کووڈ بی ون سِکس، ون سیون: کیا پاکستان کورونا وائرس کی انڈین قسم سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

  • سحر بلوچ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کووڈ پاکستان

،تصویر کا ذریعہEPA

پاکستان میں حالیہ دنوں خلیجی ممالک سے پشاور آنے والے 140 مسافروں کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا۔ سول ایوی ایشن کے مطابق مسافروں کے شور مچانے پر ان کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا جو دوبارہ مثبت آیا۔

اب اس وقت پاکستان میں جہاں کووڈ وبا کی تیسری لہر کے نتیجے میں نئے کیسز میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، وہیں حکام کو خدشہ ہے کہ دیگر ملکوں کی طرح کہیں خلیجی ممالک سے آنے والی پروازوں کے ذریعے کووڈ وبا کی انڈین قسمیں (بی ون سِکس، ون سیون) پاکستان میں نہ پھیل جائے۔

لیکن اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر کووڈ وبا کی انڈین قسم پاکستان پہنچی ہے تو اس بارے میں کیا اقدامات کیے گئے ہیں، کیا یہ اقدامات کافی ہیں، اور آیا سفری پابندیوں سے وبا کا ملک میں داخلہ روکا جاسکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

انڈین قسم کے کووڈ ہونے کی تصدیق تو کی جاسکتی ہے مکمل تردید نہیں

اس بارے میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی وبا کی موجودگی کے بارے میں شواہد کے ذریعے تصدیق کی جاسکتی ہے لیکن مکمل طور پر اس کی تردید نہیں کی جا سکتی۔

’اس وقت ہمارے پاس کوئی ثبوت یا شواہد موجود نہیں کہ پاکستان میں انڈین ویریئنٹ موجود ہے لیکن یہ اس وقت کی صورتحال ہے جو کچھ دن بعد بدل بھی سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

اسلام آباد میں حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اگر ایک ماہ پہلے ہونے والے واقعات کو دیکھیں تو حکومتِ پاکستان کی طرف سے باہر ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں ان پروازوں کی تعداد 20 فیصد تک کر دی گئی۔

ان 20 فیصد پروازوں میں بھی ہر روز 12000 مسافر پاکستان پہنچتے ہیں۔ یہ وہ مسافر ہیں جو پاکستانی شہری ہیں اور جو مختلف ممالک میں اس پابندی کے لگنے سے پہلے موجود تھے جن کو اب پاکستان واپس لایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان براہِ راست پروازوں کا سلسلہ کافی پہلے سے بند ہے۔ تو اس دوران خلیجی ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور دیگر ممالک سے پہنچنے والے مسافروں کے ذریعے بی ون سِکس، ون سیون پاکستان پہنچنے کا چانس ہے۔

لیکن ان کے مطابق انڈین ویریئنٹ کی موجودگی کو ثابت کرنے کے لیے پاکستان آنے والے مسافروں کے ٹیسٹ ہونا لازمی ہیں۔

پاکستان کیا اقدامات کررہا ہے؟

ڈاکٹر فیصل سلطان بتاتے ہیں کہ پاکستان اس وقت جو چند اقدامات کررہا ہے ان میں پروازوں کو محدود کرنا، ٹریکنگ اینڈ ٹریسنگ کے ذریعے مسافروں کا کھوج لگا کر انھیں قرنطینہ کرانا، سیمپلنگ اور سیکوئنسنگ کے ذریعے وبا کی موجودگی کا پتا لگانا اور ویکسین لگانے کا عمل شامل ہے۔

اب یہاں پر معاملات تھوڑے مختلف ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت ہونے والی ٹیسٹنگ وبا کی موجودگی کے بارے میں تو بتا سکتی ہے لیکن ملک میں وبا کی کونسی قسم گردش کر رہی ہے، یہ جانچنے کے ذرائع کافی محدود ہیں۔

انڈیا میں حالیہ دنوں میں ہونے والی جینوم سیکوینسنگ، جسے سادہ الفاظ میں وائرس کی قسم جانچنے کا عمل بھی کہا جا سکتا ہے، سے پتا چلا ہے کہ انڈیا میں بی ون سِکس، ون سیون باقی قسم کے کووڈ پر غالب آ چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

یعنی اس وقت انڈیا میں اس قسم کا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہاں کی حکومت کے لیے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جسے سلجھانے کے لیے وہ تمام تر اقدامات کر رہے ہیں۔

برطانیہ کی اگر مثال لیں، تو وہاں پر کووڈ کی یہ نئی قسم پھیلنے کے بعد تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ یہ وہاں پر پہلے سے موجود کووڈ کی مختلف اقسام کو برطرف کر رہا ہے اور ہفتوں کے دوران دو گنا زیادہ افراد کو متاثر کررہا ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس بارے میں کہا کہ ’آپ اس کی مثال یوں لے لیں کہ اس وقت میں آپ کو سڑک کو دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ یہ گاڑی ہے لیکن یہ کون سے ماڈل کی ہے، یہ ہم اس وقت پتا نہیں لگا پا رہے ہیں۔‘

گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ بی ون سِکس، ون سیون نہیں پھیلے گا

رانا جواد اصغر وبائی امراض کے ماہر ہیں اور گلوبل ہیلتھ سٹریٹجیز اینڈ امپلمنٹرز کے ساتھ بطور ایگزیکٹو منسلک ہیں۔ ان کا کام حکومت کو وبا کی نئی اور بدلتی اقسام سے متعلق اقدامات اٹھانے کے بارے میں تجاویز دینا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت پاکستان میں جینوم سیکوینسنگ برائے نام بھی بمشکل ہو رہی ہے اور انڈیا میں بھی یہ صرف ایک فیصد تک استعمال کی جاتی ہے جبکہ برطانیہ میں پانچ فیصد ہونے کی وجہ سے، وہ بروقت پتا لگا سکے کہ وہاں پر کتنی فیصد آبادی میں نئی قسم کا وائرس ہے۔‘

’تو اگر حکومت کہتی ہے کہ یہاں کووڈ کی انڈین قسم موجود نہیں تو وہ اس لیے صحیح ہے کیونکہ اب تک سیمپلنگ میں سامنے نہیں آیا لیکن اگر دنیا کے 44 ممالک میں یہ پھیل چکا ہے تو یہ باقی جگہوں تک جلد رسائی حاصل کر لے گا کیونکہ گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ یہ نہیں آئے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

سرحدیں بند کرنے سے وائرس نہیں روکا جاسکتا

بحری جہازوں سے مسافروں کے کسی نئے ملک پہنچنے کے دور میں اس ملک کی حکومت یہ ممکن بناتی تھی کہ لوگوں کو سفر کے 18 یا 20 دن کے دوران قرنطینہ کر دیا جائے کیونکہ وبا کا اثر دو ہفتے کے دوران کم ہو جاتا ہے۔

لیکن اب ایسا کرنا خاصا مشکل ہے کیونکہ اب 18 گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچا جاسکتا ہے۔

پاکستان نے کووڈ وبا کے اوائل میں تفتان اور افغانستان کی سرحد کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد کرتارپور راہداری کو بھی مختصر عرصے کے لیے بند کیا گیا لیکن اس دوران بھی کووڈ کی وبا پھیلتے ہوئے کئی علاقوں تک پہنچ گئی۔

اس بارے میں رانا جواد نے بتایا کہ ’اب تک کی تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ اکثر قرنطینہ کے دوران جسم وائرس کا پتا نہیں لگا پاتا، جس کے نتیجے میں وائرس کے اثرات یا علامات پوری طرح سے سامنے آنے میں وقت لگ جاتا ہے۔‘

وبا کی کسی بھی قسم کو روکنے کے لیے جینوم سیکوینسنگ اور ٹیسٹنگ کا عمل ہونا لازمی ہے تاکہ وائرس کو کسی بھی طرح سے پکڑا جاسکے اور وہ آبادیوں میں نہ پھیل سکے۔

پروازوں پر جھوٹےپی سی آر ٹیسٹ کا معاملہ

حال ہی میں پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سخت الفاظ میں لکھا ایک بیان جاری کرتے ہوئے ایسے مسافروں کی نشاندہی کی جنھوں نے پرواز پر چڑھتے ہوئے مبینہ طور پر غلط یا جھوٹے پی سی آر یا کووڈ ٹیسٹ کا سرٹیفیکیٹ دکھایا تھا۔

اس کے بعد پی آئی اے سمیت دیگر پروازوں کو متنبہ کیا گیا کہ وہ صرف تصدیق شدہ لیبارٹریز کے ٹیسٹ ہی مانیں اور سرٹیفیکیٹ پر لگے بار کوڈ سے اس کے مستند ہونے کا پتا لگائیں۔

حکام ان مبینہ جھوٹے ٹیسٹ دکھانے کی بات کو انڈین قسم کے کووڈ پھیلنے سے بھی جوڑ رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ایسے نہ جانے کتنے لوگ ملک بھر میں مختلف علاقوں میں جا چکے ہوں گے جنھیں پہلے سے کووڈ ہے۔ اس سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

لیکن یہ کیسے ثابت کیا گیا کہ یہ ٹیسٹ جھوٹے تھے؟

اس بارے میں جب سی اے اے سے پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ مسافروں کا پاکستان پہنچنے پر اینٹی جین ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا، جس سے انھیں شک ہوا۔

رانا جواد کہتے ہیں کہ اگر 72 گھنٹے پہلے ایک ٹیسٹ کرایا گیا تھا اور اس کے بعد مزید 18 گھنٹے ایئرپورٹ اور پرواز پر گزارے گئے، تو اس دوران یہ بالکل ممکن ہے کہ کسی انسان کو کووڈ ہو چکا ہو۔ اس کو جھوٹا کہنا اس لیے صحیح نہیں کیونکہ یہ وائرس کسی بھی وقت کسی بھی انسان کو ہو سکتا ہے۔

ویکسین کے بارے میں ہچکچاہٹ اور بی ون سِکس، ون سیون

پاکستان کی حکومت نے حالیہ دنوں میں علما اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے مساجد اور گھروں میں ویکسین کی افادیت کے بارے میں پیغامات پہنچانے کا عمل شروع کیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود ویکسین لگانے والوں کی تعداد میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔ جس کے بارے میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’لوگوں میں ایسا تاثر پھیل رہا ہے کہ شاید ان سے جھوٹ بولا جارہا ہے۔ یا پھر ان کو پردے میں رکھا جارہا ہے۔ یہ تاثر جب تک نہیں ختم کیا جاتا، تب تک ویکسین لگوانے کی مہم آہستہ ہی چلے گی۔‘

اب اس منفی تاثر کا اثر کووڈ کی نئی اقسام سے محفوظ رکھنے کے آڑے آ رہا ہے۔ دنیا بھر میں ویکسین کے بارے میں ہر طرح کی غلط افواہیں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جارہی ہیں، جیسے ’ویکسین میں کوئی چِپ ہے‘ یا ’ویکسین سے مردانہ کمزوری ہوسکتی۔‘

ان افواہوں کے کوئی شواہد موجود نہیں اور نہ ہی کسی سائنسدان نے ان کی تصدیق کی ہے۔

رانا جواد نے کہا کہ ’حکومت اس وقت ویکسینیشن پر بہت زور دے رہی ہے تاکہ تقریباً چھ ماہ تک عوام کووڈ وبا سے محفوظ رہے لیکن ویکسین لگانے کے بعد بھی احتیاط لازمی ہے۔ اگر ویکسین لگانے کے بعد آپ فوراً سے سفر کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کیریر بن جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹریکنگ اور ٹریسنگ، کیا اب بھی مددگار؟

پاکستان میں کووڈ وبا کی پہلی لہر کے دوران ٹریکنگ اور ٹریسنگ کے ذریعے ان تمام افراد کا موبائل نیٹ ورک کے ذریعے پتا لگایا گیا تھا جنھیں خود کووڈ ہے یا پھر وہ کسی ایسے شخص کے پاس ہیں جن میں کووڈ کی تشخیص ہو چکی ہے۔ اس عمل کو ’ہیلتھ انٹیلیجنس‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ سال اپریل میں کہا تھا کہ ’ہمیں آئی ایس آئی (پاکستان کی خفیہ ایجنسی) نے زبردست سسٹم دیا ہوا ہے جو ٹریک اینڈ ٹریس میں مدد کرتا ہے۔ وہ تھا تو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لیکن اب وہ کورونا کے جو لوگ ہیں ان کے لیے کام آ رہا ہے۔‘

لیکن یہ اقدام جہاں پہلی وبا کے دوران کافی حد تک کارآمد ثابت ہوا وہیں اب اس کے استعمال اور جلد نتیجے ملنے کے عمل پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

رانا جواد نے بتایا کہ ’ٹریکنگ اور ٹریسنگ وبا کے اوائل میں پھیلاؤ کو روکنے میں کام آ سکتا ہے لیکن پہلے سے موجود وبا کو محدود نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے سیمپلنگ اور ٹیسٹنگ کام آ سکتی ہیں۔‘

حکومت کووڈ سے متعلق ڈیٹا عام کرے

ہر روز کووڈ سے متعلق اعداد و شمار وبا سے نمٹنے کے قومی ادارے این سی او سی کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں تقریباً ہر چیز بتائی جاتی ہے کہ وائرس کس صوبے میں کتنا زیادہ ہے اور کہاں کتنی اموات ہوئیں۔

لیکن پاکستان میں اس وقت یہ معلومات عام نہیں کی گئیں کہ کووڈ سے کتنی عمر کے افراد کو زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ ہے اور وہ افراد کیا خواتین میں زیادہ ہیں یا مردوں میں۔

حال ہی میں پنجاب کی وزیرِ صحت یاسمین راشد نے بھی اپنے بیان میں لاہور میں کووڈ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں اعداد و شمار جاری کیے تھے۔ ان اعداد و شمار میں یہ تو بتایا گیا کہ یہ وبا کن علاقوں میں اور کس حد تک پھیل چکی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کس عمر کے افراد اور کن لوگوں میں یہ زیادہ پھیل رہی ہے۔

رانا جواد نے کہا کہ ’ہمیں آج بھی عمر کی بنیاد پر متاثرین کا نہیں پتا کہ کس عمر کے افراد میں زیادہ ہے۔ حکومت کو شہروں کی حد تک ڈیٹا عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پتا تو چلے کہ کس طرح سے وائرس پھیل رہا ہے اور اس کے اثرات کیا ہیں۔ اس سے ٹرینڈز سمجھ آئیں گے، وبائی امراض پر کام کرنے والے ماہرین تجاویز دے سکیں گے اور ایک مجموعی صورتحال کا اندازہ ہوسکے گا۔‘

اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے سکول اور شادی ہال دوبارے کھولنے کی بات کی جارہی ہے لیکن یہ کس ڈیٹا کے تحت فیصلہ کیا جا رہا ہے، یہ واضح نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ڈیٹا کے عام ہونے سے انڈین قسم کا وائرس ہو یا کوئی اور اسے روکنے کے لیے ہم پہلے سے تیار ہو سکیں گے۔‘