افغانستان: جب احتجاج کرنے والی افغان خواتین کا طالبان کی بدری فورس نے راستہ روکا

  • محمد زبیر خان
  • صحافی
کابل

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد کابل کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والی خواتین نے پوری دنیا کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔ دنیا اس وقت سوچ رہی ہے کہ یہ خواتین کون ہیں جو افغانستان کی ایک منظم فوج کے سرنڈر کرنے کے باوجود انتہائی جرات اور بہادری سے احتجاج کر رہی ہیں۔

کابل کی سڑکوں پر احتجاج کو منظم کرنے والی خواتین میں رخسار حمیدی اور ان کی ساتھی خواتین ہیں۔ یہ سب خواتین کابل کے متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ رخسار حمیدی کے والد کابل میں ٹیکسی چلاتے ہیں جبکہ وہ خود لا کی طالبہ ہیں۔ وہ سماجی کارکن کے طور پر سوشل میڈیا پر بھی خاصی فعال رہتی ہیں۔

رخسار حمیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والی تمام خواتین میں طالب علم اور مختلف شعبوں میں ملازمتیں کرنی والی خواتین اور انسانی حقوق کی کارکنان شامل ہیں۔ جب سے کابل پر طالبان نے قبضہ کیا تھا اس وقت سے ہم لوگ یہ محسوس کر رہے تھے کہ ہمارے حقوق دبائے جا رہے ہیں۔ اگر ابھی بھی اس پر ہم لوگ نہ اٹھے تو مستقبل میں کبھی بھی اس پر بات نہیں کی جا سکے گی۔

ایک اور خاتون راحیلہ تلاش جو یونیورسٹی کے آخری سال کی طالبہ ہیں، کا کہنا تھا کہ میں نے بہت محنت کی تھی۔ دن رات پڑھا تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ مختلف ملازمتیں کر کے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کیے ہیں۔ مجھے لگا کہ اگر میں نے بات نہ کی تو نہ صرف یہ کہ میرا مستقبل تاریک ہو جائے گا بلکہ افغانستان کی تمام خواتین کا مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک ہو جائے گا۔

جس کے بعد ہم لوگوں نے منصوبہ بنایا اور احتجاج کے لیے نکل کھڑی ہوئیں۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

احتجاج کے موقع پر کیا ہوا؟

رخسار مہدی کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں نے اکھٹا ہونے کے لیے محمود خان پل کا انتخاب کیا تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم شاید پندرہ، بیس خواتین ہی ہوں گیں مگر وہاں پر تو کوئی پچاس، ساٹھ خواتین اکھٹی ہو گئی تھیں۔ ہم لوگوں نے آپس میں احتجاج کی صورت میں لاحق خطرات پر بات کی تو سب نے کہا کہ جو ہونا ہے ہو جائے۔ روزانہ مرنے سے ایک بار ہی مرنا بہتر ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

رخسار حمیدی کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم لوگ وزارت خارجہ کے دفتر اور پھر وزیر اعظم ہاؤس پہنچے۔ جہاں پر طالبان کی بدری فورس نے ہمارا راستہ روکا۔ انھوں نے ہم سے مذاکرات کیے اور ان مذاکرات میں کہا کہ ہم لوگ گھروں کو جائیں ہمارے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔

طالبان نے ہمیں ہمارے معاملات ٹھیک ہونے کی کوئی واضح تاریخ نہیں دی۔ یہ صورتحال ہماری لیے قابل قبول نہیں تھی۔ جس پر ہم لوگوں نے احتجاج جاری رکھا تو طالبان تشدد پر اتر آئے۔

راحیلہ تلاش کا کہنا ہے کہ طالبان نے اس موقع پر ہمیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کے علاوہ کسی قسم کی گیس کی بھی پھینکی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ ہم بھاگ جائیں گے۔ جب نہیں بھاگے تو وہ اپنے بندوقوں کے بٹ سے ہم پر حملہ آور ہوئے۔ ہم لوگوں کو گلی محلوں میں بھگایا گیا۔ ہمیں خوفزدہ کیا جاتا رہا۔ ہمیں آواز بھی بلند نہیں کرنے دی جا رہی تھی۔

رخسار مہدی کا کہنا تھا کہ اس موقع کم از کم پانچ خواتین شدید زخمی ہوئیں جبکہ باقیوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ اس کے باوجود ہم لوگ ڈٹے رہے۔ اس موقع پر مجھے پاؤں پر چوٹ لگی تھی۔ میرا بلڈ پریشر لو ہوگیا تھا اور میں گر پڑی تھی۔

مگر ہم لوگ تو زندگی اور موت کی جنگ کے لیے نکلے تھے۔ پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ اپنے لوگوں، اپنے افغانستان کے لیے جان قربان کرنا پڑی تو کردیں گے مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

گھر والوں سے چھپ کر احتجاج میں شرکت کی

رخسار مہدی کا کہنا تھا کہ مجھے خدشہ تھا کہ اگر میرے والد، بہن بھائیوں کو یہ پتہ چلا کہ میں احتجاج میں شرکت کرنے جا رہی ہوں تو مجھے اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس لیے میں ان کو بتائے بغیر احتجاج میں شرکت کے لیے چلی گئی تھی۔

احتجاج میں شریک ہونے والی اکثر خواتین اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر احتجاج میں شریک ہوئیں تھیں۔

رخسار مہدی کا کہنا تھا کہ دوران احتجاج میری تصاویر اور ویڈیو ٹیلی وژن پر چلیں اور میری بہنوں نے دیکھا تو انھوں نے مجھے فون کیے اور کہا کہ میں فوراً واپس گھر پہنچوں۔ یہ میں کیا کر رہی ہوں۔ جس پر میں نے ان کو بتایا کہ میں تو خود ان خواتین میں شامل ہوں جنھوں نے اس کو منظم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس پر وہ چپ ہو گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے والد خاموش ہیں۔ وہ کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں مگر وہ میری سلامتی کے لیے فکر مند اور پریشان ہیں۔ ان کو میں نے تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ کچھ نہیں ہو گا۔

راحیلہ تلاش کا کہنا تھا کہ مجھ سے گھر والوں نے احتجاج کرنے پر سوال جواب کیے تو میں نے ان سے کہا کہ دیکھو میری کئی سالوں کی محنت ہے۔ اب جب منزل میرے قریب پہنچ چکی ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اگر آواز بلند نہ کی تو میری دن رات کی محنت ضائع ہوجائے گئی تو میں کیسے چپ رہوں؟

مستقبل افغانستان ہی سے جڑا ہے

رخسار حمیدی کا کہنا تھا کہ جب امریکہ اور اتحادیوں کا انخلا ہو رہا تھا تو اس وقت مجھے بھی کہا گیا کہ چلو کوشش کرتے ہیں کہ تم کو بھی افغانستان سے باہر لے جاتے ہیں۔ جس پر میں نے جواب دیا دیا تھا کہ ہرگز نہیں یہ ملک، یہ لوگ میرے ہیں۔

میں اس ملک میں پیدا ہوئی ہوں، پلی بڑی ہوں۔ میرا خاندان، بہن بھائی، دوست، عزیز واقارب سب اس ملک میں ہیں۔ میں اس کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی ہوں۔ اس ملک سے ہی میرا مستقبل وابستہ ہے۔ کچھ بھی ہو جائے میں اپنے ملک ہی میں رہ کر جدوجہد کروں گی۔ مجھے موت اور کسی بھی مشکل کا کوئی خوف نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رخسار مہدی کا کہنا تھا کہ میرا مقصد صرف لا کی تعلیم حاصل کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اپنے ملک افغانستان میں مظلوموں کو انصاف فراہم کرنا اور ہر ایک تک انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ میں اپنے مقصد سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوں۔

رخسار حمیدی کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج جاری ہے۔ یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمیں ہمارا حق نہیں مل جاتا۔ ہمارا مطالبہ بڑا واضح ہے کہ خواتین کو تعلیم، ملازمت سمیت ترقی کے تمام مواقع دیے جائیں تا کہ وہ افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

راحیلہ تلاش کا کہنا تھا کہ میری کچھ کلاس فیلو افغانستان چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ مگر میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا۔ میرا خواب ماسٹر ڈگری کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اپنے لوگوں کی خدمت کرنا بھی ہے۔ جس کے لیے میں اب بھی پر اُمید ہوں۔

میں طالبان کو بتاؤں گی کہ انھیں اس ملک کو چلانے، لوگوں کو تعلیم، روزگار، صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہم جیسے تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت پڑے گی۔ اس لیے ہم پر تعلیم، ملازمت اور ترقی کے مواقع بند کرنے کی جگہ پر ہمیں یہ مواقع فراہم کیے جائیں۔