ڈسکہ میں ضمنی انتخاب: پنجاب کا ایک چھوٹا سا حلقہ اس قدر اہمیت کیسے حاصل کر گیا؟

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو
الیکشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کے شہر ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے مطابق مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار کامیاب ہوئی ہیں۔

360 پولنگ سٹیشنز سے موصول ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق نوشین افتخار نے ایک لاکھ دس ہزار 75 ووٹ حاصل کیے جبکہ حکمراں جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی نے 93 ہزار 433 سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

ووٹ ڈالنے کی شرح 43.3 فیصد رہی۔

ان انتخابات میں چھ آزاد امیدواروں نے مجموعی طور پر 585 ووٹ حاصل کیے جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار محمد خلیل سندھو نے آٹھ ہزار 268 ووٹ حاصل کیے۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے گذشتہ دور حکومت میں تحریک لبیک نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد کے مقام پر تقریباً تین ہفتوں تک دھرنا دیا تھا اور اس کے بعد اس جماعت نے خادم رضوی کی قیادت میں انتخابات میں بھی حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

سنہ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک لبیک کے متعدد امیدواروں نے پنجاب اور کراچی کے مختلف حلقوں سے قابل ذکر ووٹ بھی حاصل کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنی جماعت کی کامیابی کو ڈسکہ میں 19 فروری کو ہلاک ہونے والوں کے نام کیا۔

ان کا کہنا تھا ’معصوموں کا خون بہا کر، بائیس پولنگ اسٹیشنز کے عملے کو اغوا کرکے بھی حکومت کے ہاتھ رسوائی کے سوا کچھ نہیں آیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو 19 فروری سے بھی بری شکست ہوئی۔‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشن

نوشین افتخار نے ایک لاکھ دس ہزار 75 ووٹ حاصل کیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ڈسکہ کے لیے رواں برس فروری میں ضمنی انتخابات معمول کے مطابق ہونے تھے تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

انتخاب کے روز پُرتشدد واقعات میں دو افراد جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے، جس کے نتیجے میں متعدد پولنگ سٹیشنز پر پولنگ کارروائی معطل کرنی پڑی۔

بات ادھر ہی نہ رکی۔ اسی روز کئی پولنگ سٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران ووٹوں کے تھیلوں سمیت فرار ہوتے پکڑے گئے اور کئی گھنٹوں غائب رہے اور نتیجہ الیکشن کمیشن کو جمع نہ کروا سکے۔

زیادہ تر دیہاتوں پر مشتمل اس حلقے میں حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی امیداوار نوشین افتخار کے درمیان ہی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اس مرتبہ بھی تمام تر نظریں انہی دو جماعتوں پر ہوں گی۔

بدانتظامی اور پر تشدد واقعات کی تحقیقات کے بعد الیکشن کمیشن نے فروری کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے سرے سے پہلے مارچ اور پھر دیر کرتے ہوئے اپریل کی 10 تاریخ کو دوبارہ ڈسکہ کے اس پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو پاکستان کی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ صرف منتخب پولنگ سٹیشنز پر ہی دوبارہ پولنگ ہونی چاہیے، تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔

جمعرات کے روز پی ٹی آئی کے کارکنان کے خلاف ہوائی فائرنگ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

وسطی پنجاب کا یہ چھوٹا سا حلقہ آخر اس قدر اہمیت کیوں حاصل کر گیا ہے اور ایک مرتبہ پھر 10 اپریل کو ڈسکہ کے ضمنی انتخابات توجہ کا مرکز کیوں رہے؟

اس کی ایک وجہ بظاہر یہی نظر آتی ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) دونوں ہی اسے محض قومی اسمبلی کی ایک نشست کے طور پر نہیں دیکھ رہیں بلکہ اپنے انفرادی بیانیے کو تقویت دینے کے لیے ہر صورت اس انتخاب کو جیتنا ضروری سمجھتی تھیں۔

تاہم پاکستان میں انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس ضمنی انتخاب میں ایک سے زیادہ عوامل کارفرما ہیں جس کی وجہ سے ڈسکہ کے عوام نے فروری کے ضمنی انتخابات میں پر تشدد کارروائیاں بھی دیکھیں اور دو افراد جان سے بھی گئے۔

احمد بلال محبوب پاکستان میں انتخابات اور پارلیمانی عمل پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر تین عوامل ایسے ہیں جنھوں نے ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

ان میں سرِ فہرست دونوں جماعتوں کا سیاسی وقار داؤ پر ہونے کا تاثر ہے جبکہ دونوں جماعتوں کے امیدواران کی ذاتی شخصیات اور دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلے کی سختی از خود وہ پہلو ہیں جن کی وجہ سے اس حلقے میں ایسے واقعات رونما ہوئے جو ملک بھر کی توجہ حاصل کر گئے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@aliasjadmalhi

ن لیگ کے گڑھ میں اس کو شکست دینا چاہتے ہیں

احمد بلال محبوب کے مطابق ’ایک تو یہ علاقہ وسطی پنجاب میں جی ٹی روڈ کا وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ ن لیگ کا گڑھ ہے۔ اس لیے ن لیگ کے لے یہاں سے جیتنا عزت بے عزتی کا معاملہ ہے۔‘

ان کے خیال میں اسی لیے حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف یہاں سے انتخاب جیتنا چاہتی ہے تاکہ وہ یہ بتا سکیں کہ ’ہم نے ن لیگ کو اس کے گڑھ میں شکست دی ہے اور یہ دکھا سکیں کہ ان کے بیانیے کے مطابق ن لیگ کی سیاست خود پنجاب میں ختم ہو رہی ہے۔‘

’قدرتی طور پر ن لیگ ایسا ہونے سے روکنا چاہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتیں یہ نشست جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ ن لیگ کی مرکزی قیادت ڈسکہ میں موجود ہے اور دونوں جماعتیں بھرپور طریقے سے انتخابی مہمات چلا رہی ہیں۔‘

دونوں جماعتوں کے امیدواران کون ہیں؟

ن لیگ کے لیے یہ انتخابی معرکہ اتنا اہم کیوں ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ تینوں عام انتخابات میں یہاں سے اسی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

یہ نشست ن لیگ کے ممبر قومی اسمبلی سید افتخار الحسن کی گذشتہ برس موت کے بعد خالی ہوئی تھی۔ ن لیگ نے ضمنی انتخابات کے لیے ان ہی کی صاحبزادی نوشین افتخار کو ٹکٹ دے رکھا ہے۔

سید افتخار الحسن گذشتہ دو انتخابات میں کامیاب رہے تھے جبکہ سنہ 2008 میں ان کے داماد اور نوشین افتخار کے خاوند یہاں سے کامیاب ہوئے تھے۔ البتہ سنہ 2002 میں پی ٹی آئی کے موجودہ امیدوار علی اسجد ملہی جو اس وقت پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے، یہ نشست جیتنے میں کامیاب ہو گئے تھے، تاہم اس کی وجہ بھی یہ بنی تھی کہ افتخار الحسن کی ڈگری پر اعتراضات اٹھا دیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

نوشین افتخار (دائیں) مریم نواز کے ساتھ

پی ٹی آئی امیدوار جارحانہ طرز پر متحرک شخصیت ہیں

احمد بلال محبوب کے مطابق ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کے کانٹے دار ہونے اور اہمیت حاصل کرنے کی ایک وجہ امیدواران کی انفرادی شخصیات بھی ہیں۔

’پی ٹی آئی کے امیدوار کافی متحرک بلکہ جارحانہ قسم کے متحرک امیدوار ہیں۔ اس مرتبہ کیونکہ ان کی جماعت حکومت میں بھی ہے اور گذشتہ انتخابات میں جو ان کے مخالف امیدوار تھے وہ اس مرتبہ ان کے ساتھ ہیں تو ایسے میں انھیں لگتا ہے کہ انھیں یہ نشست جیتنی چاہیے۔‘

دوسری جانب ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار کے لیے بھی یہ انتخاب جیتنا اپنے خاندان کے سیاسی وقار کا معاملہ ہے۔ ان کا خاندان پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کا یہ حلقہ اپنے نام کر چکا ہے۔ تاہم وہ پہلی مرتبہ انتخابی سیاست میں حصہ لے رہی ہیں۔

احمد بلال محبوب کے مطابق اس حلقے میں انتخابی عمل میں حالیہ کشیدگی ایک وجہ یہ ہے کہ دونوں جماعتوں اور پھر شخصی حیثیت میں دونوں امیدواروں میں مقابلہ انتہائی سخت ہے۔

’جب مقابلہ اس قدر سخت نوعیت کا ہو جہاں دونوں امیدوار حاصل کیے جانے والے ووٹوں کے اعتبار سے زیادہ پیچھے نہ ہوں تو وہاں اس قسم کی صورتحال پیدا ہونا انتہائی آسان ہوتا ہے۔‘

دھاندلی کے واضح شواہد کے باوجود کچھ نہیں ہوا

اس مرتبہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی عمل کے حوالے سے جامع ہدایات جاری کر رکھی ہیں اور حکومتِ پنجاب کو مناسب وقت بھی دیا گیا تھا کہ وہ انتظامی ڈھانچہ ترتیب دے سکیں جس میں پولیس اور انتظامیہ کے افسران کی نئے سرے سے تعیناتی شامل تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم احمد بلال محبوب کے مطابق ایک سطح پر پی ٹی آئی کالعدم قرار دے دیے جانے والے انتخابات میں کامیاب نظر آئی۔ ’اتنے بڑے پیمانے پر بدانتظامی، مداخلت اور دھاندلی کے واضح شواہد سامنے آنے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا۔ اس معاملے پر خاموشی رہی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ چاہتی ضرور ہوگی تاہم وہ مؤثر طریقے سے اس معاملے کو سامنے نہیں لا سکی ’ورنہ یہ تو آئندہ کے انتخابات کے لیے بھی ایک سبق ثابت ہونا چاہیے تھا۔'

ان کے خیال میں ن لیگ کے پاس اطلاعات کے عمل کو چلانے کا مفید ڈھانچہ میسر نہیں ہے۔

کیا ایک مرتبہ پھر بد انتظامی کا امکان ہو سکتا ہے؟

ن لیگ کی امیدوار نے 10 اپریل کے ضمنی انتخاب سے قبل بھی الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں ممکنہ دھاندلی کے حوالے سے چند خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ ڈسکہ کی سڑکوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کیے جا رہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے ایک خط میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’ان کے مخالفین مبینہ طور پر بوگس ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن سے ان کو روکا جائے۔‘

احمد بلال محبوب کے مطابق جب 10 اپریل کو ایک مرتبہ پھر ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کا میدان سجے گا تو ایک مرتبہ پھر تمام تر توجہ اس حلقے پر ہو گی اور بلاشبہ یہاں مقابلہ کسی بھی دوسرے پہلو سے زیادہ سیاسی وابستگیوں کا ہو گا۔