عمران خان کورونا کا شکار: کیا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی دونوں خوراکیں لازمی ہیں؟

  • سحر بلوچ اور اعظم خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام
عمران خان

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ٹوئٹر پر تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کا بھی لگوائی تھی۔

ہر فرد کو کچھ ہفتوں کے فاصلے سے ویکسین کی دو خوراکیں دی جاتی ہیں اور عمران خان کو ابھی تک صرف ایک خوراک دی گئی تھی۔

اپنا کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پاکستان سمیت اس وقت دنیا بھر میں ویکسین لگانے کی مہم جاری ہے لیکن اس دوران چند ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو ویکسین کی افادیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہیں لگوانا چاہ رہے۔

ایسے میں عمران خان کا حال ہی میں کووڈ ویکسین لگوانے کے بعد اس مرض میں مبتلا ہوجانا لوگوں کے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

اس خبر کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر لوگ اکثر یہ سوال کرتے نظر آ رہے ہیں کہ کیا ویکسین لگوانے کے بعد بھی کورونا وائرس کا خطرہ موجود رہتا ہے اور یہ کہ ویکسین کتنے عرصے بعد مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

بی بی سی اردو نے طبی ماہرین سے انھی سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔

حکومتِ پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وضاحت دی گئی کہ وزیر اعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ جب مثبت آیا تو اس وقت ان کی ویکسینیشن مکمل نہیں ہوئی تھی۔ اُنھیں ویکسین کا پہلا ٹیکا لگے صرف 2 دن ہوئے ہیں، جو کسی بھی ویکسین کے کارآمد ہونے کے لیے بہت کم وقت ہے۔ اینٹی باڈیز ویکسین کا دوسرا ٹیکا لگنے کے دو سے تین ہفتوں کے بعد بننا شروع ہوتی ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/@GovtofPakistan

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پاکستان میں اس وقت چین کی طرف سے عطیے میں ملنے والی سائنو فارم ویکسین 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو لگائی جا رہی ہے۔ ایک خوراک کے بعد 21 دن بعد دوبارہ بھی یہ ویکسین لگوانی ہوتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل ویکسین لگوائی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اس وقت کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق ویکسین قوتِ مدافعت پیدا کرنے میں وقت لیتی ہے تو اس عرصے میں بھی کوئی وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر نسیم اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ ویکسین لگانے کے کم از کم دو ہفتے بعد انسانی جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ اس خیال سے متفق نظر آتی ہیں کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ وزیرِ اعظم ویکسین لگوانے سے پہلے ہی کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر نسیم اختر کہتی ہیں کہ ویکسین کے بعد بھی انفیکشن تو ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ الگ بات ہے کہ ویکسین کے بعد انفیکشن معمولی نوعیت کا ہوتا ہے مگر احتیاط سے معمولی نوعیت کے خطرے سے بھی بچاؤ ممکن ہے۔

ڈاکٹر نسیم اختر کہتی ہیں کہ اب وزیر اعظم عمران کو دوبارہ ویکسین ان کی صحت یابی کے بعد ہی لگائی جا سکے گی۔

انڈس ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو افسر عبدالباری خان نے پاکستان کے مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کووڈ ویکسین کی افادیت پر اٹھنے والے سوالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ویکسین لگنے سے پہلے کسی کو کووڈ ہونا نارمل بات ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ ’ویکسین لگنے کے دو سے تین ہفتے بعد جسم میں اینٹی باڈیز بنتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وزیرِ اعظم کسی ایسے شخص سے ملے ہوں جسے کورونا وائرس ہو۔ وہ صحت مند آدمی ہیں، جلد صحتیاب ہوجائیں گے۔‘

انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اینٹی باڈیز کا اثر دو سے تین ہفتے بعد ہوتا ہے اس لیے چینی ویکسین سائنوفارم ڈبل ڈوز ویکسین ہے اور اس ویکسین کی افادیت 80 سے 90 فیصد ہے۔

بعد ازاں ڈاکٹر عبدالباری نے بی بی سی کو بتایا کہ ویکسین لگوانے کے باوجود بھی احتیاط لازمی ہوتی ہے اور ویکسین کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بیماری زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوتی۔

وزیر اعظم عمران خان کی حالیہ دنوں میں کیا مصروفیات رہیں؟

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس وائرس سے کیسے متاثر ہوئے ہیں تاہم وزیر اعظم حالیہ چند دنوں میں عوامی اجتماعات اور اجلاسوں میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ اس دوران وزیر اعظم بیرونِ ملک سے آئے مہمانوں سے بھی ملاقات کرتے رہے اور اُنھوں نے چند دن قبل خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کا دورہ بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ 18 مارچ کو عمران خان نے پہلے اسلام آباد میں ہاؤسنگ پراجیکٹ کا افتتاح کیا جس میں دیگر وفاقی وزرا شامل تھے۔

اس کے بعد انھوں نے معاشی استحکام پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اور اسی روز انھوں نے ویکسین بھی لگوائی۔