پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ: ریپ کے 89 کیسز میں ریپ کا شکار ہونے والے بچوں کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں

  • سحر بلوچ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام اباد
مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں سال 2020 میں اوسطاً ہر روز آٹھ بچوں کے ساتھ مختلف جرائم کے واقعات سامنے آئے ہیں جبکہ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ساحل کی جانب سے ’کروئیل نمبرز 2020‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی تحقیق میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 کے 12 ماہ میں ملک میں بچوں کے خلاف ہونے والے مخلتف نوعیت کے جرائم کی رپورٹ شدہ تعداد 2960 تھی جو کہ 2019 کے اعداد و شمار کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہے۔

اس میں اگر صرف جنسی استحصال کے بڑھنے والے 17 فیصد کیسز کی تفصیلات دیکھیں تو ساحل کے مطابق 2020 میں ایسے 89 کیسز سامنے آئے جن میں ریپ کا شکار ہونے والے بچوں کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔ 2019 میں رپورٹ کیے گئے مقدمات کی تعداد 70 تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ساحل کے مطابق 2020 میں بچوں کے ساتھ رونما ہونے والے جنسی استحصال کے 89 واقعات میں سے 66 واقعات لڑکوں کے ساتھ پیش آئے جبکہ 23 کیسز میں لڑکیاں متاثر ہوئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق جہاں 11 سے 15 سال کے بچوں کے ساتھ ہونے والے ریپ اور جنسی استحصال کے واقعات سامنے آئے وہیں ایک ماہ سے پانچ سال کی عمر والے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔

قبریں کھود کر ریپ کیا گیا ہے، اس کا پردے سے کیا لینا دینا؟'

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

اس وقت پاکستان میں زینب الرٹ بِل اور ریپ کے مختلف قوانین موجود ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

لیکن ان اعداد و شمار کا کیا مطلب ہے؟ اور وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں کمی واقع نہیں ہو رہی؟

اس وقت پاکستان میں زینب الرٹ بِل اور ریپ کے مختلف قوانین موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود کیسز کی تعداد میں کمی نہیں ہو پا رہی۔ دوسری جانب یہ درست ہے کہ ریپ کے کیسز میں سزائیں ملنا ان واقعات کو روکنے میں ایک بڑا عنصر ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن سزا واحد حل نہیں ہو سکتی۔

اسی حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی کارکن فرزانہ باری نے کہا کہ ’سب سے پہلے تو ملک میں ہونے والے ریپ کی ذمہ داری ریپ ہونے والے کے بجائے ریپ کرنے والے پر عائد کرنا ہوگی۔'

انھوں نے کہا کہ جرم بڑھنے کے پیچھے جہاں معاشی وجوہات اور طاقت کی کمی ہوتی ہے، وہیں معاشرے میں ہونے والی بات چیت بھی ایک بڑا ضروری پہلو ہوتا ہے۔

'ہم سب نے سنا کہ ملک کے وزیرِ اعظم نے ریپ ہونے کی تمام تر ذمہ داری ریپ ہونے والوں پر ڈال دی، اور کہا کہ پردہ اس کا واحد حل ہے۔ اس غیر ذمہ دارانہ بیان کا مطلب یہ ہے کہ مرد نفسانی خواہشات کے سامنے کمزور ہے اور عورت کو بغیر پردے کے دیکھتے ہی وہ خود پر قابو کھو بیٹھتا ہے۔ یہاں تین سال کے بچوں کا ریپ کیا گیا ہے، قبریں کھود کر ریپ کیا گیا ہے۔ اس کا پردے سے کیا لینا دینا؟'

اس کے ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ قصور میں بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات اور پورن رِنگ کے سامنے آنے کے بعد اسے ٹیسٹ کیس کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

'وہاں سے آئے دن کیسز سامنے آتے ہیں اور ان پر کچھ دیر بات ہوتی ہے لیکن پھر بند ہو جاتی ہے۔ وہاں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ معاملہ ہے کیا؟ کون لوگ ملوث ہیں؟ اور کیا چائلڈ پورن رِنگ میں ملوث لوگ گرفتار کیے گئے ہیں یا نہیں؟'

دوسری جانب اسلام آباد میں مقیم کلینکل ماہر نفسیات ارسہ غزل نے بتایا کہ 'اسی طرح کم سن بچی فرشتہ کے کیس میں بھی ملزم پہلے کئی بار جیل جا چکا تھا۔ اس کے باوجود اسے کئی بار رہائی ملی۔‘

انھوں نے کہا کہ پچھلے تین برسوں میں ایک مثبت فرق یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ عدالتوں میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات ہنگامی بنیادوں پر سنے جاتے ہیں۔

ساحل کے سینیئر پروگرام آفیسر سہیل احمد کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہمارے پاس صرف رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد موجود ہے جو ہم ہر سال اخباروں میں رپورٹ ہونے والے کیسز پر تحقیق کرنے کے بعد شائع کرتے ہیں۔ اس طرح کے نجانے کتنے کیسز دیگر شہروں، گلیوں اور گاؤں میں ہوتے ہوں گے جن کے بارے میں ہمیں پتا بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ریپ ہونے والے بچے یا بچی کے خاندان والے میڈیا میں آنے کے خوف سے چپ ہو جاتے ہیں۔‘

ملک بھر میں بالغ اور کم عمر افراد کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق لڑکیوں کے ساتھ ریپ کے 1510 جبکہ لڑکوں کے ساتھ 1450 واقعات سامنے آئے۔

فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ ’ریپ کے ذریعے کوئی بھی انسان اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہے اور ایسے لوگوں کو طاقت ملک کے ناقص قانون سے ملتی ہے۔ اس وقت ریپ جیسے واقعات پر بات کی جا رہی ہے تو ضروری ہے کہ ان کیسز میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی بھی کی جائے۔ صرف پھانسی دینے سے معاملات کا حل نہیں ہو سکتا۔‘