روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے آنے والا سرمایہ پاکستان کی معیشت کے لیے کتنا مفید ہے؟

  • تنویر ملک
  • صحافی، کراچی
روشن ڈیجیٹل اکاونٹس

،تصویر کا ذریعہState Bank of Pakistan

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی روشن ڈیجیٹل اکاونٹس سکیم میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے اب تک 67 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم پاکستان آ چکی ہے اور اس سکیم کے تحت ایک لاکھ سے زائد روشن ڈیجیٹل اکاونٹس اب تک کھولے جا چکے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ برس ستمبر کے مہینے میں اس سکیم کا افتتاح کیا تھا جس کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کے سرمائے کو ملک میں لانے کے لیے مراعات کا اعلان کیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کی ایک کمپنی میں تکنیکی شعبے میں کام کرنے والے محمد عارف نے پاکستان میں روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کی سکیم کے اجرا کے بعد اپنا اکاونٹ کھلوایا۔

عارف نے بتایا کہ اس اکاونٹ کھلوانے کی وجہ اس میں دی گئی مراعات اور اس کے ذریعے سرمایہ کاری کی سہولت ہے، جس کے ذریعے پاکستان میں سٹاک مارکیٹ اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔

تاہم ناروے میں ایک ریسٹورنٹ میں سیفٹی سپر ویژن سے منسلک قاسم رضا کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کی سکیم کے آغاز کے بعد انھوں نے آن لائن طریقہ کار کے ذریعے یہ اکاونٹ کھلوانے کے لیے کوشش کی تھی تاہم اس کے لیے درکار شرائط اور طریقہ کار اتنے مشکل تھے کہ انھوں نے بعد میں یہ اکاونٹ کھولنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

قاسم نے بتایا کہ انھوں نے ایک نہیں دو تین پاکستانی بینکوں میں ناروے میں بیٹھ کر آن لائن طریقہ کار سے اس اکاونٹ کے لیے کوشش کی تو ہر بینک کی شرائط اور ضروریات مختلف تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایک جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کھلوائے جا رہے ہیں یا ان کے لیے کوشش کی گئی ہے تو دوسری جانب ان اکاونٹس کے بارے میں آگاہی کا فقدان بھی ہے۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے عالم زیب اور برطانیہ میں رہائش پذیر اشتیاق لودھی سے جب روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کھلوانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس کے بارے میں عدم آگاہی کا اظہار کیا۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے ڈاکٹر نعیم اعوان روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے بارے میں آگاہ تو ہیں تو تاہم انھوں نے ابھی تک یہ اکاونٹ نہیں کھلوایا۔

اسی طرح میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں بسنے والے پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے بارے میں دلچسپی کا اظہار کیا تاہم ان میں سے بہت سوں نے ابھی تک اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بسنے والے پاکستانیوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس سکیم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات پھیلائے۔

اس سکیم کے اجرا سے لے کر اب تک ایک لاکھ اکاونٹس کھلنے کو مالیاتی امور کے ماہر ایک اچھی پیشرفت قرار دے رہے ہیں تاہم ان کے نزدیک بیرون ملک پاکستانیوں کے مقابلے میں یہ تعداد ابھی بہت کم ہے اور جیسے جیسے آگاہی بڑھتی جائے گی ان اکاونٹس کے کھلنے کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

تاہم انھوں نے اس امکان کا اظہار بھی کیا کہ اگر ان اکاونٹس کے ذریعے سرمایہ پاکستان آنے کی یہی رفتار رہی تو ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ سرمایہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک پاکستان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کی اورسیز اور انسانی ترقی کی وزارت کے اعدادوشمار کے مطابق 85 لاکھ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف خطوں میں روزگار اور تعلیم کے سلسلے میں مقیم ہیں۔

ان بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے ذریعے بھیجی جانے والی 67 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم ایک ایسے وقت میں بھیجی گئی ہے جب ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہے جو ہر مہینے دو ارب ڈالر سے زائد رہنے کی وجہ سے اس مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور اس مالی سال کے اختتام تک تاریخ کی بلند ترین سطح 28 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روشن ڈیجیٹل اکاونٹس سکیم کیا ہے؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سکیم نان ریزیڈنٹ پاکستانیوں (این آر پیز) یعنی سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ہے۔ اس اکاؤنٹ کے ذریعے این آر پیز پاکستان کے بینکاری اور ادائیگیوں کے نظام سے مکمل طور پر منسلک ہو جائیں گے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار سمندر پار مقیم پاکستانی، پاکستان میں یا کسی سفارتخانے اور قونصلیٹ میں موجودگی کی شرط کے بغیر اپنا اکاؤنٹ کھول سکیں گے اور اس اکاؤنٹ کے ذریعے انھیں ملک میں بینکاری خدمات اور پرکشش سرمایہ کاری کے بھرپور مواقع تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔

ان مواقع میں حکومت کی طرف سے متعارف ہونے والے ’نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس‘ کے علاوہ سٹاک مارکیٹ اور ریئل سٹیٹ بھی شامل ہیں۔ ان کھاتوں کے فنڈز مکمل طور پر قابل منتقلی ہوں گے اور انھیں سٹیٹ بینک سے کسی پیشگی منظوری کے بغیر پاکستان سے واپس بھجوایا جا سکتا ہے۔

سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے بتایا کہ ’اس سکیم کے تحت کھولنے والے بینک اکاونٹس کے دو مقاصد ہوتے ہیں: ایک تو ان اکاونٹس میں آنے والی رقم کو آپ خرچ کر سکتے ہیں جیسے کہ آپ نے بل وغیرہ ادا کرنے ہوں اور اس کا دوسرا مقصد سرمایہ کاری کا ہو سکتا ہے کہ ان اکاونٹس میں آنے والی رقم کو کاروبار میں لگا دیا جائے جن میں ’نیا پاکستان سرٹیفکیٹس‘ کے ذریعے حکومتی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کے ساتھ سٹاک مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگانا بھی شامل ہے۔‘

روشن ڈیجیٹل اکاونٹس سکیم کیا مراعات پیش کرتی ہے؟

ڈارسن سیکورٹیز کی تحقیقی تجزیہ کار اقرا ندیم کا کہنا ہے کہ ’اس سکیم کے ذریعے بیرون ملک پاکستانیوں کو ایک ایسااکاونٹ مل گیا ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جو اس سے پہلے انھیں میسر نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا اس سے قبل ایس سی ار اے اکاونٹ کی سہولت میسر تھی لیکن اس کے مقابلے میں اس روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں زیادہ مراعات پیش کی گئی ہیں۔ جن میں سر فہرست یہ ہے کہ سمنر پار مقیم پاکستانی اب بیرون ملک بیٹھ کر آن لائن طریقے سے اپنا اکاونٹ کسی بھی پاکستانی بینک میں کھلوا سکتے ہیں جبکہ اس سے پہلے انھیں پاکستان آ کر یہ اکاونٹ کھلوانا پڑتا تھا۔

’اس سکیم کے تحت بینک اکاونٹس کھلوانا بہت آسان ہو گیا ہے اور اس سکیم میں پیش کی جانے والی دیگر مراعات بھی بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔‘

اقرا کا کہنا تھا کہ ’نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری پر صرف ایک فکسڈ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ان اکاونٹس میں ڈالر، روپے، اسلامی بینکنگ اور روایتی بینکنگ تمام تر آپشنز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ان اکاونٹس میں آپ جب چاہے رقم جمع کروائیں اور جب چاہیں اس میں سے نکال کر واپس لے جائیں اس پر کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہState Bank of Pakistan

روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کیوں سرمایہ کھینچ رہے ہیں؟

سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹس میں آنے والی اس رقم کے پس پردہ کچھ وجوہات ہیں جن میں ان اکاونٹس کے ذریعے آسانی سے سرمایہ کاری کے مواقع ہونا ہے۔

’اس کے ذریعے آپ بیرون ملک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ’نیا پاکستان سرٹیفکیٹس‘ میں سرمایہ کار پر پرکشش ریٹرن ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار اس طرف راغب ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’اسی طرح ان اکاونٹس کے ذریعے بیرون ملک پاکستانیوں کو اسلامی قوانین سے مطابقت رکھنے والی سرمایہ کاری کی پراڈکٹس میں پیسہ لگانے کا موقع بھی مل رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں سرمایہ زیادہ آ رہا ہے۔‘

پاکستان میں انویسٹمنٹ بینکنگ اور سٹاک سیکورٹیز کے ادارے عارف حبیب لمیٹیڈ کے مالک عارف حبیب نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹس سرمایہ کاری کا ایک پرکشش ذریعہ بن چکے ہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے اس لیے اس میں زیادہ پیسہ آرہا ہے۔

’ان اکاونٹس کے ذریعے اب تک زیادہ پیسہ ’نیا پاکستان سرٹیفکیٹس‘ میں آیا جن میں شرح منافع سرمایہ کاروں کو کھینچ رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان سٹاک مارکیٹ نے کتنا سرمایہ کھینچا؟

پاکستان سٹاک ایکسچنیج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرخ ایچ خان نے اس سلسلے میں کہا کہ ’روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے ذریعے پاکستان میں آنے والے سرمائے میں ابھی تک صرف ایک ارب روپے سٹاک مارکیٹ میں آئے ہیں۔‘

انھوں نے ان اکاونٹس کے ذریعے ملک میں آنے والی مجموعی رقم کے مقابلے میں سٹاک مارکیٹ میں آنے والی رقم کو قلیل قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سکیم کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کو موقع ملا ہے کہ وہ ملکی معیشت میں حصہ ڈالیں اور اس کی بہتری کے ساتھ اپنا منافع بھی سمیٹیں۔

فرخ خان نے کہا ’نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں زیادہ سرمایہ کاری آنے کی وجہ وہاں منافع کا فکسڈ ریٹ ہے۔ سٹاک مارکیٹ سرمایہ کاری کا ایک مختلف ذریعہ ہے یہاں فائدہ بھی ہوتا ہےا ور نقصان بھی ہوتا ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا دنیا بھر میں سٹاک مارکیٹ کو ہی لانگ ٹرم میں سرمایہ کاری کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

وہ اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے ذریعے آنے والی رقم سٹاک مارکیٹ کی طرف بھی آئے گی۔

عارف حبیب نے بھی اس امکان کا اظہار کیا کہ بیرون ملک پاکستانی سٹاک مارکیٹ کی جانب بھی راغب ہوں گے۔

’سٹاک مارکیٹ کا ٹریک ریکارڈ رہا ہے کہ اس نے سرمایہ کاروں کو اچھا منافع دیا ہے اور بیرون ملک پاکستانی بھی اچھے منافع کے حصول کے لیے اس میں سرمایہ لگائیں گے۔‘

روشن ڈیجیٹل اکاونٹس سے آنے والا سرمایہ ملکی معیشت کے لیے کتنا مفید ہے؟

اقرا ندیم کہتی ہیں کہ اس سرمایے کے آنے کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا ہے جو ڈالر اور روپے کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان اکاونٹس کے ذریعے آنے والی رقم کا سب سے بڑا فائدہ ہے یہ ہے کہ یہ ڈالر ملک میں قرضے کی صورت میں نہیں آ رہے کہ جنھیں ہمیں واپس کرنا پڑے۔ یہ ڈالر ملک کا اثاثہ ہیں جو بغیر شرائط کے پاکستان میں آ رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یاد رہے کہ پاکستان کو غیر ملکی ادائیگیوں میں عدم توازن کا مسئلہ درپیش ہے اور اسے غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے ساتھ درآمدات کے لیے ڈالرز کی ضرورت رہتی ہے جو ملک کی برآمدات اور بیرون سرمایہ کاری کم ہونے کی وجہ سے وقتاً فوقتاً ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔

روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے بارے میں آگاہی کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟

بیرون ملک پاکستانیوں میں روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے بارے میں عدم آگاہی اور انھیں کھلوانے میں مشکلات کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ ’روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے حکومتی اداروں کے علاوہ کمرشل بینکوں کی جانب سے بھی مہم چلائی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اب تک پچاس سے زائد ممالک میں اس کی تشہیر کی جا چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سکیم کے بارے میں مزید آگاہی پیدا کرنے کے لیے شمالی امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں مزید تندہی سے کام کیا جائے گا۔

ترجمان نے ان اکاونٹس کے کھولنے میں درپیش مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ یہ مختلف بینکوں کے فارمز ہیں لیکن ان کو سٹینڈرڈائز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

اکاونٹ کھلوانے کے لیے ضروری دستاویزات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس کے لیے بھی کوشش کی گئی ہے کہ تمام بینک ایک جیسی دستاویزات طلب کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بیرون ملک پاکستانیوں کے ان اکاونٹس کی شکایات کے ازالے کے لیے ہر بینک کی ہیلپ لائن قائم ہے اور اس سلسلے میں سٹیٹ بینک کو ای میل بھی کی جا سکتی ہے۔‘

ترجمان کا کہنا ہے کہ ’چھ ماہ میں ایک لاکھ اکاونٹس کھلنا اور ان کے ذریعے 67 کروڑ ڈالر کی رقم آنا ایک اچھی پیشرفت ہے جس میں مستقبل میں بہتری آنے کا امکان ہے۔‘