احمدی برادری کی مشکلات: امتیازی سلوک، مقدمات اور قتل کے خوف کے سائے میں رہنے والے نوجوان کی کہانی

  • کریم الاسلام
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ربوہ
احمدی برادری

’وہ ایسا وقت تھا کہ میری سوچ کام نہیں کر رہی تھی۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن کال ابو کے نمبر سے آئی تھی اس لیے میں ہسپتال کی طرف دوڑا۔ وہاں پہنچا تو گیٹ پر ہی میرے ابو کی لاش پڑی تھی۔ اپنے ابو کو ایسے خون میں لت پت دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ ایسا منظر تھا جو میں ساری زندگی بھلا نہیں سکتا۔‘

جس دن 26 سالہ سافٹ وئیر انجینیئر عدنان شبیر (فرضی نام) کو یہ فون کال موصول ہوئی وہ دن ان کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ آخر کیا وجہ تھی کہ عدنان کے بوڑھے والد کو اس طرح سرِعام گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا؟

ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ پاکستان کی مذہبی اقلیتی احمدی برادری سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان کو اپنا وطن کہتے تھے۔

اپنے والد کی موت کو یاد کرتے ہوئے عدنان بتاتے ہیں کہ معمول کے مطابق ایک روز شام کے وقت ان کے والد کام سے واپس گھر آ رہے تھے جب بازار میں کچھ لوگوں نے ان کو روکا اور پھر فائرنگ کر دی۔ انھیں کئی گولیاں لگیں، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

احمدیوں کا قتل

عدنان کے والد واحد احمدی نہیں ہیں جنھیں اپنے عقیدے کی وجہ سے قتل کر دیا گیا ہو۔ جماعتِ احمدیہ پاکستان کے مطابق سنہ 1984 سے اب تک 277 سے زائد احمدی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اِس کے علاوہ سنہ 1953 اور 1974 میں احمدیوں کے خلاف چلائی جانی والی تحاریک اور فسادات میں سینکڑوں احمدی ہلاک ہوئے۔ کسی ایک حملے میں احمدیوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا واقعہ مئی 2010 میں لاہور میں پیش آیا جب دو احمدی عبادت گاہوں پر دہشت گردوں کے حملے میں 90 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ایک ایسے ملک میں زندگی گزارنا کتنا کھٹن ہے اور عدنان شبیر اور ان کے مذہب سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد مذہبی انتہا پسندی اور نفرت کے باعث کس طرح روزانہ جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں اِسی پاکستانی نوجوان کی زبانی۔

سماجی بائیکاٹ: ’لوگ مجھ پر تھوکتے تھے‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

عدنان کے مطابق اُن کے خاندان کے خلاف کئی سال تک سماجی بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی اور انھیں کاروباری لحاظ سے نقصان پہنچایا گیا۔

’والد کے قتل سے کوئی ایک سال پہلے علاقے میں سوشل میڈیا پر مہم شروع کی گئی اور واٹس ایپ اور فیس بُک پر ہمارے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلایا گیا۔ لیکن اس کا نتیجہ ہمارے والد کی موت کی صورت میں ہو گا، یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔‘

انھوں نے بتایا ’اس سب صورتحال میں، میں ابو کو کہا کرتا تھا کہ بس رہنے دیں، چھوڑ دیں۔ اِس کاروبار کو ختم کرتے ہیں اور کہیں اور لے چلتے ہیں لیکن اِتنے پرانے کاروبار کو ایک دم ختم کرنا بھی کوئی آسان فیصلہ نہیں ہوتا۔‘

چھبیس سالہ عدنان نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، دوسروں سے مختلف ہونے کا ایک احساس ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ہے۔ اپنی تمام عمر انھوں نے ڈرتے ڈرتے گزار دی ہے، اس خطرے کے احساس کے ساتھ کہ انھیں ہر حال میں، ہر وقت محتاط رہنا ہے۔

’سکول کے دنوں میں تو یہ احساس اتنا واضع نہیں تھا۔ محلے میں جن بچوں کے ساتھ ہم بڑے ہوئے تھے ان کے ساتھ دوستیاں بھی تھیں۔ لیکن پھر ان کو بھی معاملات کی سمجھ آنے لگی اور وہ ہم سے دور ہو گئے۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ ہم راستے سے گزر رہے ہوتے تھے تو وہ ہمارے اوپر تھوک دیتے۔ وہ جو پہلے دوست تھے اب ایسا کر رہے تھے تو ان کے اس رویے کو دیکھ کر دکھ ہوتا تھا۔‘

عدنان بتاتے ہیں کہ جب وہ کالج اور یونیورسٹی میں گئے تو سماجی مخالفت کا احساس بڑھتا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں کچھ انتہا پسندانہ خیالات کے لڑکے میرے عقیدے سے متعلق بحث کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ میرا ہمیشہ سے یہ نظریہ تھا کہ ایسے مباحثوں سے دور ہی رہنا چاہیے۔‘

امتیازی رویہ

عدنان شبیر کے بقول ان کے خاندان کا واحد ذریعہ معاش ان کے والد کا کاروبار تھا جو اب بند پڑا ہے اور فی الحال وہ اپنی جمع پونجی پر ہی گزارا کر رہے ہیں جو ان کے لیے کسی معاشی بحران سے کم نہیں ہے۔

’ہم نے اپنی زندگی میں اِس طرح کے حالات کبھی نہیں دیکھے، اب پتا نہیں آگے کیا بنے گا۔ میرے چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے۔ ظاہر ہے وہ ہمارے آبائی شہر میں سکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہے تھے۔ اب ربوہ آنے کے بعد ان کی تعلیم کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔‘

عدنان بتاتے ہیں کہ احمدیوں کے خلاف امتیازی قوانین کی وجہ سے انھیں اور ان جیسے بے شمار لوگوں کو سرکاری دستاویزات بنوانے، سرکاری ملازمتوں اور تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا ’اگر میں نے کبھی سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دینے کا سوچا بھی تو ہمت ہی نہیں پڑی۔ اگر کبھی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنوانے کسی سرکاری دفتر جانا پڑے تو فارمز میں ہمارے عقائد کے بارے میں ایسے سوالات ہوتے ہیں جو ہمارے لیے انتہائی تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔ ان دفاتر میں جب کلرک یہ دیکھتے ہیں کہ ہم احمدی ہیں تو ان کا رویہ اچانک تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ بری طرح پیش آتے ہیں۔‘

عدنان کے خیال میں پاکستان میں بڑھتی مذہبی تفریق اور انتہا پسندی سے اقلیتوں کے لیے گھٹن اور پابندی کا احساس اب پہلے سے بھی کہیں بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ہر کسی کو اپنے نظریات اور عقائد کے اظہار کی آزادی ہو۔

’میں چاہتا ہوں کہ انسان کو انسان کی نظر سے دیکھا جائے۔ معاشرے میں اختلافِ رائے کی آزادی ہو اور اِس اختلاف پر کسی کی جان نہ لی جائے۔ میں جس عقیدے پر یقین رکھتا ہوں وہ میرے لحاظ سے ٹھیک ہے اور یہ ہی میرا سچ ہے۔ انسانی حقوق کا کسی عقیدے سے تعلق نہیں۔ کم از کم جینے کا حق تو ملنا چاہیے۔ زندہ رہنے کا حق، سانس لینے کا حق، ایک پُرسکون زندگی گزارنے کا حق۔‘

احمدیوں کا شہر ’ربوہ‘

والد کے قتل کے بعد عدنان اپنے خاندان کے ساتھ ربوہ منتقل ہو گئے۔

وہ کہتے ہیں ’جس شہر میں ہم رہتے تھے، وہ محفوظ نہیں رہا۔ ہمارا پہلا خیال یہی تھا کہ جیسے بھی ہو اس جگہ سے نکل جائیں۔ وہاں کے مقابلے میں ربوہ میں ایک تحفظ کا احساس ہے۔‘

پاکستان کے ضلع چنیوٹ میں واقع یہ شہر پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کا صدر مقام ہے۔ تقسیمِ برصغیر کے موقع پر جماعت کا صدر مقام قادیان سے یہاں منتقل کیا گیا لیکن اب جماعتِ احمدیہ کا ہیڈکوارٹر لندن منتقل ہو چکا ہے۔

ساٹھ ہزار آبادی کے شہر ’ربوہ‘ کی تقریباً 95 فیصد آبادی احمدی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ سنہ 1998 میں حکومتِ پنجاب نے مقامی آبادی سے مشاورت کے بغیر ایک انتظامی فیصلے کے ذریعے شہر کا نام ’نواں قادیان‘ رکھ دیا جسے 1999 میں ’چناب نگر‘ کر دیا گیا۔

احمدی کون ہیں؟

جماعت احمدیہ کی بنیاد انیسویں صدی کے اوآخر میں پنجاب کے شہر قادیان میں پڑی۔ اِس جماعت کے بانی مرزا غلام احمد تھے۔ آج دنیا بھر میں احمدیوں کی آبادی ایک سے دو کروڑ کے درمیان ہے جبکہ پاکستان میں احمدیوں کی سب سے بڑی تعداد آباد ہے جو 40 لاکھ کے قریب ہے۔

واضح رہے کہ جماعت احمدیہ کے اراکین سنہ 1974 سے پہلے مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ گردانے جاتے تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پارلیمان نے انھیں غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ سنہ 1984 میں صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں ان کے خلاف ایک آرڈیننس جاری کیا گیا۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو اٹھانوے بی اور دو سو اٹھانوے سی کے تحت اب جماعت احمدیہ کا کوئی رکن خود کو مسلمان ظاہر کرے، اپنی عبادت گاہوں کے لیے کوئی اسلامی اصطلاح استعمال کرے، اسلام وعلیکم کہے یا بسم اللہ پڑھ لے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے یا اذان دے تو اسے تین برس قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جماعت احمدیہ کے اراکین اس قانون کو ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہیں اور انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں بھی ان قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

پاکستان کے صوبہِ پنجاب کی حکومت نے جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد کی تصانیف پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اِس کے علاوہ احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے قرآن کے تراجم پر بھی پابندی ہے۔ جماعتِ احمدیہ کو اپنا لٹریچر شائع کرنے اور پاکستان میں اپنے صدر مقام ’ربوہ‘ میں عوامی اجتماعات کی اجازت بھی نہیں ہے۔

احمدیوں پر مقدمات

جماعتِ احمدیہ کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1984 سے اب تک احمدی برادری کے خلاف مختلف قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر چار ہزار سے زائد مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں۔

ان مقدمات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہرِ قانون اور وکیل ظفر احمد دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس طرح کے اکثر مقدمات ذاتی رنجشوں اور بے بنیاد الزامات پر قائم کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اِن مقدمات میں نچلی سطح کی عدالتوں سے انصاف کی امید کم ہی ہوتی ہے۔

’ہمارے معاشرے میں احمدیوں کے خلاف بہت نفرت پائی جاتی ہے اور اِس کا لامحالہ اثر ججز اور ان کے فیصلوں پر بھی پڑتا ہے۔ اِس کے علاوہ چونکہ ججز بھی اِسی معاشرے کا حصہ ہیں لہذا کچھ فیصلوں میں ان کے ذاتی نظریات بھی جھلکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ردِعمل کا خوف بھی ایک وجہ ہے کہ چند جج انصاف کے مطابق فیصلہ نہیں کر پاتے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر کسی احمدی کو ضمانت دے دی یا اسے بری کر دیا تو انھیں عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔'

ظفر احمد کے بقول یہ صورتحال اب ہائی کورٹس میں بھی نظر آنے لگی ہے جہاں ججز ایسے مقدمات کی سماعت کرنے سے کتراتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ میں معاملہ مختلف ہے۔

ظفر احمد کے مطابق احمدیوں سے متعلق مقدمات میں تحقیقاتی ادارے مثلاً پولیس اور ایف آئی اے بھی جانبدارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔

’وہ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں کہ ملزم جیل سے باہر نہ آ سکے۔ اس سلسلے میں آج کل سائبر کرائم اور دہشت گردی کے قوانین کا سہارا بھی لیا جا رہا ہے۔ پھر احمدی برادری کی پرانی کتابوں کے حوالے نکال کر بھی توہینِ مذہب اور توہینِ رسالت کے مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ اس قانون کے تحت تین احمدی افراد کو سزائے موت بھی دی جا چکی ہے لیکن ان کی اپیلیں ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔‘

قوانین کا غلط استعمال اور عالمی سطح پر تنقید

وکیل اور قانون دان ظفر احمد سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں احمدیوں کے خلاف امتیازی قوانین کو مکمل ختم کر دینا ممکن نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھے کہ آیا اِن قوانین کا غلط استعمال تو نہیں ہو رہا۔ حکومت کو چاہیے کہ تحقیقاتی اداروں پر نظر رکھے اور یہ یقینی بنائے کہ وہ احمدیوں کے خلاف استعمال نہ ہوں۔‘

ظفر احمد کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی عقائد سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دے۔ ’اگر ایسا نہیں کیا گیا تو معاملہ صرف احمدیوں تک نہیں رہے گا بلکہ یہ مذہبِ اسلام کے مسالک تک بھی جا سکتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ کل کوئی مخصوص گروہ اپنے مخالفین کے خلاف یہ قوانین استعمال کرنے لگے۔‘

انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان میں احمدی برادری کے افراد کے خلاف امتیازی سلوک کی نشاندہی اور حکومتِ پاکستان سے اس کی روک تھام کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ گذشتہ برس نومبر میں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (آئی سی جے) نے ملک میں احمدیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ایک بیان میں اِن اداروں نے احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف جرائم میں پاکستانی حکومت کو خاموش تماشائی قرار دینے کے ساتھ ساتھ کچھ واقعات میں ان جرائم کی حوصلہ افرائی کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا تھا۔

(اس رپورٹ میں شامل چند افراد کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں)