کوئٹہ دھماکہ: سیاسی قیادت کی دہشتگردی کے حملوں میں اضافے پر تشویش، وزیر اعظم کا بیرونی قوتوں کا ذکر

کوئٹہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے میں چار فرنٹئیر کور (ایف سی) کے کم از کم چار اہلکار ہلاک جبکہ 16 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ دھماکہ ایف سی کی ایک چوکی کے قریب ہوا۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

دھماکہ کہاں ہوا؟

یہ دھماکہ کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے ہزارگنجی میں سونا خان تھانے کے علاقے میں ہوا۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہاں جب ایف سی کے اہلکار کھڑے تھے تو ان کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں دواہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ باقی دو نے ہسپتال میں دم توڈ دیا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں عام افراد بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن چونکہ دھماکہ صبح ہوا جس کی وجہ سے دھماکے کے وقت عام لوگوں کی بہت بڑی تعداد وہاں موجود نہیں تھی۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات ہورہی ہیں لیکن ابتدائی شواہد اور تحقیقات کے مطابق یہ خود کش حملہ تھا، جس میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر انسانی اعضا بکھرے پڑے تھے جبکہ ایک موٹر سائیکل کے ٹکڑے بھی قرب و جوار میں نظر آرہے تھے۔ ان شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے میں سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ ان کے چار موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایف سی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ کے مستونگ روڈ پر ایف سی اہلکاروں کو بارودی جیکٹ اور بارود سے بھرے موٹرسائیکل کے ذریعے ہدف بنایا۔

سونا خان تھانہ کہاں واقعہ ہے؟

سونا خان تھانہ کوئٹہ کراچی ہائی وے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ کوئٹہ شہر کے مرکزی علاقے سے اندازاً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ علاقہ سریاب سے متصل ہے جبکہ کوئٹہ کی سبزی مارکیٹ کے علاوہ بس اور ٹرک اڈہ بھی اس کے قریب واقع ہیں ۔

اس علاقے میں پہلے بھی بم دھماکوں کے واقعات کے علاوہ سیکورٹی فورسز کے حملے ہوتے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر وقفے وقفے سے حملے ہوتے رہے ہیں۔

کوئٹہ بم دھماکے پر سیاسی ردعمل

ملک کی سیاسی قیادت نے کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی قوتوں کی ایما پر بننے والے دہشتگردی کے منصوبے کو خاک میں ملا کر ہمیں محفظوظ بنانے والے اپنے محافظین کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ: شرپسندی کے ایسے واقعات سے فورسز کا حوصلہ پست نہیں ہو گا

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کوئٹہ میں فورسز پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور انھوں نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ امن کے مکمل حصول تک جاری رہے گی۔ صوبائی وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شرپسندی کے ایسے واقعات سے فورسز کا مورال پست نہیں ہوگا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ امن وامان کی صورت حال کا خراب ہونا فکرمندی اور پریشانی کا باعث ہے۔ چار ہفتوں میں کوئٹہ میں دوسرا بڑا دھماکہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چار ہفتوں کے دوران یہ دوسرا بڑا دھماکہ تھا۔ اس سے قبل کوئٹہ شہر کے اندر سرینا ہوٹل کے قریب 8 اگست کو ایک دھماکہ ہوا تھا۔ اس دھماکے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ اہلکاروں سمیت 25 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان واقعات کے علاوہ بھی کوئٹہ میں اس دوران تین چھوٹے دھماکے ہوئے تھے۔ ان چار ہفتوں کے دوران بلوچستان میں یہ دوسرا خود کش حملہ تھا۔ اس سے قبل ایک خود کش حملہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ہوا تھا، جس میں سرکاری حکام کے مطابق چار بچے ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس دھماکے میں چینی انجنیئروں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں حکام کے مطابق ایک چینی شہری زخمی ہوا تھا۔ گوادر میں ہونے والے خود کش دھماکے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

بلوچستان میں بم دھماکوں اور اس نوعیت کے واقعات کا سلسلہ سنہ 2000سے شروع ہوا تھا جو کہ کمی و بیشی کے ساتھ اب بھی جاری ہیں۔

رواں برس 14 جون کو کوئٹہ میں شدت پسندوں کی طرف سے کیے گئے ایک حملے میں ایف سی کے چار اہلکار مارے گئے تھے جبکہ 11 جون کو بھی بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن (آئی بی او) کے دوران ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

مئی کے اوائل میں بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب میں 'سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے' کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے چار جوان ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ افعانستان کی جانب سے شدت پسندوں نے حملہ اُس وقت کیا جب ایف سی کے جوان پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے۔

پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ صوبوں میں حملوں میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟

دفاعی امور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے اگست کے مہینے کے بعد کوئٹہ میں ہونے والے اس خود کش حملے کو ایک بڑا واقعہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹرینڈ کافی عرصے سے چل رہا تھا اور متعدد حملے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ہورہے تھے۔ 'افغان طالبان کے دوبارہ افغانستان میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی کے بہت سارے بیانات آئے اور ان کے حملے بھی بڑھ گئے ہیں'۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ خیبرپختونخوا کے دوسرحدی اضلاع میں حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور بنوں کے علاقے سے بھی بد امنی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ عامر رانا کا کہنا تھا کہ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد ٹی ٹی پی کو حوصلہ ملا ہے۔

عامر رانا نے کہا کہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی اور اس کے حملوں کے بارے میں اپروچ واضع نہیں ہے سوائے اس کے کہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بلوچ عسکریت پسندوں کے حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پچھلے دو تین مہینوں میں متعدد کارروائیاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع یہ تھی کہ طالبان کے آنے کے بعد ایسی کاروائیاں پاکستان میں ختم ہوں گی لیکن ابھی تک ایسی صورتحال دکھائی نہیں دے رہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ طالبان کے آنے کے بعد ایسی کاروائیوں کے خاتمے کے بارے میں جو تجزیے تھے وہ بھی ابھی تک درست ثابت نہیں ہوئے۔

پاکستان کی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ 'بظاہر ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے جس طرح ایف سی کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے پیچھے تحریک طالبان پاکستان ہو سکتی ہے۔'

ان کے مطابق 'انڈیا کا بھی مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان کی سرحدیں مشکلات میں رہیں۔'

سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسود نے تجویز دی ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اپنے اہلکاروں کو مسلح کرنا ہو گا، سرحدوں کو محفوظ بنانا ہو گا اور سرحد کے اُس طرف (افغانستان) سے آنے والوں پر کڑی انٹیلیجنس اور نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔