شمالی وزیرستان میں چار خواتین کا قتل: ’وہ بہت معصوم تھی، پتا نہیں ظالموں نے کیوں اتنی بےدردی سے قتل کر دیا‘

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
شمالی وزیرستان

،تصویر کا ذریعہEPA

’وہ بہت معصوم تھی، بہت نازک اور بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی۔ وہ تو ہوائی فائرنگ سے بھی ڈر کر کمرے میں چلی جاتی تھی لیکن اس وقت اس پر کیا گزری ہو گی جب شدت پسند کلاشنکوف لیے ان کے سر پر کھڑے ہوں گے۔‘

یہ الفاظ ہیں پروین اختر کے جو اپنی چھوٹی بہن کا ذکر کرتے ہوئے رونے لگتی ہیں، اور یہی کہتی رہتی ہیں کہ اس وقت ناہید اختر کیا سوچ رہی ہو گی، کیا خواہش کی ہو گی، اپنی ماں کو یاد کیا ہوگا، اپنی بیٹی کو یاد کر رہی ہو گی یا اپنے والد کے بارے میں سوچ رہی ہوگی۔ ’وہ بہت معصوم تھی، معلوم نہیں ظالموں نے انھیں کیوں اتنی بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔‘

ناہید اختر ان چار خواتین میں شامل تھیں جنھیں 22 فروری کو شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں ایپی کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ چاروں خواتین غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ وابستہ تھیں اور میر علی میں مقامی خواتین کو سلائی کڑھائی، دستکاری اور بیوٹیشن کی تربیت فراہم کر رہی تھیں۔

اس واقعے کو لگ بھگ ایک ماہ ہونے کو ہے لیکن آج بھی ان گھروں میں سوگ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کے خاندان کے افراد ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے رونے لگتے ہیں، وہ اس ظلم کو یاد کرتے ہیں جو ان کی بہنوں اور بیٹیوں پر اس وقت کیا گیا ہو گا۔

مقامی لوگوں نے اس واقعے کے خلاف احتجاج بھی کیے اور اب حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان خواتین کے گھرانوں کو شہدا پیکج میں شامل کیا جائے۔

اتوار کے روز مختلف اقوام کے نمائندوں نے بنوں میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور پیر کو وکلا نے بنوں میں اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔

ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان غیر سرکاری اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے ملازمین کو ان کے مکمل حقوق ادا کریں، انھیں سکیورٹی فراہم کریں اور میر علی واقعے میں ہلاک خواتین کو شہدا پیکج دیا جائے۔

سباؤن نامی تنظیم پشاور کے براوو کالج کے تعاون سے شمالی وزیرستان میں مقامی خواتین کو ہنر مند بنانے کے منصوبے میں ان خواتین کو محض ایک ہزار روپے روزانہ کی بنیاد پر تعینات کیا گیا تھا۔ انھیں کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی۔

’پہلی نوکری ہی آخری ثابت ہوئی‘

میر علی میں شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والی خواتین میں ناہید اختر سب سے کمسن تھیں۔ ان کی بڑی بہن پروین اختر کے مطابق ناہید کی عمر لگ بھگ 25 سال ہو گی۔

’وہ سب بہن بھائیوں میں سب سے خوبصورت تھیں، سب کا خیال رکھنے والی تھیں اور والد کی جان تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہKP Police

انھوں بے بتایا کہ ناہید اختر کی 2018 میں شادی ہوئی تھی لیکن شادی کامیاب نہیں ہوئی اور گذشتہ سال طلاق ہو گئی تھی۔ ناہید کی ایک پندرہ ماہ کی بچی ہے۔

بچی کا نام عرش ہے، وہ ماں کا دودھ پیتی تھی، لیکن ماں کے جانے کے بعد اب وہ کچھ کھا پی نہیں رہی۔ پروین اختر نے بتایا کہ بڑی مشکل سے بچی کو کچھ دودھ اور کچھ نرم غذا دے رہے ہیں۔

عرش کی آنکھیں ماں کو تلاش کرتی رہتی ہیں، وہ ہر برقعے والی خاتون کو اپنی ماں سمجھ لیتی ہے لیکن جب چہرہ دیکھتی ہے تو مایوس ہو جاتی ہے۔ بچی روتی رہتی ہے، وہ اس کیفیت میں ہے کہ شاید کسی بھی وقت اس کی ماں اس کے سامنے آ جائے گی۔

گھر کے سب افراد عرش کو توجہ دے رہے ہیں لیکن عرش کی آنکھیں اپنی ماں کو تلاش کرتی ہیں کہ شاید اس کی ماں کہیں کسی کمرے سے اچانک نکل آئے۔ لیکن اب عرش کی والدہ ناہید اختر کبھی واپس نہیں آئیں گی۔

پروین اختر کے مطابق جو غم اور تکلیف وہ اور ان کے گھر کے دیگر افراد برداشت کر رہے ہیں، اس کا اظہار وہ الفاظ میں شاید نہیں کر پائیں گی۔

'میری بہن نے زندگی میں بہت تکلیفیں دیکھیں کیونکہ اس کی ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں گزری اور ایک سال سے یہ دُکھ لیے بیٹھی تھی کہ اللہ مجھے نوکری دے تاکہ وہ اپنی بیٹی کے لیے خود کما سکے اور بیٹی کو بہتر مستقبل دے سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ان کی بہن کی پہلی نوکری تھی جس پر وہ بہت خوش تھیں اور یہی نوکری ان کی زندگی کی آخری نوکری بھی ثابت ہوئی ہے۔ ناہید اختر اس نوکری سے اپنی معصوم بیٹی عرش کی ضروریات زندگی کی اشیا لینا چاہتی تھیں۔

’بیوٹیشن بیٹی جنت میں بھی سجی سنوری ہوگی‘

’ہماری زندگی بڑی پُرسکون گزر رہی تھی، سب کچھ معمول کے مطابق تھا کہ اچانک یہ واقعہ پیش آیا جس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔‘

یہ الفاظ ہیں جویریہ کے والد فاروق زمان کے جو اپنی بیٹی کو بہت یاد کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جویریہ خان نے ڈبل ایم اے کیا ہوا تھا اور ساتھ ہی انھوں نے سرکاری تربیتی مرکز سے بیوٹیشن کا کورس بھی مکمل کیا تھا۔

وہ قبائلی علاقے کی خواتین کو سجنے سنورنے کی تربیت فراہم کرتی تھیں اور یہ ان کا شوق بھی تھا۔

ان کے والد فاروق زمان نے بتایا کہ جویریہ بہت ذہین اور محبت کرنے والی بچی تھی اور اس سے سب خوش تھے۔ فاروق زمان کے جویریہ سمیت چھ بچے ہیں جن میں جویریہ سب سے بڑی تھی اور انھوں نے بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کی تھی اور سب ایک جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ جویریہ کی خواہش تھی کہ وہ علم دوسروں تک پہنچائیں حالانکہ انھوں نے بیٹی سے کہا تھا کہ میر علی کے علاقے میں جانا انھیں اچھا نہیں لگتا تو بیٹی نے بتایا کہ ’بس یہ تین مہینے کا کورس ہے۔ جلد مکمل ہو جائے گا، بیٹی کا شوق پورا ہو جائے گا۔‘

جویریہ کے چار چھوٹے بچے ہیں۔ فاروق زمان نے بتایا کہ ان کی بیٹی کا خواب تھا کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوائیں اور انھیں اچھا انسان بنائیں۔

’جویریہ محلے کی لڑکیوں کو بھی سجنے سنورنے میں مدد کرتی تھیں اور ان سے کوئی معاوضہ نہیں لیتی تھیں۔ بس انھیں بیوٹیشن کا شوق تھا۔‘

اس واقعے کے بعد وہ جویریہ کی ماں سے کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی ’جنت میں بھی سجی سنوری ہو گی۔‘

واقعے کی اطلاع جب خواتین کے خاندان والوں کی ملی

یہ واقعہ 22 فروری کو صبح ساڑھے نو بجے کے قریب پیش آیا اور خاندان کے افراد نے بتایا کہ وہاں جو ان خواتین کے ساتھ واقعہ پیش آیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہKP Police

پروین اختر نے بتایا کہ انھوں نے ڈرائیور اور اس کورس میں شامل پانچویں خاتون جو اس میں محفوظ رہی ان سے بات چیت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے چند روز پہلے ایک شخص نے ان کی گاڑی روک کر ڈرائیورسے پوچھا تھا کہ اس گاڑی میں آپ لوگ کس لیے روزانہ آتے ہیں اور کہاں جاتے ہیں، جس پر ڈرائیور نے اس شخص کو بتایا کہ یہ یہاں تربیت دینے آتی ہیں اور استانیاں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جس روز واقعہ پیش آیا اس دن ایک خاتون کو جب مرکز پر اتارا گیا تو راستے میں کچھ دیر بعد دو افراد سامنے آئے اور ان سے کلاشنکوف دکھا کر شناختی کارڈ اور سامان لے لیا تھا۔

پروین نے بتایا کہ انھیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں اس کے مطابق لڑکیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ سامان لے جائیں لیکن انھیں کچھ نہ کہیں۔

'ظالموں نے سب کچھ لینے کے بعد اس طرف سے فائرنگ کی جس طرف ناہید بیٹھی تھی، گولیاں ناہید کو سر پر اور بازو پر لگی تھیں۔‘

پروین نے مزید کہا کہ ’ظالموں نے لڑکیوں کو سر پر گولیاں ماریں تاکہ کسی کے بچنے کا کوئی چانس بھی نہ رہے۔‘

فاروق زمان نے کہا کہ ’ان سب گھر والوں کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ ان لڑکیوں کا قصور کیا تھا، انھیں کیوں مارا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کے یہ الفاظ تھے کہ ’ابو آپ ایسے گھبرا رہے ہیں، جہاں ہم جا رہے ہیں وہ پشتونوں کا علاقہ ہے۔ بہت جرات اور غیرت مند لوگ ہیں۔ وہ عورتوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کے یہ الفاظ سن کر وہ ’خاموش ہو گئے تھے۔‘