خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں خودکشی کے حالیہ واقعات کی وجہ کیا؟

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
خود کشی

،تصویر کا ذریعہGetty Creative Stock

’میرے شوہر سعودی عرب میں مقیم ہیں ٹیلیفون پر ان سے بات ہوئی اور ٹیلیفون پر تکرار ہوئی جس کے بعد دلبرداشتہ ہو کر زہریلی گولیاں کھالیں، یہ اقدام میرا اپنا تھا اس میں کسی کا عمل دخل نہیں ہے۔‘

یہ عبارت ایک پولیس تھانے میں درج روزنامچے سے لی گئی ہے۔ اس خاتون نے خود کشی کی کوشش کی اور انتہائی تشویشناک حالت میں انھیں ہسپتال لایا گیا تھا۔ پولیس نے وہاں موجود ڈاکٹر کی موجودگی میں ان کا بیان درج کیا۔

یہ عبارت صرف ایک تھانے کے ایک روزنامچے میں درج نہیں تھی بلکہ حیران کن بات ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے مختلف تھانوں میں خود کشی کے واقعات کے روزنامچوں میں درج تھی۔

’گھر میں کسی بات پر تکرار ہوئی جس سے میں دلبرداشتہ ہو گیا اور پھر وہاں موجود گندم کی زہریلی گولیاں کھا لیں۔ خود کشی کا یہ میرا اپنا فیصلہ تھا اس میں کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔‘ یہ عبارت بیشتر ایف آئی آرز میں درج ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کتنے روزنامچے یا ایف آئی آر درج ہیں؟

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں ایک مہینے اور 18 دنوں یا لگ بھگ ڈیڑھ ماہ میں خود کشی اور اقدام خود کشی کے 21 واقعات پولیس تھانوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

ان 21 واقعات میں 19 واقعات ایسے ہیں جن میں خود کشی یا خود کشی کی کوشش کے لیے گندم یا تمباکو محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی زہریلی گولیاں یا چوہے مار دوائیاں استعمال کی گئی ہیں۔ دو واقعات ایسے پیش آئے ہیں جن میں پستول کا استعمال کیا گیا ہے۔

یہ 21 روزنامچے یا ایف آئی آرز صوابی کے مختلف تھانوں میں اس سال یکم اپریل سے اٹھارہ مئی کے دوران درج کی گئی ہیں۔ ان میں 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سات کو مسلسل طبی امداد دے کر بچا لیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار بھی ان بڑھتے ہوئے واقعات سے پریشان ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Creative

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

یہ خود کشیاں کرنے والے کون ہیں؟

یہ مقامی افراد ہیں اور حیران کن طور پر ان میں بیشتر نوجوان افراد ہیں۔ پولیس کے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق ان میں نو خواتین ہیں اور ان کی عمریں 16 سال سے لے کر 25 سال تک بتائی گئی ہیں۔

اسی طرح تمام 21 افراد میں بھی اگر دیکھا جائے تو 19 افراد ایسے ہیں جن کی عمر 16 سال سے لے کر 25 سال تک ہے۔ دو افراد کی عمریں 45 سال اور 55 سال بتائی گئی ہیں۔

بظاہر ان کا پیشہ وغیرہ درج نہیں ہے لیکن ان میں اطلاعات کے مطابق طالبعلم شامل ہیں جبکہ ایسی ایک خاتون اور ایک مرد شامل ہیں جو عرصہ دراز سے بیمار تھے۔

ایک خاتون نے خود کشی کی کوشش کی انھیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر گئی اور پھر انھیں پشاور میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ خاتون کے شوہر اور دیور خلیجی ممالک میں ہیں اور یہاں خاتون کی ساس، سسر اور ایک چھوٹے دیور رہتے ہیں۔

اس خاتون کے منھ بولے بھائی قیصر نے بتایا کہ خاتون کو کراچی سے بیاہ کر یہاں لایا گیا اور ان کی ٹانگوں میں شدید درد رہتا تھا جس سے وہ پریشان تھیں۔ خاتون کی زندگی بچا لی گئی اور پھر انھوں نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ انھیں نہیں پتہ چلا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا ہے۔

اسی طرح ایک بڑی عمر کے شخص نے غربت سے تنگ آ کر خود کشی کی ہے۔ پولیس ایف آئی آر میں یہی درج ہے کہ وہ گھر میں موجود تھا اور اچانک زندگی سے دلبرداشتہ ہو کر زہریلی گولیاں کھا لیں۔ دیگر تمام روزنامچوں اور ایف آئی آرز میں یہی وجوہات درج کی گئی ہیں۔

کیا ان واقعات کی تفتیش کی گئی ہے؟

پولیس تھانوں میں درج ایف آئی آرز کی عبارت لگ بھگ ایک ہی ہے۔ اس بارے میں سینیئر پولیس افسران کا کہنا ہے کہ عام طور پر تھانوں میں مختلف واقعات کے بارے میں ایف آئی آر کے متن ایک طرح کے ہی ہوتے ہیں اس میں کوئی انہونی بات نہیں ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بارے میں کوئی تفتیش، تحقیقات یا چھان بین کی گئی ہے کہ یہ واقعات اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہے ہیں۔ اس بارے میں صوابی کے ضلع پولیس افسر محمد شعیب سے رابطہ کیا تو انھوں نے کوئی موقف نہیں دیا اور ناں ہی یہ بتایا کہ ان واقعات کے بارے میں پولیس کیا کر رہی ہے اور کیا اس بارے میں کوئی ایسی کوششیں کی گئی ہیں کہ معلوم کیا جا سکے کہ کہ یہ سارے واقعات واقعی خود کشی کے تھے یا ان میں کوئی اور وجوہات بھی تھیں۔

انھوں نے مشورہ دیا کہ اس بارے میں لوکل باڈیز سے رابطہ کریں۔ اس بارے میں مختلف علاقوں کے تفتیشی افسران سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ خود کشی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے اور اس کی وجوہات بھی مختلف ہیں۔

ایک سینیئر تفتیشی افسر نے بتایا کہ خود کشی کے واقعات کی تفتیش انسپکٹر سے کم عہدے کا افسر نہیں کرتا اور اس کے لیے کوشش ہوتی ہے کہ تفصیل معلوم کی جا سکے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ چونکہ یہ زہریلی گولیاں آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں اس لیے اکثر فوری دستیاب انھی گولیوں سے خودکشی کی کوشش کی جاتی ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق خواتین میں خود کشی کے لیے رسہ استعمال کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں اور ان علاقوں میں پانچ فیصد ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن میں گلے میں رسہ ڈال کر خود کشی کی جاتی ہے۔ فائرنگ کر کے جان کا خاتمہ بھی کیا جاتا ہے۔

بیشتر واقعات میں محبت کی کوئی کہانی ضرور ہوتی ہے لیکن خاندان کے افراد اسے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اس سے بدنامی ہو سکتی ہے۔

صوابی کہاں واقع ہے؟

صوابی صوبہ خیبر پختونخواہ کا ایک انتہائی زرخیز علاقہ ہے جو دریائے سندھ اور دریائے کابل کے درمیان واقع ہے۔ اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے موٹر وے پر خیبر پختونخوا کا پہلا ضلع صوابی آتا ہے۔

صوابی مردان ڈویژن کا حصہ ہے اور یہاں بڑے تعلیمی ادارے قائم ہیں جن میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف سائنس انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے علاوہ دو یونیورسٹیز اور ایک گجو خان میڈکل کالج قائم ہے۔ ایک یونیورسٹی خواتین کے لیے بھی ہے۔

اس علاقے میں گندم اور تمباکو کی فصل کے علاوہ مختلف پھلوں کے باغات ہیں۔ ضلع صوابی کی آبادی لگ بھگ 17 لاکھ ہے اور یہاں زیادہ تر افراد زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے۔ یہاں لوگ گھروں میں گندم اور تمباکو کے لیے استعمال ہونے والی زہریلی گولیاں رکھتے ہیں۔

’بظاہر خود کشی اور در پردہ قتل‘ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں خود کشیوں کے رجحان پائے جاتے ہیں ان میں چترال اور دیر میں بھی خود کشیوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

ان علاقوں میں تعینات نے اپنے ادوار میں خود کشیوں کے ان واقعات پر گہری نظر بھی رکھی ہے اور ان میں ایسے واقعات بھی پیش آیے ہیں جن میں کوئی قتل کرنے کے لیے زہریلی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایک تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایسے خود کشی کے واقعات بھی ماضی میں پیش آ چکے ہیں جن میں ابتدائی پولیس رپورٹ میں خود کشی درج تھی لیکن بعد میں وہ قتل کی ایف آئی آر میں تبدیل کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تفتیشی افسر نے بتایا کہ صوابی کے ان واقعات میں بظاہر ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔

ذہنی دباؤ، عدم برداشت اور حالات

ماہرین نفسیات کے مطابق مختلف علاقوں میں خود کشی کے واقعات اور کی وجوہات مختلف ہیں لیکن موجودہ حالات کورونا کے وجہ سے الگ پریشانی لاحق ہے کیونکہ پورے ملک میں ذہنی تناؤ کو برداشت کرنے کی قوت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

پشاور میں شعبہ نفسیات کی چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر ارم ارشاد نے بی بی سی ک بتایا کہ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی آ رہی ہے اور لوگ کم محنت اور کم قت میں زیادہ وسائل حاصل کرنا چاہتے ہیں اور نوجوانوں کو اہل خانہ کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں لوگوں کو ہر روز نئے محاذ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور نوجوانوں میں موبائل فون اور میڈیا کی لت لگنا یا عادی ہو جانا اب عام ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رہی سہی کسر کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے پیدا ہوئی ہے اور اکثر لوگ خاص طور پر نوجوانوں کی جسمانی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر ارم ارشاد نے مزید بتایا کہ اب ذہنی تربیت یا رہنمائی نہیں کی جا رہی اور دوسرا مثبت سوچ اور بہتر ماحول قائم رکھنے کے لیے جیسے بڑے بزرگ پہلے رہنمائی کیا کرتے تھے اب وہ کم ہو گیا ہے اس لیے کسی بھی معمولی صورتحال میں بھی سخت رد عمل سامنے آجاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں حالات مختلف تھے، 15-20سال پہلے لوگوں کو جسمانی اور ذہنی تربیت کے مواقع باہر دستیاب رہتے تھے لیکن اب ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے نوجوان الگ تھلگ ہیں۔ خاندان کے افراد سے گھر میں رہتے ہوئے بھی رابطے کم ہوتے ہیں اور اسی موبائل فون میں ہی نوجوان اپنے اندر خود عدم برداشت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’پاکستان میں مہنگائی اور غربت میں اضافہ، لوگوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے، دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوتا جا رہا ہے ایسے میں ان بچوں کی خواہشوں کی تکمیل کرنا والدین کی دسترس میں نہیں رہا۔‘