کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثے کا ایک سال: ’انھوں نے کہا یہی آپ کے والد کی لاش ہے، سب شہدا ایک جیسے ہوتے ہیں‘

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
زرقا خالد کے والد

،تصویر کا ذریعہZarqa Khalid

،تصویر کا کیپشن

زرقا خالد کے والد دو مہینے کے وقفے کے بعد لاہور سے کراچی آ رہے تھے۔ کورونا وبا کے لاک ڈاؤن کے باعث وہ سفر نہیں کر پائے تھے

کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کو یہ تیسرا روز تھا۔ زرقا خالد کو اپنے والد کا پتہ چل گیا۔ وہ گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے ان دو خوش نصیب مسافروں میں شامل نہیں تھے جو بچ گئے تھے۔

زرقا خالد کے بیٹے نے اپنے نانا کی لاش چھیپا کے ایک مردہ خانے میں پڑی پہچان لی تھی۔ زرقا اور ان کے خاندان کے دیگر افراد نے جا کر اس کی تصدیق کی۔ انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے والد کے چہرے کا ایک حصہ ثابت تھا۔

کراچی میں رہائش پذیر زرقا خالد ایک نجی سکول میں ملازمت کرتی ہیں۔ ان کی والدہ گزشتہ ایک برس سے ان کے پاس رہ رہی تھیں۔ ان کے والد جو لاہور میں ملازمت کرتے تھے، ان کی والدہ اور اپنے بچوں سے ملنے کے لیے پی آئی اے کی فلائٹ سے کراچی آ رہے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس مئی میں لاہور سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز 3803 کو ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی دوسری کوشش کے دوران حادثہ پیش آیا اور جہاز ایک تین منزلہ گھر کی پانی کی ٹینکی سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا تھا۔

اس حادثے میں عملے کے اراکین سمیت 97 افراد ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زرقا خالد نے بتایا کہ ان کے والد کے چہرے کا ایک رخ، کان اور داڑھی کی شکل ہو بہو ویسی ہی تھی۔

’ان کے ناخن جو (لاہور میں) میری بہن نے ایک روز پہلے تراشے تھے وہ اسی اچھی طرح بنے ہوئے لگ رہے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا کیپشن

زرقا خالد نے اس کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ نا صرف اپنے والدین کے لیے انصاف لینے کے لیے کھڑی ہوں گی بلکہ نظام کو بھی درست کرنے کی جدوجہد کریں گی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انھیں یقین ہو گیا تھا کہ یہی ان کے والد کی لاش تھی۔ انھوں نے مردہ خانے میں اس کو ایک طرف رکھوا دیا تاہم جب انھوں نے اس کی حوالگی کے لیے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کے بعد ہی لاش ان کے حوالے کی جائے گی۔

زرقا خالد نے اپنے ڈی این اے کے نمونے جمع کروائے۔ آٹھ روز گزر گئے، کوئی نتیجہ نہیں آیا۔ وہ روز جا کر اپنے والد کی لاش کو دیکھتی تھیں کہ صحیح حالت میں پڑی تھی۔ نویں روز لاہور میں ان کی بہن نے ڈی این اے کے نمونے جمع کروائے اور اگلے ہی روز نیتجہ آ گیا۔

یہ ان کی لاش نہیں تھی

زرقا اور ان کے خاندان والے اپنے والد کی میت وصول کرنے کے لیے پہنچے تو انھیں دھچکا لگا۔ جو باقیات ان کے حوالے کی گئیں ’یہ وہ نہیں تھے جن کی ہم شناخت کر چکے تھے۔‘

زرقا خالد اپنے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کرنا چاہتی تھیں تاہم ان سے کہا گیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔

’انھوں نے کہا ڈی این اے میچ ہو چکا ہے، یہی آپ کے والد کی لاش ہے اور ویسے بھی سب شہدا ایک جیسے ہوتے ہیں۔‘

اب زرقا کو فیصلہ کرنا تھا۔ ان کی والدہ اس انتظار میں تھیں کہ جلد از جلد ان کے والد کی لاش ان کے حوالے ہو اور وہ ان کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔ صدمے کے باعث گزشتہ دس روز میں ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی تھی۔

زرقا خالد کے والد دو مہینے کے وقفے کے بعد لاہور سے کراچی آ رہے تھے۔ کورونا وبا کے لاک ڈاؤن کے باعث وہ سفر نہیں کر پائے تھے۔

عید کے موقع پر وہ خاندان والوں سے ملنے آ رہے تھے۔ زرقا خالد نے بتایا کہ ان کی ’والدہ شدت سے ابی کا انتظار کر رہی تھیں۔‘

حادثے کے بعد ان کے خاندان والوں نے انھیں صحیح بات نہیں بتائی۔ انھیں بتایا گیا کہ کورونا کے باعث والد کو ائیرپورٹ پر روک لیا گیا تھا اور ایک دو روز میں واپس آ جائیں گے تاہم تیسرے روز انھیں بتا دیا گیا۔ یہ خبر ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنی۔

’ان کا اور ابی کا 52 برس کا ساتھ تھا۔ وہ ان کا استقبال کرنے کے لیے تیار تھیں اور پھر ابا کا انتقال ہوا اور وہ بھی اس طرح۔‘ زرقا یہ کہتے ہوئے اپنے آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اب میں اپنی ماں کی جان بچانا چاہتی تھی

،تصویر کا ذریعہZarqa Khalid

،تصویر کا کیپشن

زرقا خالد کے والد اور والدہ

زرقا نے حکام کی طرف سے ملنے والی ان کے والد کی لاش کو گھر لے جانے کا فیصلہ کیا۔ انھیں محسوس ہوا کہ ’والد کو وہ پہلے کھو چکی تھیں۔ والدہ کی طبیعت دن بدن بگڑ رہی تھی۔ اب میں اپنی اماں کی جان بچانا چاہتی تھیں۔ اس لیے میں نے یہ سمجھوتہ کیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہم ان صاحب کی لاش کو بھی پورے احترام کے ساتھ گھر لے کر گئے اور رحیم یار خان میں ان کی تدفین کی گئی۔‘

ان کی والدہ نے آخری مرتبہ ان کے والد کی لاش کو ’خدا حافظ‘ کہا لیکن زرقا خالد کی والدہ اس کے بعد زیادہ روز زندہ نہیں رہ پائیں۔ یکم جون کو ان کے والد کی تدفین ہوئی اور 15 جون کو ان کی والدہ کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ ان کے لیے صدمہ برداشت کرنا مشکل ثابت ہوا تھا۔

زرقا خالد نے اس کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ نا صرف اپنے والدین کے لیے انصاف لینے کے لیے کھڑی ہوں گی بلکہ نظام کو بھی درست کرنے کی جدوجہد کریں گی۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی طرف سے دی جانے والی انشورنس کی رقم لینے سے انکار کر رکھا ہے۔

متاثرہ خاندان آر ڈی اے فارم پر دستخط کیوں نہیں کر رہے تھے؟

حادثے میں متاثر ہونے والے ستر کے لگ بھگ دیگر خاندانوں کے ساتھ انھوں نے ائیر کریش وکٹمز فیملیز فیڈریشن انٹرنیشنل نامی ایک تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ ان خاندانوں کا مؤقف ہے کہ پی آئی اے نے انشورنس کی رقم کو آر ڈی اے فارم سے مشروط کر دیا ہے۔

یہ انھیں قابلِ قبول نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آر ڈی اے فارم میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ رقم لینے کے بعد متاثرہ خاندان کے افراد پی آئی اے کے ساتھ ساتھ کسی بھی دوسرے ادارے کے خلاف کبھی بھی کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کر سکیں گے۔

ائیر کریش وکٹمز فیملیز فیڈریشن انٹرنیشنل تنظیم کے جنرل سیکریٹری جنید حامد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کی حتمی تحقیقات تاحال جاری ہیں اور متاثرہ خاندانوں کا حق ہے کہ انھیں یہ معلوم ہو کہ حادثے کے ذمہ داران کون تھے۔

’اگر متاثرہ خاندان والے آر ڈی اے فارم پر اب دستخط کر دیتے ہیں اور رقم حاصل کر لیتے ہیں تو کل جب تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ داران کا تعین ہوتا ہے تو وہ ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کر سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہر متاثرہ شخص کا بنیادی حق تھا جو ان سے چھینا نہیں جا سکتا۔

،تصویر کا ذریعہZarqa Khalid

آر ڈی اے فارم بلیک میلنگ کے مترادف ہے

جنید حامد نے سوال اٹھایا کہ انشورنس کی اس رقم کی مد میں انشورنس کمپنی تمام اداروں کو کلین چٹ کیوں دلوانا چاہتے تھے؟ جنید حامد کے مطابق انشورنس کی اس رقم پر ہر متاثرہ شخص کا حق ہے جو اسے فوری طور پر ادا کرنا ہوتی ہے اور اس کو حتمی تصفیے کا رنگ دینا غلط تھا۔

’پاکستانی قانون کے مطابق بھی یہ رقم پچاس لاکھ رکھی گئی تھی جو کہ ہر متاثرہ خاندان کو ادا کرنا ضروری تھا۔ اس مرتبہ حکومت نے اس کو بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دیا تھا۔ یہ رقم ان خاندانوں کو بغیر آر ڈی اے فارم کے ادا کی جانی چاہیے۔‘

جنید حامد نے بتایا کہ 89 متاثرہ خاندانوں میں سے 20 کے لگ بھگ خاندانوں نے آر ڈی اے پر دستخط کر کے انشورنس کی رقم حاصل کر لی تھی جن کی کمائی کا واحد ذریعہ حادثے میں جان گنوا بیٹھا تھا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اس فارم کو انشورنس کی اس رقم سے مشروط کرنا بلیک میلنگ کے زمرے میں آتا تھا۔‘

پی آئی اے کا مؤقف کیا تھا؟

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تردید کی کہ ’کسی قسم کی بلیک میلنگ کی جا رہی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آر ڈی اے فارم کا حادثے کی تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں۔ انشورنس کا عمل آزادانہ ہے اور آر ڈی اے فارم انشورنس کمپنی کی مانگ ہے جو کہ ہر قسم کے انشورنس کلیم کے لیے انھیں مطلوب ہوتا ہے۔‘

عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے افراد پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔ ’یہ ان کا استحقاق تھا کہ وہ آر ڈی اے پر دستخط کریں یا نہ کریں اور تحقیقات کے عمل کے مکمل ہونے کا انتظار کریں۔‘

تاہم ان کا استدلال تھا کہ پی آئی اے کا محض یہ مؤقف ہے کہ متاثرہ خاندان انشورنس کے کلیم جلد از جلد جمع کروائیں تاکہ ان کی مدت ختم نہ ہو جائے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ مدت دو سال تھی جس میں سے ایک سال تو گزر چکا۔

،تصویر کا ذریعہZarqa Khalid

،تصویر کا کیپشن

پی آئی اے طیارہ حادثہ متاثرین

ہر بار ایسا ہی ہوتا ہے اور یہ سب معافی مانگ لیتے ہیں

کراچی کے شہری عماد اللہ کی بہن، بہنوئی اور بھانجا بھانجی بھی اس حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ بھی متاثرہ خاندانوں کی تنظیم کا حصہ تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کے لیے انشورنس کی رقم اہم نہیں تھی۔ ان کے لیے ’شفاف تحقیقات‘ زیادہ اہمیت رکھتی تھیں۔

'بظاہر یہ نظر آ رہا ہے کہ یہ حادثہ پی آئی اے اور دیگر اداروں کی غفلت اور غلطیوں کی وجہ سے پیش آیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ حقائق تحقیات کے بعد سامنے لائے جائیں اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔‘

انھوں نے مختلف پہلوؤں کی جانب اشارہ کیا جو ان کے خیال میں وہ ’کوتاہیاں اور غلطیاں تھیں‘ جو کہ جہاز کو پیش آنے والے حادثے کا سبب بنی تھیں۔

’پائلٹ کی طرف سے جہاز کی رفتار بھی زیادہ تھی اور وہ زیادہ بلندی پر بھی تھے، پھر انھوں نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی بات کیوں نہیں مانی اور لینڈنگ کیوں کی؟ رن وے پر فوم کا سپرے کیوں نہیں کیا گیا؟ آگ بجھانے والی گاڑیوں کو طلب کیوں نہیں کیا گیا؟‘

عماد اللہ کا کہنا تھا کہ ایسی ہی کئی ظاہری اور پوشیدہ غلطیوں کی وجہ سے طیارے کو حادثہ پیش آیا اس لیے ان تمام پہلوؤں پر تحقیقات ہونی چاہیے۔ ان کا بھی یہی مؤقف تھا کہ وہ آر ڈی اے فارم پر دستخط نہیں کریں گے۔

’ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہم سب نے ایسا کر دیا پھر یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے دب جائے گا۔ ہر بار ایسا ہی ہوتا ہے اور یہ سب معافی مانگ لیتے ہیں اور بات وہیں ختم ہو جاتی لیکن پھر دوبارہ ایسا ہی حادثہ ہو جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ برس مئی میں لاہور سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز 3803 کو ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران حادثہ پیش آیا

اگر وقت پر امداد پہنچ جاتی تو شاید میری والدہ آج زندہ ہوتیں

عائشہ خالق اپنی والدہ کو لینے کے لیے اپنے بھائی کے ہمراہ ائیر پورٹ پہنچی تھیں جب انھیں طیارہ گرنے کی اطلاع ملی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت بھی ایئر پورٹ حکام کے پاس کوئی معلومات نہیں تھیں اور ہمیں کچھ نہیں بتایا جا رہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا ان کے استفسار کرنے پر انھیں جواب ملا تھا کہ ’یہ ساتھ ہی آپ کو نظر آ رہا ہے کہ کہاں گرا ہے طیارہ، خود جا کر دیکھ لیں۔‘

عائشہ خالق کے مطابق انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے کوئی ایسا نظام نہیں بنایا تھا جہاں سے حادثے کا شکار بننے والے افراد کے بارے میں ان کے لواحقین کو معلومات دی جا سکتیں یا انھیں تسلی ہی دی جاتی۔

وہ ایمرجسنی رسپانس اور امدادی کارروائیوں سے بھی مطمئن نہیں تھیں۔ ’میری والدہ کی میت کی حالت بالکل ٹھیک تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر وقت پر ان تک مدد پہنچ جاتی تو شاید آج وہ زندہ ہوتیں۔‘

’آج بھی لگتا ہے میری والدہ دروازے سے اندر آ جائیں گی‘

عائشہ کا مطالبہ ہے کہ حادثے کی تحقیقات مؤثر اور شفاف طریقے سے ہونی چاہیے اور جلد اس کی رپورٹ سامنے لائی جائے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ غلطی کس کی تھی۔

’اور اس کی مدد سے ایسا نطام بھی بنایا جائے کہ ایسے کسی حادثے کی صورت میں ہنگامی کارروائیاں منظم طریقے سے ہوں۔‘

’مجھے آج بھی ایسا لگتا ہے کہ دروازے سے میری والدہ چلتی ہوئی آ جائیں گی۔ ہم تو انھیں لینے گئے تھے اور وہ نہیں آئیں ہمارے ساتھ۔ ہم چاہتے ہیں کہ جو ہمارے ساتھ ہوا، کل کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔‘

دیگر تمام متاثرہ خاندانوں کے افراد کی طرح زرقا خالد بھی ہوا بازی وغیرہ کی ماہر نہیں ہیں تاہم ایک دوسرے کے تجربات اور معلومات سے وہ اپنے حقوق کے حوالے سے آگاہی رکھتی ہیں۔

وہ پر عزم ہیں کہ انصاف کے حصول تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی تاکہ اس نظام کو بدلا جائے جس میں ’ہم اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتے اور بار بار وہی غلطیاں دہرائی جاتی ہیں۔ اس طرح کتنے گھر متاثر ہو جاتے ہیں۔‘