انڈیا سے چینی اور کپاس درآمد کی اجازت کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

  • تنویر ملک
  • صحافی، کراچی
چینی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمینی نے بدھ کو حکومت سے سفارش کی ہے کہ انڈیا سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔

وفاقی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ملک کے نئے وزیر خزانہ حماد اظہر کی صدارت میں ہوا۔ حماد اظہر کو حال ہی میں ڈاکٹر حفیظ شیخ کی جگہ وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ تجارت اور وزارتِ ٹیکسٹائل نے چینی اور کپاس کی انڈیا سے درآمد کی سفارش کی تھی۔

زراعت اور زرعی اجناس کے شعبوں سے وابستہ ماہرین اور افراد نے چینی اور کپاس کی انڈیا سے درآمد کو پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے مثبت پیش رفت قرار نہیں دیا تاہم ان کے مطابق ملک میں کپاس کی کمی اور چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا۔

کپاس اور چینی کے شعبے کی کیا صورتحال ہے؟

ملک میں اس سال کپاس کی پیداوار 57 لاکھ گانٹھوں تک محدود رہی جو پاکستان کی گذشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کی کم ترین پیداوار ہے۔ اس کم ترین پیداوار میں کاٹن بیلٹ زون میں گنے کی فصل کی زیادہ کاشت کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی دخل رہا جس کی وجہ سے ملک میں کپاس کی فصل تاریخ کی کم ترین سطح پر چلی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

دوسری جانب ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا سب سے اہم اور بنیادی خام مال کاٹن ہے اور اس شعبے کو ایک کروڑ 30 سے 40 لاکھ گانٹھوں کی ضرورت رہتی ہے تاکہ وہ اپنی پیداوار کر کے اسے برآمد کر سکے۔ اس شعبے کو ہر سال کاٹن درآمد کرنی پڑتی ہے تاہم اس سال کاٹن کی فصل میں ریکارڈ کمی کی وجہ سے یہ مشکلات کا شکار ہے اور اس کا درآمدی کاٹن پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب ملک میں چینی کی پیداوار اپنی بلند ترین سطح پر رہی جو 58 سے 60 لاکھ ٹن رہی تاہم چینی کی اس زیادہ پیداوار کے باوجود ملک میں اس وقت چینی کی ریٹیل قیمت 100 روپے سے زیادہ ہے۔ ملک میں رمضان کی آمد کے ساتھ اس کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے انڈیا سے چینی اور کپاس کی درآمد کی اجازت اگست 2019 کے بعد باہمی تجارت میں ایک بڑا بریک تھرو ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔ اگرچہ مئی 2020 میں پاکستان کی جانب سے انڈیا سے دوائیں اور ان کا خام مال درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے کے لیے ادویات کی کمی کا مسئلہ درپیش نہ ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چینی اور کپاس کی درآمد کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی انڈیا سے درآمد اس کی مقامی قیمت میں 15 سے 20 فیصد کمی لائے گی۔

انڈیا سے چینی اور کپاس کی درآمد کی اجازت کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے ایوانِ صنعت و تجارت کراچی کے نائب صدر اور ماہر اجناس شمس الاسلام نے کہا کہ چینی کی درآمد سے شوگر لابی اور ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے بڑھائی جانے والی قیمتوں میں کمی واقع ہو گی۔

شمس نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بھی چینی کی کمی نہیں لیکن شوگر لابی اور ذخیرہ اندوزوں نے اس کے اسٹاک کو ذخیرہ کر رکھا ہے تاکہ مصنوعی طور پر اس کی قیمت بڑھا کر ناجائز منافع خوری کی جاسکے۔

اُنھوں نے انڈیا سے چینی کی درآمد کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ انڈیا میں چینی کی بڑی مقدار میں پیداوار کی وجہ سے انڈین روپے میں فی کلو چینی کی قیمت 26 روپے ہے۔ اگر یہ چینی درآمد کرنے سے اس کی لاگت ڈبل یعنی 52 روپے فی کلو بھی ہو جائے تو اس کی قیمت پاکستانی چینی سے بہت کم ہوگی۔

تاہم شمس نے انڈیا سے چینی درآمد کی مقدار کے تعین کرنے سے اختلاف کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دی ہے جس کا مطلب ہے کہ ذخیرہ اندوز اتنی ہی چینی اپنے سٹاک سے نکال کر مارکیٹ میں لائیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ مقدار کا تعین نہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کپاس کے شعبے کے ماہر احسان الحق نے کپاس کو 30 جون 2021 تک درآمد کرنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس درآمد کی مقدار کا تعین نہیں کیا گیا ہے جو کپاس کے شعبے اور زراعت کے ملکی شعبوں کے لیے منفی ثابت ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ 30 جون 2021 تک ٹیکسٹائل کا شعبہ انڈیا سے اپنی مرضی کے مطابق جتنی کپاس درآمد کرنا چاہے کر سکتا ہے جس کا منفی اثر کپاس کی بوائی پر ہوگا کیونکہ بڑی مقدار میں کپاس کی درآمد کی وجہ سے کپاس کی مقامی فصل کی قیمت کم ہونے کا خدشہ ہے جس سے کپاس کے کاشتکاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کو کپاس کی انڈیا سے درآمد کی مقدار کا تعین کرنا چاہیے تھا۔

احسان الحق نے کہا زراعت کے شعبے کے لیے اس کا منفی اثر ہونے کے ساتھ ملک کے زرمبادلہ ذخائر پر بھی اس کا منفی اثر ہوگا کیونکہ ٹیکسٹائل کا شعبہ زیادہ سے زیادہ کپاس درآمد کرنے کی کوشش کرے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں کپاس کی قیمتیں کم ہیں جس کی وجہ امریکہ کی جانب سے چینی صوبے سنکیانگ سے انسانی حقوقِ کی خلاف ورزی کے نام پر کپاس درآمد کرنے کی پابندی ہے۔ اس وقت کپاس کی عالمی قیمتیں 78 سے 80 سینٹ فی پاؤنڈ ہیں جو کہ نچلی سطح پر ہیں۔

تاہم احسان الحق نے انڈیا سے کپاس کی درآمد کو سستا ذریعہ قرار دیا کیونکہ اُن کے مطابق امریکہ اور برازیل سے درآمد ہونے والی کپاس نہ صرف مہنگی ثابت ہوتی ہے بلکہ اس میں وقت بہت درکار ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انڈیا سے واہگہ بارڈر کے راستے آنے والی انڈین کپاس کم وقت اور کم لاگت میں ٹیکسٹائل ملز تک پہنچ جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

زراعت کے شعبے کے ماہر ڈاکٹر چوہدری عنایت اللہ نے کہا کہ کپاس کی درآمد تو ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو سستا خام مال فراہم کرے گی تاہم اُنھوں نے کہا کہ چینی کی درآمد پاکستان کی داخلی بدنظمی ہے اور چینی کی قیمتیں کمی کی وجہ سے نہیں بڑھیں، بلکہ بدانتظامی اس کی وجہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ زراعت کا شعبہ حکومتوں بشمول موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور بری طرح متاثر ہوا ہے۔

ڈاکٹر عنایت نے کہا کہ حکومت نے ہر مسئلے کا ایک حل نکالا ہوا ہے کہ کمی ہو تو فوراً درآمد کر لو، لیکن اپنا اصلی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ ’چینی کے معاملے میں بھی یہ ہوا کہ چینی کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھائی گئیں لیکن حکومت اور اس کے ادارے جیسے کہ مسابقتی کمیشن کارٹیلائزیشن کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان میں صنعت کے نمایاں شعبے یعنی ٹیکسٹائل، شوگر ملز اور کھانے پینے کی چیزیں بنانے والے بھی اپنے خام مال کے لیے زراعت کے شعبے پر انحصار کرتے ہیں