قسطوں کی ادائیگی: ’بحریہ ٹاؤن کو عدالتی رعایت پر وفاقی حکومت کو اعتراض نہیں ہوگا‘

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ملک ریاض، بحریہ ٹاؤن

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس میں پاکستان کے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران وہ حکومت کے اس مؤقف کی حمایت کریں کہ اگر عدلیہ قسطوں کی ادائیگی کے معاملے میں بحریہ ٹاؤن کو کوئی رعایت دیتی ہے تو اس پر وفاق کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر کی طرف سے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کورونا کی وجہ سے ان کے مؤکل کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے لہٰذا اس بنیاد پر انھیں قسطوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سنہ 2018 میں بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے خلافِ قواعد زمین کے حصول کے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو سات سال کی مدت میں 460 ارب روپے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کو یہ پیشکش کی تھی کہ اگر وہ قومی خزانے میں ایک ہزار ارب روپے جمع کروا دیں تو ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔

ایک ہزار ارب روپے سے شروع ہونے والا یہ معاملہ 460 ارب روپے میں طے پا گیا۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کی طرف سے یہ درخواست دی گئی تھی کہ وفاق کو یہ رقم خرچ کرنے کا اختیار دیا جائے تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی تھی۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل کے مطابق ان کا کلائنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اب تک 58 ارب روپے سپریم کورٹ میں جمع کروا چکا ہے۔ انھوں نے کہا کورونا کی صورت حال کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح ان کے مؤکل کا کاروبار بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

سپریم کورٹ میں اس ضمن میں گذشتہ ماہ وزارت قانون کا ایک خط بھی جمع کروایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن اور نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان ایک یادداشت پر دستخط ہونے کی توقع ہے جس کے تحت بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اسلام آباد اور کراچی میں کم لاگت والے پانچ ہزار اپارٹمنٹس تعمیر کر کے دے گی جن میں سے تین ہزار اسلام آباد میں جبکہ دو ہزار کراچی میں تعمیر کیے جائیں گے۔

اس خط میں کہا گیا تھا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کی طرف سے دوسرا سوال یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا تعمیراتی سیکٹر میں بحریہ ٹاؤن ایک قابل ذکر کھلاڑی ہے تو اس کا جواب ہے کہ یقینی طور پر اس شعبے میں بحریہ ٹاؤن ایک قابل ذکر کھلاڑی ہے۔

اس خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر سپریم کورٹ بحریہ ٹاؤن کی طرف سے دی گئی درخواست پر غور کرتی ہے تو وفاقی حکومت کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا جائے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو قسطوں کی ادائیگی میں رعایت دینے سے اس ڈیڈ لائن میں کوئی فرق نہیں پڑے گا جو کہ عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کو رقم کی ادائیگی کے لیے دی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اٹارنی جنرل آفس کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق وزارت قانون کے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ بحریہ ٹاؤن کو قسطوں کی ادائیگی میں کوئی رعایت دیتی ہے تو ان قسطوں پر حاصل ہونے والے مارک اپ کا فیصلہ سپریم کورٹ طے کرے گی اور بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

اس خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر عدالت کی طرف سے ریلیف ملنے کے باوجود بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ عدالت یا حکومت سے کیے گئے عہد کو پورا نہیں کرتی تو وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے قسطوں کی ادائیگی میں دی گئی چھوٹ پر نظر ثانی کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے۔

ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت اس بارے میں جو بھی حکم صادر کرے گی وفاقی حکومت اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔

بحریہ ٹاؤن عملدرآمد مقدمے کی آخری سماعت گذشتہ برس جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی تھی۔

جسٹس فیصل عرب گذشتہ برس ریٹائر ہوگئے تھے اور اس کے بعد بینچ تشکیل نہیں دیا گیا۔