امت اخبار کی جانب سے عورت مارچ کی خواتین کے لیے نازیبا لفظ کے استعمال پر سوشل میڈیا صارفین برہم

مارچ
،تصویر کا کیپشن

امت اخبار اس سے پہلے بھی عورت مارچ مخالف مواد شائع کرتا رہا ہے

پاکستان میں شائع ہونے والے اردو اخبار امت نے پیر کے روز اپنے صفحہ اول کی ایک خبر میں عورت مارچ میں شامل خواتین کے لیے ایک نازیبا لفظ استعمال کیا ہے جس پر اخبار کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

امت اخبار میں اس سے قبل بھی عورت مارچ سے متعلق ایک جعلی ویڈیو پر مبنی توہینِ مذہب کے بے بنیاد الزامات اور دیگر افواہوں کی مسلسل اشاعت کی جاتی رہی ہے اور عورت مارچ کی منتظمین کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ امت اخبار میں چھپنے والے مضامین اور اداریوں کے ذریعے بھی مارچ کے شرکا کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

امت اخبار اس سے قبل بھی متنازع شہ سرخیوں اور تجزیوں کی وجہ سے زیرِ بحث رہا ہے۔ سنہ 2019 میں حکومت سندھ نے انسدادِ پولیو کے لیے قائم ایمرجنسی آپریشن سینٹر اسلام آباد کو خط لکھا جس میں انھوں نے امت اخبار کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اخبار اپنی کوریج سے مسلسل پاکستان میں جاری پولیو کے پروگرام کو 'بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے نہ صرف مہم کی افادیت متاثر ہو رہی ہے بلکہ پولیو ٹیم کے اراکین کی جانیں بھی خطرے میں ہیں'۔

نازیبا لفظ کی اشاعت

یہ نازیبا لفظ دراصل ایک ایسی خبر کے متن میں لکھا گیا ہے جس کی شہ سرخی ہے ’14 ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے‘۔ اس خبر کے متن میں عورت مارچ کی خواتین کے لیے نازیبا لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’انھیں یہ ممالک نظر نہیں آتے۔‘

بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کی جانب سے جب اس حوالے سے روزنامہ امت کے مدیروں سے رابطے کی کوشش کی گئی تو ایک جوائنٹ ایڈیٹر نے بتایا کہ ’وہ گذشتہ پانچ دنوں سے چھٹی پر ہیں اس لیے اس بارے میں رائے نہیں دے سکتے۔‘ جب اخبار میں دیے گئے ٹیلیفون نمبر پر رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ ’ایڈیٹر کووڈ کی وجہ سے دفتر نہیں آتے، انھیں پیغام پہنچا دیا جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے امت اخبار کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی خبر کو 'غیر اخلاقی' قرار دیتے ہوئے اسے صحافت کے 'تمام اصولوں اور اخلاقیات کے خلاف' قرار دیا۔

یونین کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستانی صحافت کی تاریخ میں کبھی بھی ایسے لفظ معاشرے کے کسی طبقے کے خلاف استعمال نہیں کیے گئے اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ روزنامہ امت جیسے اخباروں کو 'انتہاپسند عناصر' کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے جہاں سوشل میڈیا پر صارفین اخبار کے عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں اس حوالے سے میڈیا پر نظر رکھنے والے نگراں اداروں کی توجہ بھی اس بات کی جانب دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اکثر افراد اس کی شکایت پیمرا سے کر رہے ہیں جبکہ اخبارات پر نظر رکھنے والا ادارہ دراصل پریس کونسل آف پاکستان ہے۔

پریس کونسل آف پاکستان کا ردِ عمل

بی بی سی کے دانش حسین کے رابطہ کرنے پر پریس کونسل آف پاکستان کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فی الحال انھیں اس حوالے سے کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے تاہم سوشل میڈیا کے ذریعے انھیں اس خبر کے شائع ہونے کا علم ضرور ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'اگر کل تک کوئی شہری یا رجسٹرڈ ادارہ ذاتی حیثیت میں اس حوالے سے باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائے گا تو پریس کونسل آف پاکستان اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بطور ادارہ اس ذیل میں کارروائی کو آگے بڑھائے گا۔'

دوسری جانب بی بی سی کے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کاؤنسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے چیئرمین عارف نظامی کا کہنا ہے کہ اگر امت نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں تو اس کے خلاف سی پی این ای کو کارروائی کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پی این ای از خود نوٹس بھی لے سکتی ہے اور کوئی شکایت بھی کرسکتا ہے جس کی بنیاد پر شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

’یہ بے حیائی یا غیر اسلامی بات کیوں نہیں ہے؟‘

عورت مارچ کی ایک منتظم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خبر پر حقوق نسواں کی تنظیموں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ تمام صحافی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ کارروائی کریں۔

اس بارے میں ویمن ایکشن فورم، تحریک نسواں اور پولیٹیکل ویمن نے ایک مشترکہ بیان میں نازیبا زبان استعمال کرنے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ امت اخبار نے صحافت کے بنیادی اخلاقیات کی خلاف ورزی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’اس اخبار کی عورتوں سے حقارت، غلط بیانی اور غط رپورٹنگ کی ایک تاریخ رہی ہے جس کا مقصد اشتعال انگیزی اور مذہبی جذبات بھڑکانا رہا ہے۔ صحافی تنظیموں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے اور حکام کو اس کے اس رویے کی چارہ جوئی کرنی چاہیے۔‘

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور خاص کر خواتین اس بارے میں اس اخبار کی ’منافقت‘ کے حوالے سے بات کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@bluemagicboxes

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایمان راشد نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’سمجھ میں آتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی بے عزتی کریں جو طاقت ور سے طاقت چھین رہے ہیں۔‘

ایک صارف ایمن نے اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہماری ثقافت پر ایک حملہ کیسے نہیں ہے؟ یہ بے حیائی کیوں نہیں ہے؟ یہ غیر اسلامی کیوں نہیں ہے؟ یہ ایک جرم کیوں نہیں ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@gatosalvaje0

اس حوالے سے عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر عمار راشد نے لکھا کہ ’اگر امت اخبار کی اداریاتی ٹیم کے لیے خواتین کے لیے ایسے (نازیبا الفاظ) استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تو مجھے یہ سوچ کر ہی ہول آ رہے ہیں کہ یہ بند کمروں میں کس قسم کی فحش اور تشدد پسند خیالات کا اظہار کرتے ہوں گے۔ یہ وہ مجرم ہیں جنھوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔‘

ایک خاتون نے لکھا کہ ’ان لوگوں کے لیے ایسی خواتین جو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، اپنی حفاظت، پرائیویسی، جسم اور دیگر حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے بات کرتی ہیں وہ ’جسم فروش‘ ہیں۔

’لیکن جو خواتین ایسا کرنے سے ڈرتی ہیں یا ان کے تشدد کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں وہ نیک اور پرہیزگار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/somizaneb

ناجیا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں اگر عورت مرد کی جوتی تلے نہ رہے تو یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔‘

سیما مرتضیٰ نے لکھا کہ زیادہ تر مسلمان ممالک اور وہاں کے مرد خواتین کو وہ حقوق نہیں دیتے جو اللہ کی طرف سے دیے گئے ہیں۔ ان کے لیے بنیادی حقوق بھی بہت زیادہ ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان مردوں کو کس بات کا خوف ہے۔‘

شاد بیگم نے لکھا کہ ’یہ کس طرح کی زبان ہے، امت اخبار میں عورت کے بارے میں اس قدر نازیبا زبان انتہائی افسوسناک ہے۔ مغرب میں عورت کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کے ہمارے ہاں عورت کے ساتھ زیادتی کو نارمل قرار دیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/ShadBegum

دوسری جانب اس حوالے سے کچھ افراد نے ایسے الفاظ کے استعمال کو آزادی صحافت کا نام بھی دیا ہے۔

پریس کونسل آف پاکستان کو شکایت کرنے کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے؟

پریس کونسل آف پاکستان کے مطابق کوئی بھی شہری معاملے میں فریق بن سکتا ہے تاہم اس کے لیے اسے (شہری) اپنی شکایت کے ہمراہ ایک ہزار روپے فیس بنام پریس کونسل آف پاکستان جمع کروانی ہوتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شکایت کے اندارج کے بعد معاملہ پریس کونسل کی جوڈیشل برانچ کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اخلاقیات کی مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد پر فریقین کو نوٹس جاری کرتی ہے۔

’اس نوٹس کی شنوائی ایک تین رکنی کمیٹی کرتی ہے جس کے ممبران میں ادارے کے رجسٹرار اور ریٹائرڈ جج شامل ہوتے ہیں۔‘