تاج محمد سرپرہ: کراچی سے لاپتہ بزنس مین جن کے بیوی بچے ایک اور عید اُن کے بغیر گزاریں گے

  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
تاج محمد سرپرہ

،تصویر کا ذریعہSalia Marri

صالحہ مری کے کانوں میں ابھی تک اپنے شوہر سے ہونے والی اس آخری گفتگو کی گونج باقی ہے جس میں وہ بتا رہے تھے کہ اُن کے برطانیہ پہنچنے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں اور یہ کہ وہ اپنے بچوں سے اب صرف چند گھنٹوں کی دوری پر ہیں۔

’جب وہ کراچی میں گھر سے ایئرپورٹ کے لیے نکلے تو ہمیں بتایا کہ وہ نکل پڑے ہیں۔ انھوں نے مجھے اور بچوں کو بتایا کہ اب ملاقات میں صرف چند گھنٹے رہ گئے ہیں۔ اس وقت عید الاضحیٰ میں صرف آٹھ دن باقی تھے۔ انھوں نے بچوں کو بتایا کہ وہ عید پر خوب انجوائے کریں گے۔‘

یہ کہانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے میر تاج محمد سرپرہ کی ہے۔ صالحہ بتاتی ہیں کہ ’وہ بہت خوش تھے۔ جب وہ ایئر پورٹ سے گھر کے لیے نکلے تو فون پر مجھ سے اور بچوں سے بات کرنا شروع کی۔ انھوں نے بچوں کو بتایا کہ انھوں نے عید کے لیے کراچی سے اُن کے لیے بہت ساری چیزیں خریدی ہیں۔'

مگر پھر کچھ ایسا ہوا جس کی صالحہ کو کوئی توقع نہیں تھی۔

'بچوں کے بعد وہ مجھ سے بات کر رہے تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ چند مسلح لوگوں نے ان کی گاڑی کو روک لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کا فون بند ہوگیا۔۔۔‘

صالحہ مری گذشتہ سال جولائی میں پیش آنے والے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’جب ان کا فون بند ہوگیا تو اس وقت دو بجنے میں دس منٹ تھے۔ میں نے ان کے علاوہ ان کے ڈرائیور کے فون پر بہت ساری کالیں کیں۔

’لیکن دونوں کے فون بند جا رہے تھے۔ میں نے دیگر رشتہ داروں سے رابطہ کیا لیکن ان میں سے بھی کسی کو بھی ان کے بارے میں پتا نہیں تھا۔'

مگر یہ چند گھنٹوں کی دوری اب ایک برس سے بھی طویل ہو چکی ہے۔ میر تاج محمد سرپرہ کو 19 جولائی 2020 کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے اپنے ڈرائیور محمد جاوید کے ہمراہ لاپتہ ہوئے تھے۔

چاول کا کاروبار کرنے والے لاپتہ تاج محمد سرپرہ کون ہیں؟

صالحہ مری معروف قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کی بھتیجی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اُن کے شوہر کی گمشدگی نے جیتے جی انھیں اور ان کے بچوں کو مار دیا ہے۔

ان کی گمشدگی کا مقدمہ 27 جولائی 2020 کو کراچی میں اُن کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا لیکن ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود دونوں افراد کی بازیابی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

تاج محمد کا تعلق بنیادی طور پر بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@Saliamarri_

بلوچستان یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت نہیں کی بلکہ زمینداری کے علاوہ اپنا کاروبار شروع کیا۔

صالحہ مری نے بتایا ان کا کاروبار چاول اور دیگر کھانے پینے کی اشیا پر مشتمل تھا۔

55 سالہ تاج محمد کا تعلق بلوچوں کے قبیلے 'سرپرہ' سے ہے اور اُن کے چھ بچے ہیں۔

صالحہ مری نے بتایا کہ وہ طویل عرصے سے کراچی میں مقیم تھے اور ڈی ایچ اے فیز 8 میں ان کا ذاتی گھر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'ہم 2014 میں کراچی سے دبئی منتقل ہوگئے اور وہاں اپنا کاروبار شروع کیا لیکن بچوں کی تعلیم کی خاطر ہم نے سنہ 2017 میں برطانیہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔'

صالحہ مری کہتی ہیں کہ کاش اگر کورونا نہ ہوتا تو آج وہ، ان کے بچے اور تاج محمد کے خاندان کے لوگ ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار نہ ہوتے۔

تاج محمد بلوچ کی گمشدگی کا مقدمہ ان کے چھوٹے بھائی حبیب اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

کراچی کے بلوچ کالونی کے پولیس سٹیشن میں یہ مقدمہ دفعہ 365 کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق وہ 19 جولائی کی شب ایک بج کر 25 منٹ پر اپنی پجیرو گاڑی میں ذاتی ڈرائیور کے ہمراہ ایئرپورٹ کے لیے نکلے کیونکہ صبح ترکی کے لیے ان کی پرواز تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق وہ ایک بج کر 50 منٹ تک اپنے گھر والوں سے رابطے میں تھے لیکن اس کے بعد وہ گاڑی اور ڈرائیور سمیت لاپتہ ہیں۔

کورونا وبا کیسے تاج محمد کی گمشدگی کا سبب بنی؟

صالحہ مری بتاتی ہیں کہ 'جب ہم نے برطانیہ میں اپنے تمام بچوں کے داخلے کا عمل مکمل کیا تو تاج محمد کے ویزا کی مدت ختم ہوگئی۔ ویزا میں توسیع کے لیے تاج محمد کو دبئی واپس جانا پڑا۔'

انھوں نے بتایا کہ ویزا میں توسیع کے بعد تاج محمد دبئی سے واپس برطانیہ آنا چاہتے تھے لیکن کورونا کی وجہ سے دبئی سمیت متحدہ عرب امارات سے یورپ کے لیے پروازیں بند ہوگئیں جس کی وجہ سے تاج محمد دبئی میں پھنس گئے۔

'تاج محمد کو اپنے بچوں سے حد درجہ پیار ہے اور وہ ان سے دور رہنے کی وجہ سے دبئی میں بہت پریشان تھے۔ جولائی میں پاکستان سے یورپی ممالک کے لیے کچھ پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو تاج محمد نے سوچا کہ کراچی جا کر وہاں سے لندن کا ٹکٹ لیا جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کراچی میں گھر کو بھی دیکھنا چاہتے تھے۔اس لیے 19 جولائی سے دو، تین روز قبل وہ دبئی سے کراچی پہنچے۔'

صالحہ مری نے بتایا کہ چونکہ یورپی ممالک جانے کے لیے کورونا کا ٹیسٹ لازمی تھا اس لیے انھوں نے لندن کا ٹکٹ کرنے سے پہلے کورونا کا ٹیسٹ کروایا۔ چونکہ ٹیسٹ کے نتائج اگلے دن ملنے تھے اس لیے انھوں نے 18 جولائی تک ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیا۔'

تاج محمد کی اہلیہ نے بتایا کہ 18جولائی کو اُن کا ٹیسٹ منفی آیا تو انھوں نے 19جولائی کے لیے براستہ ترکی لندن کا ٹکٹ لے لیا۔

'چونکہ ان کی پرواز استنبول کے لیے 19جولائی کو صبح پانچ بجے کی تھی، اس لیے وہ گاڑی میں رات کو جب ڈیڑھ بجے کے قریب گھر سے ایئرپورٹ کے لیے نکلے تو انتہائی خوش تھے مگر یہ خوشیاں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں۔‘

والد کے بغیر بچوں کی تیسری عید

صالحہ مری نے بتایا ہے کہ تاج محمد کا سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ ان کی تمام تر توجہ اپنے بچوں اور کاروبار کی طرف تھی۔

صالحہ مری نے بتایا ان کی اور ان کے بچوں کی والد کے بغیر یہ تیسری عید ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کے لیے برطانیہ لائے تھے لیکن والد کی گمشدگی کی وجہ سے اب وہ اتنے اداس ہیں کہ اب بہتر تعلیم تو کیا وہ پہلے جو تعلیم حاصل کر رہے تھے اس سے بھی رہ گئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ بچوں اور گھر کا سارا انحصار شوہر پر تھا لیکن ان کی گمشدگی کی وجہ سے ’ہم معاشی اور دیگر مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر کو ریاستی اداروں نے لاپتہ کیا ہے۔ تاہم ماضی میں پاکستان کے حکومتی و ریاستی اداروں نے جبری گمشدگیوں کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

صالحہ کا کہنا ہے کہ 'میرے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔ شوہر کی گمشدگی کے تین ماہ بعد کراچی میں ہمارے گھر پر ایک سکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے چھاپہ بھی مارا۔'

انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بچے تاج محمد کے لیے بہت زیادہ پریشان اس لیے بھی ہیں کہ وہ دل کے اور ذیابیطس کے مریض ہیں۔

صالحہ مری نے کہا کہ ان کے شوہر کسی بھی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں رہے ہیں تاہم اگر ان پر کوئی الزام ہے تو ملکی قوانین کے تحت ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

تاج محمد سرپرہ کی گمشدگی کو ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے پر کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ بھی کیا گیا۔

15 جولائی کو ہونے والے مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ مظاہرے کے شرکا نے تاج محمد سرپرہ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے کے شرکا نے حقوق انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں حقوق انسانی کی پامالی کو روکنے اور تاج محمد سمیت تمام لاپتہ بلوچ افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کریں۔