آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط کی منظوری: معیشت کے لیے مثبت یا منفی پیشرفت؟

  • تنویر ملک
  • صحافی، کراچی
ڈالر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو دیے جانے والے بیل آوٹ پیکج کے تحت 50 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 50 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس سٹاف لیول معاہدے پر اتفاق کے بعد جاری کی جا رہی ہے، جس پر اس سال فروری کے مہینے میں دونوں اطراف نے باہمی اتفاق کیا تھا۔

50 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت جاری کی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستان نے جولائی 2019 میں اس پر دستخط کیے تھے جس کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی گئی تھی تاکہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو مدد فراہم کی جا سکے۔

اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو دو قسطوں میں 1.5 ارب ڈالر کی رقم وصول ہو چکی ہے۔

آئی ایم ایف کا پاکستان سے موجودہ پروگرام اس وقت التوا کا شکار ہو گیا تھا جب گزشتہ برس فروری میں پاکستان نے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پاور سیکٹر کے نرخوں میں مزید اضافے کو جون کے مہینے تک ملتوی کرنے کا کہا تھا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کا اس پروگرام پر دوسرا نظرثانی جائزہ نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کی وبا نے جب دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی متاثر کیا تو اس پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے مزید ادائیگی کو موخر کر دیا گیا تھا تاہم اس پروگرام کے معطل ہونے کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کو کورونا وائرس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی رقم فراہم کی تھی جو اس پروگرام کا حصہ نہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام کی پاکستان کے لیے بحالی ایک جانب ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 50 کروڑ ڈالر کا اضافہ کرے گی تو دوسری جانب اس سے جڑی شرائط پر معیشت اور صنعت و تجارت کے ماہرین اور اس سے وابستہ افراد تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک پاکستان کی معیشت کو شدید متاثر کریں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو دو قسطوں میں 1.5 ارب ڈالر کی رقم وصول ہو چکی ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پروگرام بحالی کی شرائط

آئی ایم ایف کی جانب سے اس پروگرام کے دوبارہ شروع کرنے سے متعلق کچھ شرائط ہیں جن میں نمایاں بجلی کے قانون یعنی نیپرا ایکٹ میں ترامیم، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایکٹ میں ترامیم، اضافی ٹیکس کی وصولی اور بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافہ اور مختلف شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ شامل ہیں۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے اس ماہ کے شروع میں سٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جو آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے جس کے تحت مرکزی بینک کو زیادہ خود مختاری دی جائے گی۔

اس سلسلے میں وفاقی حکومت ایک آرڈیننس کے زریعے سٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترامیم لا رہی ہے تو اسی طرح ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا آرڈیننس بھی لایا جا رہا ہے تاکہ اس کے ذریعے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے جو آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہے۔

وفاقی کابینہ نے نیپرا ایکٹ میں ترامیم کے لیے آرڈیننس کی منظوری بھی دے دی ہے اور بجلی کے نرخ کم از کم 5.65 فی یونٹ بڑھانے کی منظوری بھی کچھ دن پہلے دے دی ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کتنی ضروری؟

پاکستان کی معیشت میں گروتھ جو گزشتہ مالی سال میں منفی ہو گئی تھی اس میں گزشتہ چند مہینوں میں کچھ بہتری کے آثار نظر آئے تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے جڑی شرائط سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

اس پروگرام کی بحالی کیوں ضروری ہے اس کے بارے میں ماہر معیشت مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان ایک ابھرتا ہوا ملک ہے تاہم اس کے وسائل اتنے نہیں کہ وہ اپنے وسائل سے آگے بڑھ سکے۔

انھوں نے کہا ’آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض ملتا ہے اور یہ قرضہ شرائط پر عمل کیے بغیر نہیں مل سکتا۔‘

انھوں نے کہا ’آئی ایف ایف پروگرام کی بحالی سے عالمی مالیاتی اداروں اور بیرونی سرمایہ کاروں کی پاکستانی پر اعتماد کی حوصلہ افزائی ہو گی اور پاکستان کے لیے نئی کریڈٹ لائنز کھلیں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا ’آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بھی نکلنے میں مدد فراہم کرے گی کیونکہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کا اس کے ذریعے اعتماد حاصل کر پائے گا۔‘

مزمل اسلم کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے معیشت میں سٹرکچرل ریفارمز ہوں گی تو اس کا فائدہ معیشت کو ہی ہو گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جو عام آدمی کے فائدے میں ہو گا۔

پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلمپنٹ اکنامکس کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رشید امجد نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس پروگرام کو مکمل کرنا چاہیے اور درمیان میں نہیں چھوڑنا چاہیے۔

انھوں نے آئی ایم ایف کی شرائط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کو بھی اس سلسلے میں نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت خراب صورتحال کا شکار ہے۔

انھوں نے کہ اس پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف سے بہتر طریقے سے مذاکرات کیے جا سکتے تھے۔

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ملکی معیشت کے لیے کتنی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے؟

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی رقم حاصل ہو گی جس کے ذریعے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستان روپے کی قدر کو بھی سپورٹ حاصل ہو گی تاہم چند ماہرین معیشت کے نزدیک ان 50 کروڑ ڈالر کی بہت بڑی قیمت پاکستان کو معاشی نقصان کی صورت میں برداشت کرنی پڑے گا کیونکہ شرائط سے عمل درآمد سے نا صرف ایک عام آدمی کی معیشت متاثر ہو گی بلکہ صنعت و تجارت بھی اس سے شدید متاثر ہوں گے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اس سلسلے میں کہا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان سے تعلق اس کے دوسرے ممالک کے تعلق کے مقابلے میں اب بدل چکا ہے کیونکہ پاکستان میں آئی ایم ایف براہ راست معیشت کو کنٹرول کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا اب ہم اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کہ جہاں پر قرض اس لیے حاصل نہیں کیا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے معاشی گروتھ کو مدد دی جا سکے بلکہ یہ قرض گزشتہ قرض کو اتارنے کے لیے لیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

وفاقی کابینہ نے نیپرا ایکٹ میں ترامیم کے لیے آرڈیننس کی منظوری بھی دے دی ہے اور بجلی کے نرخ کم از کم 5.65 فی یونٹ بڑھانے کی منظوری بھی کچھ دن پہلے دی ہے

انھوں نے کہا اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو پاکستان ٹیکنکیل طور پر ڈیفالٹ کر چکا ہے کیونکہ قرض لے کر قرض کی واپسی ڈیفالٹ ہی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سٹرکچرل ریفارمز سے معیشت میں کوئی بہتری نہیں آتی بلکہ اس سے قرضوں کی ادائیگی کو تحفظ دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر اضافی ٹیکس اس لیے اکٹھا کرنے پر زور دیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے قرض کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔

انھوں نے پروگرام کی بحالی سے جڑی ہوئی شرائط کو پاکستان کی معیشت کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا قرار دیا اور کہا کہ اس سے معاشی گروتھ ممکن ہی نہیں ہو سکتی۔

ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کا سارا زور اس پہلو پر ہے کہ پاکستان سے قرضوں کی قسط کیسے وصول کی جائے جو زیادہ سے زیادہ پیسے اکٹھے کرنے کی صورت میں پورا ہو سکتا ہے اور سٹیٹ بینک ایکٹ کے قوانین میں ترامیم بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔

انھوں نے کہا آئی ایم ایف اب سٹیٹ بینک سے براہ راست رابطے میں رہے گا اور اس کے ذریعے اپنی شرائط منواتا رہے گا۔

ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کے بعد معیشت کیسے ترقی کر پائے گی۔

انھوں نے کہا ان شرائط کے بعد ملک کی اکنامک مینجمنٹ کی بحث ہی ختم ہو گئی ہے اور اب ایک ہی چیز نظر آتی ہے کہ قرض کا چکر اسی طرح جاری رہے گا۔

ڈاکٹر رشید امجد نے کہا قرض لے کر قرض واپس کرنا کمرشل اور آئی ایم ایف کے قرض کے سلسلے میں صحیح بات ہے لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے منصوبوں کے لیے قرضے لیے جاتے ہیں۔

پاکستان کا صنعتی شعبہ آئی ایم ایف کی شرائط کو کیسے دیکھتا ہے ؟

دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصانات کے ازالے کے لیے حکومتیں اپنے صنعتی و تجارتی شعبے کو مراعات فراہم کر رہی ہیں تاکہ معاشی گروتھ کو بڑھایا جا سکے تاہم آئی ایم ایف شرائط کے تحت صنعتی شعبے کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کے خاتمے اور بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے کو معاشی صورتحال خاص کر صنعت و تجارت کے شعبے کے لیے ایک بری پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے جو اس شعبے میں آنے والی اب تک تھوڑی بہت بہتری کو زائل کر دے گی

ایوان صنعت و تجارت کراچی (کے سی سی آئی) کے صدر شارق وہرہ نے کہا حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور ٹیکس میں چھوٹ میں خاتمے سے پیداواری شعبے کی کاروباری لاگت بڑھے گی جو اس کی مصنوعات کو مہنگا کر دے گی۔

انھوں نے کہا آئی ایم ایف شرائط کے تحت اضافی ٹیکس انھی شعبوں سے وصول کیے جائیں گے جو پہلے سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

شارق وہرہ نے کہا کہ انڈسٹری کی اس وقت جو حالت ہے وہ اضافی بوجھ سہنے کی سکت نہیں رکھتی اور اس کا نتیجہ انڈسٹری کے لیے مزید مشکلات کی صورت میں برآمد ہو گا۔

حکومت کا کیا مؤقف ہے؟

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور اس کی شرائط پر عمل سے معیشت کے لیے کیا مضمرات ہوں گے۔۔۔؟

اس سلسلے میں وفاقی سیکرٹری خزانہ کامران علی افضل نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور شرائط سے متعلق جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ سب بے بنیاد ہیں۔

ان سے جب شرائط کے معیشت پر اثرات، بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے، سٹیٹ بینک کی ایکٹ میں ترامیم اور اضافی ٹیکس کی وصولی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ واٹس اپ پر اپنے جواب میں کہا کہ ’آئی ایم پروگرام معاشی اور مالیاتی استحکام کے لیے بہت ضروری ہے خاص کر کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال میں یہ پروگرام بہت ضروری ہو گیا ہے۔‘