پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ حاصل کرنے والی نرس وینی لیکردال: ’ایوارڈ وصول کرنے کے لیے خصوصی طور پر پاکستانی لباس سلوایا‘

  • سارہ عتیق، محمد زبیر خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وینی لیکردال

،تصویر کا ذریعہWenny Lekardal

،تصویر کا کیپشن

وینی لیکردال کہتی ہیں کہ ’جب مجھے اطلاع ملی کہ حکومت پاکستان مجھے ایوارڈ سے نواز رہی ہے تو اس وقت مجھے بہت حیرانگی ہوئی کیونکہ میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ مجھے کوئی ایسا ایوارڈ ملے مگر مجھے اس خبر سے بہت خوشی ملی تھی'

’میں اپنے خاندان کی پہلی نرس ہوں۔ مجھ سے پہلے میرے خاندان میں اساتذہ کی اکثریت تھی۔ زمانہ طالب علمی ہی میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے نرس بن کر انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔‘

ان خیالات کا اظہار حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ پانے والی سویڈش نرس وینی لیکردال نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی طور پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

وینی لیکردال نے پاکستان میں تقریباً 38 سال تک تعلیم اور صحت کے شعبے میں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ پہلی سویڈش شہری ہیں جنھیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز دیا گیا ہے۔

وینی لیکردال کا کہنا تھا کہ ’جب مجھے اطلاع ملی کہ حکومت پاکستان مجھے ایوارڈ سے نواز رہی ہے تو اس وقت مجھے بہت حیرانگی ہوئی کیونکہ میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ مجھے کوئی ایسا ایوارڈ ملے مگر مجھے اس خبر سے بہت خوشی ملی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ ’ایوارڈ وصول کرنے کے لیے میں نے کئی دن پہلے سے تیاری شروع کر دی تھی۔ اس کے لیے میں نے خصوصی طور پر پاکستانی لباس سلوایا۔ پاکستان میں موجود کئی دوستوں کو آگاہ بھی کیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا دل چاہتا ہے کہ میں پاکستان میں ہر اس جگہ جاؤں جہاں میں پاکستان میں اپنی خدمات کے دوران مقیم رہی تھی۔ اپنی پرانی یادیں تازہ کروں مگر بدقسمتی سے اس وقت کورونا کی صورتحال کے باعث زیادہ سفر کرنا مناسب نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہWenny Lekardal

وینی لیکردال کون ہیں؟

اسلام آباد میں سویڈن کے سفارتخانے کے مطابق وینی لیکردال 1960 کے عشرے میں پاکستان آئی تھیں۔ ابتدا میں کچھ عرصہ تک کراچی میں رہنے کے بعد انھوں نے پہلے راولپنڈی اور پھر ساہیوال میں خدمات انجام دی تھیں۔

1969 سے لے کر آگلے سات برس تک وہ راولپنڈی میں مقیم رہی ہے۔ راولپنڈی میں لال کرتی کے علاقے میں سنیٹری ورکرز کی فلاح و بہبود، سینیٹری ورکرز کو طبی سہولیات، بچوں کے حفاظتی ٹیکوں اور زچہ بچہ کی صحت جیسی خدمات فراہم کرتی رہیں۔

اس دوران انھیں سوات اور دیگر علاقوں تک سفر کرنے کا موقع ملا تھا۔ جس کے بعد ان کو صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال بھیج دیا گیا، جہاں پر وہ غذا کی کمی کا شکار بچوں، زچہ بچہ کی صحت اور ٹی بی کے مریضوں کے لیے خدمات انجام دیتی رہی۔

،تصویر کا ذریعہWenny Lekardal

،تصویر کا کیپشن

1970 کی دہائی میں وہ راولپنڈی میں لال کرتی کے علاقے میں سنیٹری ورکرز کی فلاح و بہبود، سینیٹری ورکرز کو طبی سہولیات، بچوں کے حفاظتی ٹیکوں اور زچہ بچہ کی صحت جیسی خدمات فراہم کرتی رہیں

وینی لیکردال نے انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے بیشتر وقت اسلام آباد کے قریب واقع تاریخی شہر ٹیکسلا میں گزرا ہے۔ وہ 1981 سے لے کر 2007 تک کرسچن ہسپتال ٹیکسلا میں خدمات انجام دیتی رہیں۔ ٹیکسلا میں وہ نہ صرف طب کے شعبے بلکہ تعلیم اور فلاح و بہبود کے کاموں میں بھی مصروف رہی۔

سنہ 2007 میں وہ واپس سویڈن چلی گئیں تھیں جہاں پر اب وہ ایک کمپنی کے لیے اردو مترجم کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہWenny Lekardal

زندگیاں سنوارنے پر خوشی محسوس ہوتی ہے

وینی لیکردال کا کہنا تھا کہ ’میرا بنیادی کام تو طب کے شعبے میں تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسلا میں انتظامی امور انجام دینے کا بھی موقع ملا تھا جس کا یہ فائدہ ہوا کہ میں کچھ نہ کچھ تعلیم و تربیت سے بھی منسلک ہو گئی تھی۔ شاید تعلیم اور تربیت میرے خون میں شامل تھا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ جہاں پر انھوں نے کئی نرسوں کو تربیت فراہم کی وہیں پر چرچ کے تعاون سے کئی طالب علموں کو بھی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔

وینی لیکردال کا کہنا ہے کہ ’ہم ایسے طالب علموں کو مدد فراہم کرتے تھے جو میٹرک کے بعد معاشی مسائل کے سبب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ میں کہوں گئیں کہ دو نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس خدمت خلق کے نتائج بہت مثبت نکلے اور آج پاکستان بھر میں کئی لوگ بھرپور اور کامیاب پیشہ ورانہ زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ فلاح و بہبود کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہWenny Lekardal

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2007 میں وہ واپس سویڈن چلی گئیں تھیں جہاں پر اب وہ ایک کمپنی کے لیے اردو مترجم کی خدمات انجام دے رہی ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وینی لیکردال کا کہنا تھا کہ ’اگر میں پاکستان میں گزارے ہوئے 38 سال پر نظر دوڑاؤں تو سب سے زیادہ خوشی لوگوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے ان کی زندگیاں سنوانے پر ہوتی ہیں۔‘

پاکستان میرا دوسرا گھر ہے

وینی لیکردال نے بتایا کہ سویڈن سے نرسنگ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد انھیں انگریزی سیکھنے کے لیے برطانیہ بھیجا گیا تھا۔

’اس وقت چرچ کا زیادہ کام براعظم افریقہ میں تھا۔ لگتا تھا کہ مجھے بھی افریقہ ہی بھیجا جائے گا، پھر کہا جانے لگا کہ انڈیا بھیجا جائے گا مگر مجھے پاکستان بھیج دیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں دو سال تک خدمات انجام دینے کے بعد وہ واپس سویڈن چلی گئیں تھی۔

’یہاں رہ کر جہاں مجھے پاکستان بہت پسند آیا، وہاں پر میں نے محسوس کیا کہ پاکستان کو نرسنگ اور طب کے شعبے میں انفرادی قوت کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ خدا نے یہ لکھ دیا تھا کہ میں پاکستان میں رہ کر کام کروں۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ خدا نے میرے دل میں پاکستان واپس جانے کا خیال ڈالا اور میری یہاں واپس آنے کی خواہش بھی پوری کر دی۔‘

وینی لیکردال کہتی ہیں کہ انھیں پاکستان میں گھر جیسا پیار ملا۔ ’یہاں کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ میری پاکستان میں بہت سے لوگوں سے دوستیاں ہوئی جو اب بھی قائم ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں جب میں اپنے فرائض ادا کرتی تو لوگ تشکر کا اظہار کرتے، میری تعریف کرتے، کئی ایک میرے ساتھ مدد کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ یہ رویہ مجھے مزید بہتر طور پر اپنے فرائض ادا کرنے پر حوصلہ فراہم کرتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہWenny Lekerdal

انھوں نے کہا کہ سویڈن میں بھی ان کا وہاں بسنے والے پاکستانیوں کے ساتھ تعلق قائم ہوا ہے۔ وہاں کے ایک پاکستانی ریستوران میں وہ اکثر اوقات اپنا پسندیدہ کھانا دال چاول اور کڑاھی کھانے جاتی ہیں۔

وہ پاکستان میں گزارے وقت پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’یقین کریں کہ میں بالکل پاکستانیوں جیسی ہی ہوں، سویڈن میں بھی پاکستانی لباس پہن لیتی ہوں۔ پاکستان میرا دوسرا گھر ہے اس سے میرا رابطہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گا۔‘

’پاکستان کے شعبہ طب میں بہتری لانے کی ضرورت ہے

وینی لیکردال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آبادی بڑھنے اور دیگر وجوہات کی بنا پر محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے طبی شعبے میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد کم ہے۔

’سنہ 1970 اور 1980 کی دہائی کے شروع تک پاکستان ایک جدید ملک تھا۔ لوگوں کا نرسنگ کے شعبے کی طرف رحجان تھا مگر بعد میں روس افغانستان جنگ کی وجہ سے صورتحال کچھ تبدیل ہو گئی۔‘

’لوگوں کا نرسنگ کے شعبے کی جانب نہ صرف رحجان کم ہوا بلکہ کچھ لوگ تو اب اس شعبے کو اچھا بھی نہیں سمجھتے حالانکہ یہ تو بہت ہی باوقار پیشہ ہے۔ اس پیشے سے منسلک لوگ براہ راست دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہWenny Lekardal

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرف لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اورایسا تب ہی ممکن ہو گا جب ملک میں نرسنگ کے شعبے سے منسلک افراد کو بھی اچھی تنخواہیں مل سکے گیں تاکہ اس شعبے سے منسلک لوگ دل جمی کے ساتھ اپنے کام سے انصاف کر سکیں۔

’آج مجھے عزت اور شہرت نرسنگ ہی کہ وجہ سے ملی ہے۔ میں چاہوں گی کہ پاکستان میں بھی لوگ زیادہ سے زیادہ اس شعبے کی طرف راغب ہو کر انسانیت کی خدمت کریں۔‘