این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی انتخاب: دوبارہ الیکشن کا فیصلہ برقرار، سپریم کورٹ کا 10 اپریل کو ہونے والی پولنگ روکنے کا حکم

  • سحر بلوچ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
این اے 75 ضنمی انتخاب، ڈسکہ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@PMLN_ORG

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں 10 اپریل کو ہونے والی پولنگ روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدمے میں فیصلہ کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کہا ہے کہ دوبارہ پولنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رہے گا تاہم ابھی صرف 10 اپریل کو ہونے والی پولنگ ملتوی کی جا رہی ہے۔

الیکشن کمیشن پاکستان نے 19 فروری کو سیالکوٹ کے حلقہ این اے 75 کے ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے کی جانے والی سماعت کے بعد 25 فروری کو اپنے مختصر فیصلے میں ’صاف شفاف، منصفانہ انتخاب‘ نہ ہونے پر اس انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ پورے حلقے میں 18 مارچ کو دوبارہ انتخابات کروائے جائیں لیکن بعد میں 10 اپریل کی تاریخ دی گئی۔

الیکشن کمیشن میں مذکورہ حلقے میں ضمنی انتخاب کے دوران مبینہ دھاندلی کے خلاف دائر کردہ درخواست میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے ان 20 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دی تھی جن کے نتائج روکے گئے تھے۔

یاد رہے کہ این اے 75 کا حلقہ پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن صاحبزادہ سید افتخارالحسن شاہ کے انتقال سے خالی ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آج نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ شہر کے 76 میں سے 34 پولنگ سٹیشنز سے شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ الیکشن کمیشن نے 34 پولنگ سٹیشنز کی نشاندہی کی اور 20 پریزائیڈنگ افسر بھی غائب کیے گئے۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’سوال تو یہ ہے کہ ’دس پولنگ سٹیشنز پر کافی دیر تک پولنگ معطل رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ پولنگ کے روز کون یہ مسائل پیدا کرتا رہا اور کیوں؟‘

سلمان اکرم راجہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ شہر میں نوشین افتخار کے خاندان کا اثر و رسوخ پاکستان تحریکِ انصاف کے نمائندے سے کہیں زیادہ ہے۔‘

انھوں نے کہا ’جہاں ایک طرف نوشین افتخار کے 46 ہزار ووٹ بنتے تھے وہیں پی ٹی آئی کے نمائندے کے مکمل 11 ہزار ووٹ تھے۔ جس کے نتیجے میں ڈسکہ میں ہونے والی پولنگ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ ’جب مسلم لیگ نواز کا اثر و رسوخ زیادہ تھا تو بدامنی پھیلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟‘

انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ ’مسلم لیگ نواز اس وقت نتائج سے خوش تھی، آپ نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا؟‘ جس پر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ نتائج کے خلاف بھی درخواست کمیشن میں دائر کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

الیکشن کمیشن میں مذکورہ حلقے میں ضمنی انتخاب کے دوران مبینہ دھاندلی کے خلاف دائر کردہ درخواست میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا

اس کے ساتھ ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’چند پولنگ سٹیشن کی شکایت پر پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کیوں کرائی جائے، یہ آپ کو ثابت کرنا ہے۔‘

سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ حلقے کے آدھے پولنگ سٹیشن سے شکایات موصول ہوئی تھیں تاہم عدالت نے ان کی تصحیح کی اور جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’76 پولنگ سٹیشن آدھے نہیں بنتے۔ ایک تہائی بنتے ہیں۔ احتیاط سے دلائل دیں۔‘

دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مزید کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔