار کو دستاویز جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔