قیام بنگلہ دیش کی وجوہات کو پاکستان کے تعلیمی نصاب میں کیسے پیش کیا جاتا ہے؟

  • سعد سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قیام بنگہ دیش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان اور انڈیا کے درمیان سنہ 1971 میں ہونے والی جنگ کے بعد بنگلہ دیش وجود میں آیا

بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن ’آزادی کے خود ساختہ ڈرامے میں کامیاب ہو گئے۔‘، ’مشرقی پاکستان کی علیحدگی بڑی طاقتوں کے درمیان خفیہ معاہدہ تھا۔‘

یہ چند ایسے فقرے ہیں جو پاکستان کے منظور شدہ تعلیمی نصاب میں مطالعہ پاکستان کی کتاب سے لیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں مشرقی پاکستان کہلائے جانے والے حصے کو وفاقِ پاکستان کا ’دایاں بازو‘ قرار دیا گیا جسے مغربی پاکستان سے اندرونی و بیرونی اسباب کے باعث علحیدہ ہونا پڑا۔

بنگلہ دیش کے قیام کو اب 50 سال بیت گئے ہیں مگر آج بھی وہاں سے آواز اٹھتی ہے کہ پاکستان بنگلہ دیشی عوام سے معافی مانگے۔ بنگلہ دیش پاکستان پر جنگی جرائم کے علاوہ دیگر الزامات عائد کرتا رہا ہے جس کی تردید بھی ریاست پاکستان کی جانب سے تواتر سے آتی رہی ہے۔

لیکن کیا پاکستانی نصاب میں ان الزامات کا یا بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کا کہیں ذکر بھی ہے؟

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان میں نصاب کی کتابوں میں اس موضوع کا تفصیل سے ذکر نہ ملنے پر جہاں ماہرین تنقید کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’ہر ریاست اپنا فرض سمجھتی ہے کہ اپنے شہریوں کی پرورش ایک خاص بیانیے کے تحت کرے اور اس تناظر میں شاید پاکستان واحد یا انوکھی ریاست نہیں جو ایسا کرتی ہے۔‘

وفاق پاکستان کے ’دائیں بازو‘ کی علیحدگی کو آخر پاکستان کے تعلیمی نصاب میں کیسے پیش کیا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بنگلہ دیش الزام لگاتا ہے کہ پاکستانی فوج کے اہلکار سنہ 1971 کی جنگ کے دوران اس وقت کے مشرقی پاکستان میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب

پاکستان میں عمومی طور پر نویں جماعت میں یعنی 15 یا 16 سال کے طلبہ کو پہلی مرتبہ قیام بنگلہ دیش کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ اگر پاکستان میں سرکاری سطح پر ملک بھر میں پڑھائے جانے والی تاریخ کی کتاب کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا درست ہو گا کہ 1971 کے واقعات کو دو یا تین صفحات میں تفصیل میں جائے بغیر پیش کیا گیا ہے۔

اس کے برعکس نجی سکولوں میں او لیول میں پڑھائی جانے والی ’پاکستان سٹڈیز‘ کی کتاب میں پاکستان کے اس وقت مشرقی اور مغربی حصوں میں پیدا ہونے والی رنجشوں کا گو کہ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے لیکن سرکاری اور نجی نصاب میں مشترکہ چیز یہی ہے کہ آج بھی بنگلہ دیش کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو بڑی حد تک نصاب میں نظرانداز کیا گیا ہے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے کبھی 14 اسباب پڑھائے گئے تو کبھی نو اور یہ چھوٹی موٹی تبدیلیاں سیاسی ادوار اور بدلتی حکومتوں کے ساتھ دیکھنے کو ملتی رہیں۔

ان اسباب کو بیان کرتے ہوئے کتاب میں سب سے زیادہ ذکر انڈیا کا موجود ہے۔ انڈیا کو نہ صرف ایک دشمن کے طور پر پیش کیا گیا ہے بلکہ ’پاکستان کو توڑنے کی اس بیرونی سازش‘ میں اسے ہی مرکزی قصوروار ٹہھرایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

مذہبی شناخت

مشرقی اور مغربی پاکستان کی رنجشوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ پروفیسر اے ایچ نئیر کے مطابق اُس وقت پاکستانی اقتدار کے ایوانوں میں موجود لوگوں کا یہ خیال تھا کہ ایک مذہب ہی وہ واحد چیز ہے جو ملک کے ان دو حصوں کو جوڑ سکتا ہے اور تبھی ’تاریخ ایسے پڑھائی گئی کہ ایک مذہبی شناخت پیدا کی جا سکے۔‘

پاکستان میں نویں جماعت کے طلبہ کو علیحدگی کی وجوہات میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ نوجوان بنگالی شہریوں کے ذہنوں کو زہریلا کرنے میں ہندو اساتذہ کا ایک بہت اہم کردار تھا اور ساتھ ہی ساتھ یہ پاکستان کی بدقسمتی تھی کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے بعد کوئی ’محب وطن مسلمان لیڈر‘ نہیں آیا۔

پروفیسر نئیر نے قیام بنگلہ دیش سے قبل اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمارے ہاں تصور یہی تھا کہ یہ بھوکے بنگالی ہیں، پانچ پانچ فٹ قد کے لوگ ہیں اور یہ کمزور لوگ ہیں اور ہم تو بڑی اعلیٰ نسل کے لوگ ہیں جس کے باعث ان کے ساتھ ایک حقارت کا انداز تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

طلبہ پر پڑنے والے اثرات

پاکستان کے معروف مصنف اور تاریخ دان خورشید کمال عزیز (کے کے عزیز) نے 90 کی دہائی میں ’دا مرڈر آف ہسٹری‘ کے عنوان سے کتاب شائع کی اور پاکستان میں پڑھائے جانے والی تاریخ کی متعدد کتابوں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔

کے کے عزیز کے مطابق پاکستانی نصاب کے تحت ایک طالبعلم کی قیام بنگلہ دیش سے متعلق ذہن سازی ایسے کی گئی ہے کہ وہ دو صورتوں میں ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو سمجھ سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ مشرقی پاکستان مسائل سے بھرپور اور فطرتاً بے وفا تھا اور اس لیے قیام بنگلہ دیش پاکستان کے لیے ایک مثبت پیشرفت تھی۔

دوسری صورت یہ کہ طلبہ اسے ماضی میں گزرے ایک غیر اہم واقعے کے طور پر تسلیم کریں۔

ان کے مطابق ’یہ ایک دانستہ کوشش تھی کہ طلبہ کو 1971 سے قبل ہونے والے واقعات کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا جائے۔‘

پروفیسر نیئر نے طلبہ کے ذہنوں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق انڈیا کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جو اثر یہ چاہتے ہیں وہ ہی پڑ رہا ہے، ان بچوں کے ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ انڈیا دشمن ہے اور پاکستان مظلوم۔‘

کیا اس نصاب سے ریاست پاکستان کو کوئی فائدہ ہوا؟

کالم نگار اور علم و تدریس کے شعبے سے منسلک عاصم سجاد اختر سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا نصاب کو اس طرح پیش کیے جانے سے ریاست کو کوئی فائدہ ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ نے وہ لوگ پیدا کرنے ہیں جو آپ کی ہاں میں ہاں ملائیں، جنگ کی بولی بولیں اور آپ کے لیے تالیاں بجائیں تو پھر تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ لیکن اگر آپ دور حاضر میں ایک ایسے انسان کو معاشرے میں لانا چاتے ہیں جس کا نہ صرف تخلیقی ذہن ہو بلکہ اس میں تنقید کرنے کی بھی صلاحیت ہو تو آپ بطور ریاست مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں۔‘

عاصم سجاد کے مطابق آج تک کسی بھی سنجیدہ تحقیق کی کوشش کو دبایا جاتا رہا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ’ریاستی بیانیے کے محافظ‘ بھی شاید یہ تبدیلی نہ لانا چاہتے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان وہ واحد ریاست نہیں جو ایسا کرتی ہے

قیام بنگلہ دیش اور اس سے جڑے واقعات کو پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا میں کیسے پیش کیا جاتا ہے؟ اس متعلق محقق انعم ذکریا نے نہ صرف تینوں ملکوں کا دورہ کیا بلکہ 1971 کے واقعات پر تینوں نظریوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انعم ذکریا کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ تاریخ میں گزرے ایک ہی واقعے کو تینوں ممالک میں ایک مختلف زاویے سے دیکھا جائے۔

کیا پاکستان وہ واحد ریاست ہے جو نصاب کو اپنے نقطہ نظر سے پیش کرتی ہے؟ یہ سوال جب عاصم سجاد سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہر ریاست اپنا فرض سمجھتی ہے کہ اپنے شہریوں کی پرورش ایک خاص بیانیے کے تحت کرے اور اس تناظر میں شاید پاکستان واحد یا انوکھی ریاست نہیں جو ایسا کرتی ہے۔‘

البتہ وہ پاکستان کو اس لحاظ سے ایک انوکھی ریاست ضرور تصور کرتے ہیں جہاں علیحدگی اختیار کرنے والے حصے کی آبادی اکثریت میں ہو۔

عاصم سجاد کا کہنا تھا کہ ’آج بھی ہم اپنے بچوں کو بتا رہے ہیں کہ 54 فیصد جو آبادی تھی، آخر وہ بھی پاکستانی تھے، سارے کے سارے ایک بیرونی سازش کا حصہ بن گئے، جو میری نظر میں کافی مضحکہ خیز ہے۔‘

پاکستان کا تعلیمی نصاب اور اساتذہ

پروفیسر اے ایچ نیئر نے ملک کے تعلیمی نظام میں اساتدہ کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ’انھوں نے جو خود بچپن میں پڑھا، وہ ان کے ذہنوں میں نقش ہو گیا۔ اگر کبھی ان کا پالا ایسے طلبہ سے پڑے جن کے ذہن تجسس سے بھرے ہوں تو انھیں بھی نصاب میں شامل ایسے نعروں کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کے بعد بحث کی گنجائش نہیں رہتی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بہت کم اساتذہ ایسے ملیں گے جو منتطق کی بنیاد پر طلبہ کے ساتھ ان موضوعات پر بحث کرتے نطر آئیں۔‘

تینوں ریاستوں کے مؤقف سے آگاہ کیا جائے

پروفیسر نیئر کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں نصاب کو ایک نئے سرے سے ترتیب دینے کا فیصلہ کیا تھا اور نصاب میں قیام بنگلہ دیش کی ’صحیح وجوہات‘ دینے کی بھی کوشش کی مگر 2013 میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی حکومت نصاب کو واپس اس کی پرانی شکل میں لے گئی۔

بطور استاد انعم ذکریا نے انڈیا اور پاکستان کی کلاسز کا دورہ کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ بچوں کو ریاستی بیانیہ پڑھائے جانے کے باعث معاشرے میں نفرتیں اور عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔

ان کا یہ ماننا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اگر طلبہ کو تینوں ریاستوں کے مؤقف سے آگاہ کیا جائے اور یہ ایک بہت بڑی خدمت ہو گی۔

’میں نے ایسی کہانیاں بھی سنی ہیں جہاں اس وقت کے مغربی پاکستان میں ایسے شاعر، فوجی، سرگرم کارکنان اور فیمنسٹس تھے جنھوں نے عسکری کارروائی کی مخالفت کی۔ یہ وہ متاثر کن لوگ ہیں جن کی کہانیاں میں سننا چاہوں گی۔‘