پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان سینیٹ اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے معاملے پر باہمی تعلقات میں کشیدگی جاری

maryam

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان سینیٹ اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے معاملے پر باہمی تعلقات میں کشیدگی جاری ہے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ ایک ’چھوٹے سے عہدے‘ کے لیے جمہوری مقصد کو نقصان پہنچایا گیا ہے تاہم بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

سنیچر کو مریم نواز اور بلاول بھٹو کی جانب سے الگ الگ میڈیا بیانات سامنے آئے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف بننے کے معاملے پر مریم نواز سے پوچھا گیا کہ کیا پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا ہو گئی ہیں یا ابھی کوئی راستہ ہے، تو انھوں نے کہا کہ وہ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کے مؤقف کی منتظر ہیں۔

’میری کوشش ہے کہ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کا مؤقف اس پر سامنے آ جائے لیکن مجھے نہایت افسوس ہے کہ آپ نے ایک چھوٹے سے عہدے کے لیے عوام کے حق حکمرانی کی جدو جہد کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان آپ کو خود پہنچا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کا کہنا تھا کہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون جدوجہد کر رہا ہے اور کون کس کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ ان لوگوں کی شکست ہے جنھوں نے ایک چھوٹے سے عہدے کے لیے چھوٹے سے فائدے کے لیے آپ سے ووٹ لے لیے۔'

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ اور دنیا میں شاید یہ پہلی مثال ہے کہ لیڈر آف اپوزیشن کو حکومتی ارکان سلیکٹ کر رہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار برائے قائدِ حزبِ اختلاف اعظم نذیر تارڑ کو سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی نے فون کیا اور ووٹوں کی پیشکش کی لیکن انھوں نے وہ پیشکش رد کی۔

مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ لکیر کھنچ گئی ہے، مجھے بڑی خوشی ہے اگر انھوں نے یہ لکیر کھینچ دی ہے کہ یہ بیانیہ مریم نواز کا بیانیہ ہے اور جو مریم نواز کا بیانیہ ہے وہ پوری قوم کے اوپر عیاں ہے وہ نوازشریف اور جمہوریت کا بیانیہ ہے، آئین کا بیانیہ ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ صف بندی ہوگئی ہے۔‘

’اختلاف کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتا‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کے میڈیا بیان پر اپنے ردعمل میں پہلے تو یہ واضح کیا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے پر جوڈیشل اپیل میں جائیں گے اور ’جب بھی عدالت ہمارے کیس کو میرٹ پر سنے گی تو کامیابی پی ڈی ایم کی ہی ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہPML-N Social Media

’میں چاہوں گا کہ پی ڈی ایم کا اتحاد برقرار رہے اور میں پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔‘

’میں اختلاف کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتا۔ مریم صاحبہ کا ہم احترام کرتے ہیں۔ میں پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا ہوں اور میں اس قسم کے الزامات پر بات نہیں کروں گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر بننے کا حق پیپلز پارٹی کا تھا کیونکہ وہ سینیٹ میں بڑی جماعت ہے۔

’میں نہیں سمجھتا کہ گیلانی صاحب کے لیڈر آف دی اپوزیشن بننے پر کوئی اعتراض ہونا چاہیے تھا۔ سمجھ نہیں آتی کہ ایک جماعت نے اتنا سخت فیصلہ کیوں کیا جس سے ہماری جماعت کے کچھ لوگوں کو محسوس ہوا کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ ’میں یہ کیسے کرتا کہ اپنے اکثریت والے لوگوں کو کہوں کہ وہ یوسف رضا گیلانی کو لیڈر آف دی اپوزیشن نہ بنائیں اور ن لیگ کے تارڑ صاحب کو ووٹ دیں ۔۔۔ کسی موقع پر میاں صاحب یا فضل الرحمان صاحب نے میرے والد کو کہا کہ ہم اس امیدوار کے لیے سیٹ چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جن جماعتوں نے لیڈر آف دی اپوزیشن کے انتخاب کے لیے ساتھ دیا یا نہیں وہ ان کے ساتھ اپوزیشن میں کام کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے 21، اے این پی کے دو، جماعت اسلامی کے ایک اور فاٹا کے دو ممبر کو ملاتے ہیں تو ہمارے بھی 26 ووٹ تھے۔ انھوں نے مسلم لیگ ن کے سابق امیدوار دلاور خان کے ووٹ اور ان کے ساتھ بلوچستان کے آزاد امیدواروں کی حمایت کا خیر مقدم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم عزت اور برابری کے ساتھ اس کو چلانے کی کوشش کریں تو اتحاد کامیاب بھی ہو گا اور برقرار بھی رہے گا لیکن کسی کی ڈکٹیشن پر اتحاد نہیں قائم رہ سکتا۔‘

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’لیڈر آف دی اپوزیشن کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہاں ایسی تجویز تھی تو وہ مجھ سے یا آصف علی زرداری سے بات کرتے۔‘