شادی پر جہیز کی رسم: ’اگر میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھتے نہیں، تو کوئی فرنیچر، نہ گاڑی آپ کے کام آتا ہے‘

  • سارہ عتیق
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
نازش فیض، ثنا فہد، زبیرہ جان

،تصویر کا ذریعہZubaira Jaan/Sana Fahad/Nazish Faiz

’اصل زندگی میں جہیز کو نہ کہنا اتنا آسان نہیں جتنا بہت سے لوگ سمجھتے ہیں۔‘ یہ کہنا ہے راولپنڈی کی رہائشی نازش فیض کا جنھیں اپنے سسرال والوں کی جانب سے جہیز کی صورت میں کیے جانے والے مطالبات پورے کرنے کے لیے اس حد تک جانا پڑا کہ ان کے گھر والوں کو قرض لینا پڑا لیکن رشتہ طے ہونے سے شروع ہونے والے جہیز کے مطالبات شادی کے بعد بھی نہ رک سکے اور ان کی شادی صرف چار ماہ بعد ہی ختم ہو گئی۔

ہمارے معاشرے میں ’جہیز‘ شادی بیاہ کے موقع پر ادا کی جانے والی بہت سی رسموں میں سے ایک ہے لیکن یہی ایک رسم اگر پوری نہ کی جائے تو بہت سی لڑکیوں کی یا تو شادی نہیں ہو پاتی اور اگر ہو جائے تو انھیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک میں سرفہرست ہے جہاں جہیز نہ لانے کے وجہ سے قتل ہو جانے والی خواتین کی شرح بہت زیادہ ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ برائے خواتین نے مشہور فیشن ڈیزائنر علی ذیشان کے ساتھ مل کر جہیز کے خلاف آگاہی مہم کا آغاز کیا جس نے سوشل میڈیا پر اس رواج سے متعلق ایک بار پھر بحث چھیڑ دی۔ کچھ لوگ جہیز لینے والوں کی مذمت کرتے دکھائی دیے تو کچھ نے اسے اہم رسم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے

نازش فیض نے جہیز کے مطالبات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرے والدین جب رشتہ طے کرنے لڑکے کے گھر گئے تو میری ساس نے میری امی کو گھر کا وہ حصہ دکھایا جہاں میں نے شادی کے بعد رہنا تھا اور کہا کہ آپ جو کچھ بھی دیں گی اپنی بیٹی کو ہی دیں گی۔‘

’اس کے بعد انھوں نے میری امی سے مطالبہ کیا کہ شادی کے موقع پر نہ صرف انھیں اور ان کی بیٹی کو سونے کے زیورات بطور تحفہ دیے جائیں بلکہ ان کے بیٹے (میرے شوہر) کو بھی سونے کا کچھ دیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہNazish Faiz

،تصویر کا کیپشن

نازش سمجھتی ہیں کہ انھوں نے جہیز کے مطالبات کو نہ کہنے میں بڑی دیر کر دی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ شادی سے قبل ہی ایسے مطالبات کو ماننے سے سختی سے انکار کر دیں

نازش کا کہنا ہے کہ ان کے والد اور بھائی دونوں ہی حیثیت سے زیادہ جہیز دینے کے خلاف تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ رسم نہ صرف مذہبی روایات کے خلاف ہے بلکہ وہ ان کو پورا کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’میری امی نے کئی بار میرے سسرال والوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم جہیز کے مطالبات پورے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے لیکن ہر بار ہی انھیں یہ سننے کو ملتا کہ اگر آپ نے یہی کرنا تھا تو آپ اپنے خاندان میں شادی کرتے۔‘

نازش کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ ان کی گھر والوں نے ان کی خوشی کے لیے جہاں تک ہو سکا وہ مطالبات پورے کیے لیکن ان کے سسرال والوں کی فرمائشوں کا سلسلہ شادی کے بعد بھی نہیں رکا۔

’شادی کے ایک ہفتے کے بعد ہی میری ساس میرے کمرے میں آئیں اور مجھے کہنے لگیں کہ اپنا جہیز پورا کرو۔ اس کے علاوہ میرے سسرال والے میرے جہیز میں لائی گئی چیزوں کا بھی مذاق اڑاتے اور تنقید کرتے کہ میرے گھر والوں نے سستی چیزیں دیں۔‘

نازش کے مطابق ان کے سسرال والوں کی جانب سے کئے جانے والے مسلسل جہیز کے مطالبات اور طعنے ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان آئے روز جھگڑے کی وجہ بننے لگے اور صرف چار ماہ بعد ہی ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی۔

آپ لڑکی والے ہیں آپ مطالبات نہیں کر سکتے

زوباریہ جان اسلام آباد کے ایک نجی سکول میں ٹیچر ہیں اور سنہ 2015 میں ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ان کے لیے ایک رشتہ آیا۔

’میرے والدین کو رشتہ پسند آیا تو انھوں نے منگنی کی بات کی لیکن لڑکے والوں نے نکاح اور رخصتی پر اسرار کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ میرے والدین نے ان سے کوئی بہت بڑا مطالبہ کر لیا انھوں نے بس یہ کہا کہ ہم ابھی منگنی کر دیتے ہیں جب آپ کا بیٹا اپنا گھر بنانے کے قابل ہو جائے گا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا تو ہم رخصتی کر دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہZubaria Jaan

،تصویر کا کیپشن

زوباریہ کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ رشتے ختم ہو جانے کے ڈر سے جہیز کو نہ نہیں کہتے

’جس پر لڑکے کی والدہ نے کہا کہ یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ لڑکی والے ہیں آپ کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے۔ ہم لڑکے والے ہیں اور مطالبہ تو ہم کریں گے۔ لڑکا کیوں اپنا گھر کرے گا؟ گھر تو آپ کی بیٹی لے کر آئے گی۔‘

زوباریہ کا کہنا ہے کہ ان کے والدین جہیز میں گھر کا مطالبہ سن کر حیران ہو گئے۔

’اگرچہ میرے والد بھی ایک صاحب حیثیت شخص ہیں اور انھوں نے ہمیشہ ہمیں اچھا پہنایا اور کھلایا۔ اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کے پاس پیسہ ہے تو یہ ٹرک بھر بھر کے جہیز دیں گے۔ جب میری امی نے مجھے ان کے مطالبے کے بارے میں بتایا تو میں نے سوچ لیا تھا کہ میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دوں گی۔‘

زوباریہ کے مطابق وہ لڑکے کے گھر گئیں اور بڑی عزت سے اس رشتے کو نہ کہہ دیا۔ ’میں نے لڑکے کی والدہ کو کہا کہ آپ کو آپ کا بیٹا مبارک ہو اور ہمیں ہمارا سکون۔‘

جب جہیز کو نہ کہا تو میرے اپنے گھر میں بہت لڑائیاں ہوئیں

ثنا فہد کراچی میں رہائش پذیر ایک کاروباری خاتون ہیں اور اپنے آپ کو ان چند خوش نصیب خواتین میں شمار کرتی ہیں جنھیں رشتے کے لیے ٹرے سجا کر لوگوں کے سامنے بار بار آنا نہیں پڑا۔

’میں اور میرے شوہر ایک دوسرے کو شادی سے پہلے ہی جانتے تھے اور ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ نہ تو میں جہیز لے کر جاؤں گی اور نہ ہی وہ کسی قسم کا جہیز قبول کریں گے۔‘

ثنا کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ جہیز کو ایک لعنت تو کہتے ہیں لیکن پھر بڑے مزے سے یہ لعنت لے بھی لیتے ہیں۔ اس لیے وہ اور ان کے شوہر نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ کسی قسم کا جہیز قبول نہیں کریں گے۔

ثنا کے مطابق جب انھوں نے اپنے اس فیصلے کے بارے میں اپنے گھر والوں کو آگاہ کیا تو ان کے گھر والوں کی جانب سے اس کی سخت مخلفت کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہSana Fahad

،تصویر کا کیپشن

ثنا فہد اور ان کے شوہر فہد آصف نے اپنی شادی پر جہیز لینے سے انکار کیا

’میری امی ایک روایتی سوچ رکھنے والی خاتون ہیں۔ جب انھوں نے یہ سنا کہ میں جہیز میں کچھ نہیں لے کر جانا چاہتی تو ہمارے گھر میں بہت لڑائیاں ہوئیں۔ میری والدہ کا اسرار تھا کہ اگر میں جہیز نہ لے کر گئی تو میرے سسرال والے میری عزت نہیں کریں گے۔‘

ثنا کے شوہر فہد آصف کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کی جانب سے جہیز کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا البتہ جب ان کی ساس نے ثنا پر بہت دباؤ ڈالا تو انھوں نے اپنی ساس کو بیٹھ کر سمجھایا اور یقین دلایا کہ وہ ان کی بیٹی کو بہت عزت سے رکھیں گے۔

’میں نے جہیز میں کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ میری کوشش تھی کہ اپنے اور ثنا کے شادی کے کپڑے اور زیورات بھی اپنی حیثیت کے مطابق خود خریدوں اور میں نے ایسا ہی کیا۔‘

لڑکی کوئی کھلونا نہیں جس کی قیمت لگائی جائے

نازش سمجھتی ہیں کہ انھوں نے جہیز کے مطالبات کو نہ کہنے میں بڑی دیر کر دی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ شادی سے قبل ہی ایسے مطالبات کو ماننے سے سختی سے انکار کر دیں۔

’لڑکے والوں نے تو جہیز لینا بند نہیں کرنا یہ صرف اسی صورت ہمارے معاشرے سے ختم ہو گا جب لڑکی والے اسے دینا بند کریں گے اور اس بات کا احساس کریں گے کہ لڑکی کوئی کھلونا نہیں کہ اس کی قیمت لگائی جائے۔‘

زوباریہ کا ماننا ہے کہ جہیز کی رسم کو ختم کرنے کی ذمہ داری سب سے پہلے امیر لوگوں کی ہیں۔

’یہ رسم امیر لوگوں کی بنائی ہوئی ہے جو باآسانی اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر مہنگے تحائف دے دیتے ہیں لہذا یہ ذمہ داری بھی اب ان کی ہے کہ وہ اسے ختم کریں۔ جب تک امیر طبقہ اس رسم کو ختم نہیں کرتا متوسط اور نچلا طبقہ اس رسم کو جاری رکھے گا۔‘

زوباریہ کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ رشتے ختم ہو جانے کے ڈر سے جہیز کو نہ نہیں کہتے۔

’لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر رشتہ ختم ہو گیا تو لوگ لڑکی پر سوال اٹھائیں گے اور سوچیں گے کہ شاید لڑکی میں ہی کوئی خرابی تھی جس کی وجہ سے رشتہ ختم ہوا لیکن اب ضرورت اس عمل کی ہے کہ ہم اس متعلق بات کرنا شروع کریں۔ اس رسم پر کم از کم سوال تو اٹھانا شروع کریں تاکہ اس کا مطالبہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔‘

ثنا فہد کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک کامیاب شادی کے لیے دو لوگوں کا ایک دوسرے کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔

’اگر دو لوگوں میں مطابقت نہیں اور وہ ایک دوسرے کو سمجھتے نہیں تو نہ ہی کوئی فرنیچر آپ کے کام آتا ہے نہ گاڑی نہ بائیک۔‘