چار لاپتہ بیٹوں کی ماں: ’آنکھیں ہر وقت دروازے پر لگی رہتی ہیں کہ وہ کب گھر آ جائیں‘

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
ماں

،تصویر کا ذریعہJAN PARI

’میں بوڑھی عورت ہوں، کبھی کسی کی مدد تو کبھی کسی کی مدد لے کر عدالت تک اس امید پر جاتی ہوں کہ شاید اس مرتبہ بیٹے مل جائیں گے لیکن ہر بار نا امیدی کا سامنا ہی ہوتا ہے۔‘

پاکستان میں لاپتہ افراد کے گھرانوں میں کہیں شوہر نہیں تو کسی کا باپ غائب ہے اور کہیں بیٹا لاپتہ ہے لیکن ایک ایسی ماں بھی ہیں جن کے چار بیٹے پانچ سال سے لاپتہ ہیں۔

جان پری اپنی چار بہوؤں اور پوتوں سمیت اپنے بیٹوں کی راہ تکتی رہتی ہیں اور ان کا ہر دن ایسے ہی گزر جاتا ہے۔

ان کی عمرلگ بھگ 75 برس ہے اور ان کے شوہر فوت ہو چکے ہیں۔ اب گھر میں کمانے والا کوئی نہیں اور ان کی زندگی اب لوگوں کی دی ہوئی امداد پر گزر رہی ہے۔

جان پری کے لاپتہ بیٹے شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں۔ جان پری کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے لاپتہ ہونے سے پہلے محنت مزدوری کرتے تھے اور روزانہ اتنی کمائی ہو جاتی تھی کہ گھر کا راشن آجاتا تھا لیکن اب تو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں عدالتی کارروائیوں اور قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنا اکثر افراد کے لیے مشکل ہوتا ہے اور پھر ایسے میں ناخواندہ دیہی خواتین جنھوں نے عدالتیں کبھی دیکھی ہی نہ ہوں ان کا عدالت میں آنا اور کیسز کی پیروی کرنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کے کیسز کی پیروی کرنے والے بیشتر لوگ دور دراز علاقوں سے آتے ہیں اور ان میں زیادہ تر انتہائی غریب ہوتے ہیں۔ جان پری اور اس طرح کی دیگر خواتین بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

جان پری کی جان چار لاپتہ بیٹوں میں

،تصویر کا ذریعہJAN PARI

چار لاپتہ بیٹوں کی بوڑھی ماں جان پری نے بی بی سی کو بتایا کہ جولائی 2016 کی ایک صبح پولیس نے ان کے بیٹوں کو اچانک طلب کر لیا لیکن انھیں نہیں معلوم تھا کہ انھیں کیوں بلایا گیا۔

’چاروں بیٹے ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر پولیس تھانے چلے گئے لیکن کافی دیر تک واپس نہیں آئے تو میں تھانے گئی کہ بچوں کا پتہ کروں۔ جب وہاں پہنچی تو بتایا گیا کہ میرے بیٹوں کو سکیورٹی اہلکار لے گئے ہیں۔‘

جان پری نے بتایا کہ ٹیکسی ڈرائیور اور ان کی تلاش میں جانے والا ایک اور شخص بھی غائب ہے۔

جان پری کے بیٹوں کے نام علیم خان، سعید اللہ، فضل مالک اور حکیم اللہ ہیں جبکہ ڈرائیور کا نام شمس بتایا گیا ہے۔ یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

جان پری نے بتایا کہ ان چار بیٹوں کے علاوہ گھر میں کوئی بڑا مرد نہیں بلکہ صرف خواتین اور بچے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کا کہنا تھا کہ پولیس والے کہتے ہیں کہ درخواست واپس لے لو تو ہو سکتا ہے کہ بیٹے واپس آ جائیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس درخواست پر ہی امید ہے کہ شاید کچھ ایسا ہو جائے کہ ان کے بیٹے مل جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی آنکھیں تو ہر وقت دروازے پر لگی رہتی ہیں کہ کسی وقت وہ گھر میں داخل ہو جائیں گے لیکن اب امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

جان پری نے پشاور ہائی کورٹ کے انسانی حقوق کے شعبے میں درخواست دی تھی جس میں انھوں نے حلفاً کہا تھا کہ ان کے بیٹے ریاست کے خلاف کسی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔

کھانے پینے کو کچھ نہیں تو وکیل کیسے؟

پشاور ہائی کورٹ میں جو وکیل نہیں کر سکتے وہ ہائی کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں درخواست دے سکتے ہیں اور ان کی یہ درخواست ایک پیٹیشن کے طور پر لی جاتی ہے۔

پشاور ہائی کوٹ میں سال 2014 کے بعد ایسی ہزاروں درخواستیں پیش کی گئی ہیں جنھیں ایک پیٹیشن کے طور پر لیا گیا۔

پشاور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق چھ برس میں کوئی 620 ایسی مختلف نوعیت کی شکایتیں سامنے آئی ہیں جنھیں پیٹیشن کے طور پر پیش کیا گیا، ان میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے درخواستیں بھی شامل ہیں ۔

جان پری کی درخواست بھی پیٹیشن کے طور پر پیش کی گئی اور ان کی وکالت کے لیے شبیر گگیانی ایڈوکیٹ تیار ہوئے تھے۔

شبیر گگیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انھوں نے عدالت میں جان پری کو دیکھا اور ان کا کوئی وکیل نہیں تھا تو انھوں نے اس کیس کو دیکھنے کا فیصلہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

ان کا کہنا تھا کہ غربت کی وجہ سے لوگ کھانے پینے کے محتاج ہیں تو ایسے میں عدالتوں کے چکر اور فیس دینا مشکل ہوتا ہے۔

شبیر گگیانی نے بتایا کہ یہ خاتون بڑی مشکل سے اب عدالت حاضری کے لیے آتی ہیں لیکن اب تک پتا نہیں چل سکا کہ ان کے بیٹے کہاں ہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

مجھے بتایا جائے مسیح اللہ کی بیوی ہوں یا بیوہ؟

شبیر گگیانی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ قبائلی علاقے باجوڑ ضلع سے ایک خاتون کے شوہر مسیح اللہ لگ بھگ آٹھ سال سے لاپتہ ہیں۔ شروع میں ان کی اپنے شوہر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اور یہ یقین دلایا گیا کہ وہ جلد گھر واپس آ جائیں گے لیکن اب ان کا کچھ پتا نہیں۔

شبیر گگیانی نے بتایا کہ انھوں نے اس خاتون کا وکالت نامہ جمع کرا دیا ہے لیکن خاتون نے سوال کیا ہے کہ انھیں بتایا جائے کہ وہ اب مسیح اللہ کی بیوی ہیں یا بیوہ ہیں کیونکہ آٹھ سال سے انھیں نہیں معلوم کے ان کے شوہر زندہ ہیں یا مر گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاتون کا کمانے والا کوئی نہیں، چار چھوٹے بچے ہیں اور گزر بسر لوگوں کی امداد پر ہو رہی ہے۔

شبیر گگیانی کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ ایک سو سے زیادہ لاپتہ افراد کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں۔ ان میں ایسے افراد بھی ہیں جنھیں ملٹری کورٹ سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور ان کی اپیلیں پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں عام طور پر جمعے کے روز لاپتہ افراد کے مقدمات یا ان کی اپیلوں کی سماعت ہوتی ہے اور آج جمعے کے روز لگ بھگ 25 ایسے کیسز کی سماعت مقرر ہے جن میں سے 11 خواتین کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔ ان میں کسی خاتون کا بیٹا تو کسی کا شوہر یا بھائی لاپتہ ہیں۔